عمران دور میں کرونا فنڈ ز کے کھاتے سے اپنوں کو نوازنے کا انکشاف

عمران خان کے دورِ اقتدار میں کرونا کی وبا کے دوران بجلی کے بلوں میں دیے گئے ریلیف پیکج میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جنہوں نے ایک بار پھر پی ٹی آئی حکومت کی نااہلی، بد انتظامی اور نام نہاد شفافیت کا پردہ چاک کر دیا ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے کرونا فنڈنگ کو بھی اپنوں کو نوازنے کے لیے استعمال کیا، اور اس دوران پیش کیا گیا بجلی ریلیف پیکج عوامی مفاد کے بجائے سیاسی نوازشات کا ذریعہ بن گیا۔
اس حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے 11 ارب 17 کروڑ 20 لاکھ 60 ہزار روپے کا ریلیف ایسے کمرشل صارفین کو فراہم کیا جو اِس کے اہل ہی نہیں تھے۔ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے یہ ریلیف نادہندگان، منقطع کنکشنز، سرکاری و گھریلو صارفین، ایک ہی شناختی کارڈ پر متعدد کنکشنز رکھنے والوں، مقررہ تاریخ کے بعد لگائے گئے کنکشنز اور تھری فیز میٹر والے کمرشل صارفین کو بھی دے دیا گیا، جبکہ دوسری جانب ہزاروں مستحق کاروباری صارفین مکمل فائدہ حاصل کرنے میں یکسر ناکام رہے جبکہ حکومتی نااہلی ناقص ڈیٹا، کمزور نگرانی، سوفٹ ویئر پر اندھا انحصار اور انتظامی غفلت کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق تحریک انصاف کے دورِ حکومت اور عمران خان کے وزیراعظم ہونے کے زمانے میں متعارف کروائے گئے کرونا معاشی پیکج کے تحت بجلی کے بلوں میں دیے گئے ریلیف کے نام پر پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے مجموعی طور پر 11 ارب 17 کروڑ 20 لاکھ 60 ہزار روپے کی ایسی رعایتیں فراہم کیں جو قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں تھیں۔ حالانکہ اس پیکج کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہارا دینا تھا، تاہم سرکاری ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پیکج کا بڑا حصہ ایسے صارفین کو منتقل ہو گیا جو اس کے مستحق ہی نہیں تھے۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق سب سے سنگین بے ضابطگیاں ان صارفین کو ریلیف دینے کی صورت میں سامنے آئیں جو بنیادی طور پر اس سہولت کے اہل ہی نہیں تھے۔
مختلف ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے ایک ہی احاطے میں موجود متعدد غیر قانونی کنکشنز، ایک ہی شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ متعدد بجلی کنکشنز اور یکم مارچ 2020 کے بعد لگائے گئے کنکشنز کو بھی کرونا ریلیف فراہم کر دیا۔صرف ایک شناختی کارڈ پر متعدد کنکشنز رکھنے والے 97 ہزار 868 صارفین کو 1 ارب 6 کروڑ 93 لاکھ روپے سے زائد کا ریلیف دے دیا گیا۔
سب سے زیادہ کیسز ملتان الیکٹرک پاور کمپنی میں سامنے آئے، جہاں 54 ہزار سے زائد صارفین کو 5 ارب 42 کروڑ 47 لاکھ روپے کی رعایت دی گئی۔ اسی طرح لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 15 ہزار سے زائد صارفین کو 2 ارب 65 کروڑ 14 لاکھ روپے جبکہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 17 ہزار سے زائد صارفین کو 86 کروڑ 79 لاکھ روپے کی سہولت فراہم کی۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ بجلی نادہندگان اور پہلے سے منقطع کنکشنز والے صارفین کو بھی بڑے پیمانے پر ریلیف دیا گیا، حالانکہ واضح ہدایات کے مطابق ایسے صارفین کسی بھی قسم کی رعایت کے اہل نہیں تھے۔
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 34 ہزار سے زائد نادہندگان کو 2 ارب 84 کروڑ 73 لاکھ روپے، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 37 ہزار سے زائد صارفین کو 2 ارب 56 کروڑ 99 لاکھ روپے جبکہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 19 ہزار سے زائد نادہندگان کو 3 ارب 12 کروڑ 37 لاکھ روپے کا ریلیف فراہم کیا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق بے ضابطگیوں کا دائرہ یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ سرکاری اداروں، گھریلو صارفین اور زرعی یا جنرل سروس کنکشنز کو بھی کرونا ریلیف کے دائرے میں شامل کر لیا گیا، حالانکہ یہ کیٹیگریز واضح طور پر اس پیکج کا حصہ نہیں تھیں۔سرکاری کنکشنز کو 59 کروڑ 57 لاکھ روپے، گھریلو صارفین کو 10 کروڑ 68 لاکھ روپے جبکہ ٹیوب ویل و جنرل سروس صارفین کو 9 کروڑ 37 لاکھ روپے کی رعایت دی گئی
اسٹیبلشمنٹ مخالف سہیل آفریدی کو سندھ حکومت کا بھرپور پروٹوکول کیوں؟
حکام کے مطابق متعلقہ وزارت اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے ان بے ضابطگیوں پر وضاحتیں طلب کی جا چکی ہیں اور باضابطہ تحقیقات کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے، جس میں حقیقی ذمہ داروں کا تعین اور غلط ادائیگیوں کی وصولی کے طریقہ کار کو واضح کیا جا رہا ہے۔ بعض کمپنیوں نے اس کی ذمہ داری سوفٹ ویئر اور خودکار نظام پر ڈالنے کی کوشش کی، تاہم اس موقف کو تسلیم نہیں کیا جا رہا اور زور دیا جا رہا ہے کہ چاہے نظام خودکار ہی کیوں نہ ہو، اس کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ غیر قانونی طور پر دی گئی تمام رقوم کی فوری وصولی کی جائے، بلنگ اور ڈیٹا ویریفیکیشن سسٹمز کو ازسرنو ترتیب دیا جائے، شناختی کارڈ اور کنکشن کی بنیاد پر سخت جانچ پڑتال متعارف کرائی جائے، اور ملوث افسران کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی کی جائے۔
