آرمی چیف سےملاقات کےدوران گورنر،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا میں تلخ کلامی کاانکشاف

آرمی چیف سےخیبر پختونخوا کےسیاسی رہنماؤں کی ملاقات کےدوران گورنر اور وزیراعلیٰ میں تلخ کلامی ہوگئی۔علی امین گنڈاپور اٹھ کرباہرچلےگئے۔

پشاور میں دو روزقبل آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سیاسی جماعتوں کے قائدین سےملاقات ہوئی جس کی اندرونی کہانی سامنےآگئی ہے،ملاقات میں گورنر کےپی فیصل کریم کنڈی اوروزیراعلیٰ کےپی علی امین گنڈاپور کےدرمیان تلخ کلامی ہوئی اور تنی بڑھی کہ گنڈاپور اٹھ کر باہرچلےگئے۔

گورنر کی جانب سےدہشتگردی کیخلاف جنگ کے نام پرصوبے کو ملنےوالے500 ارب روپے کےمعاملےپرتنازعہ پیدا ہوا،گورنر کی جانب سے مذکورہ رقم کے تذکرہ پر وزیراعلیٰ نےانھیں ٹوک دیا جس پر گورنرنےاپنی بات مکمل کرنے کی درخواست کی مگر اس کےباوجود وزیراعلیٰ انہیں کہتےرہے کہ غلط بیانی سےکام نہ لیں بعدازاں وہ اجلاس چھوڑ کر باہر چلےگئےاورگورنر کی بات مکمل ہونےپرواپس آئے۔

آرمی چیف اوردیگر سیاسی قائدین نےمعاملہ سنبھالا مگر اے این پی کے سربراہ ایمل ولی خان کی جانب سے صوبائی حکومت پرتنقید کرنےپرمعاملہ پھر بگڑ گیا۔ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کو کارروائیوں کی ذمہ داری لینی چاہیے ہم ان کے ساتھ ہیں، صوبائی حکومت میں طالبان بیٹھے ہیں، ان کا کیا ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت میں موجود طالبان کا نام لینے کا مطالبہ کیا پہلے تو ایمل ولی خاموش رہے تاہم وزیراعلی کے اصرار پر انہوں ںے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کا نام لیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ماضی میں افغان جہاد کا حصہ تھے اور اس بات کو وہ کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں اس میں کوئی قباحت نہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں آرمی چیف نے سیاسی قیادت کو خطے کی صورت حال پر اعتماد میں لیا۔بیرسٹر گوہر نے سیکیورٹی معاملات پارلیمان میں زیر بحث لانے کا مطالبہ کیا۔

Back to top button