اسلام آباد میں 27 ویں آئینی ترمیم کی گونج: کیا ہونے جا رہا ہے؟

سپریم کورٹ کے آینی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں اتحادی حکومت کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت مل جانے کے بعد شہر اقتدار اسلام آباد میں 27ویں آئینی ترمیم کی بازگشت شروع ہے۔ یہ چہ میگوئیاں بھی ہونے لگی ہیں کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کو ہٹا کر نیا صدر لانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، اور شاید حکومت کو دو تہائی اکثریت دلوائی ہی اس لئے گئی ہے کہ ستائیسویں ترمیم لائی جائے جس میں صدر کے اختیارات مزید بڑھا دیے جائیں گے۔ سازشی نظریے کے مطابق اس کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر کا عہدہ سنبھال لیں گے اور 27 ویں ترمیم کے تحت حاصل کردہ اختیارات استعمال کریں گے۔ یاد رہے کہ آصف زرداری نے اپنے پہلے دور صدارت میں وہ تمام اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کر دیے تھے جو جنرل مشرف نے آئین میں ترمیم کر کے صدر کو سونپے تھے اور خود کو با اختیار بنا لیا تھا۔
کچھ حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو تہائی اکثریت حاصل ہونے کے بعد وفاقی حکومت پارلیمان کی مدت دس سال کیلئے بڑھا سکتی ہے، لیک ترین سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہونے جارہا ہے؟ اس بارے حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ افواہیں بے بنیاد ہیں اور تحریک انصاف کے سازشی عناصر کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں جن کا مقصد موجودہ ہائیبرڈ نظام حکومت میں دراڑیں پیدا کرنا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ افواہیں کامن سینس اور لاجک کے بھی خلاف ہیں، ان کے مطابق یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پیپلزپارٹی ایسی کسی سازش میں حکومت کے ساتھ کھڑی ہو جو ان کی پارٹی کے صدر کے خلاف ہو رہی ہے۔ ویسے بھی حکومت کی دو تہائی اکثریت پیپلز پارٹی کو ملا کر بنتی ہے۔
خیال رہے کہ 1973 ء کے آئین میں اب تک 26 ترامیم ہو چکی ہیں، اٹھارہویں اور چھبیسویں ترامیم ایسی آئینی ترامیم ہیں جن میں آئین کے سٹرکچر کو بڑے پیمانے پر تبدیل کیا گیا تھا، 2010ء میں اٹھارہویں ترمیم کرتے ہوئے وفاق کے بڑے اختیارات صوبوں کے حوالے کر دیئے گئے تھے، موجودہ معاشی اور گورننس کے مسائل کا ذمہ دار اسی ترمیم کو سمجھا جاتا ہے مگر ( ن) لیگ اور خاص طور پر پیپلز پارٹی اس کا دفاع کرتی نظر آتی ہیں۔ 2024ء کے آخر میں چھبیسویں آئینی ترمیم سے اعلیٰ عدلیہ کے سٹرکچر می تبدیلیاں کر کے عدالتی فعالیت یعنی جوڈیشل ایکٹوزم کا دروازہ بند کر دیا گیا، پہلی مرتبہ آئینی بنچز کی تشکیل عمل میں آئی اور سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے اختیارات ختم کر دیئے گئے، ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلوں کا میکانزم بنا دیا گیا جس کے بعد عدلیہ کی دیگر ریاستی ستونوں کے ساتھ جاری کشمکش تقریباً ختم ہو کر رہ گئی، جو کام حکومتیں اور فوج ماضی میں زور زبردستی نہ کر پائے، وہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے ہوگیا اور ہیجانی کیفیت کا کافی حد تک خاتمہ ہوا۔
جب حکومت نے دو تہائی اکثریت نہ ہونے کے باوجود جے یو آئی ایف کی حمایت سے اپنے نمبرز پورے کر لئے اور چھبیسویں ترمیم کی خبریں زیر گردش آئیں تو تب حکومت کی جانب سے ایسی خبروں کی تردید کی گئی اور انہیں قیاس آرائیاں قرار دیا گیا، لیکن مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت نے یہ طے کر لیا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد نہ صرف نئے چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کا طریقہ کار تبدیل کرنا ہے بلکہ اعلیٰ عدالتوں کے اختیارات کو لگام ڈالنے کیلئے بھی ترمیم کرنی ہے۔
حکومتی وضاحتوں اور تردیدوں کے باوجود اس بارے پس پردہ کوششیں جاری رہیں، پہلی کوشش میں نمبر پورے نہ ہونے پر چند ہفتوں بعد دوسری کوشش اکتوبر 2024ء میں کی گئی جو کامیاب ہو گئی، جس کے بعد عدالتی نظام کا منظر نامہ ہی تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ چھبیسویں ترمیم کے منظور ہونے کے چند ہفتوں بعد ہی یہ خبریں آنے لگیں کہ ستائیسویں ترمیم کے ذریعے کچھ مزید اصلاحات لانے کا سوچا جا رہا ہے مگر ایسا نہ ہوا، اب حکومت کو جب دو تہائی اکثریت مل گئی ہے تو نہ صرف ایک مرتبہ پھر ستائیسویں ترمیم کی باتیں ہونے لگی ہیں بلکہ اب ملکی سیاسی منظر نامہ گزشتہ سال کی نسبت کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے، اب ستائیسویں ترمیم کے ذریعے عدالتی اصلاحات میں آئینی عدالت کے ججوں کی عمر بڑھانے اور آئینی عدالت کی مدت میں توسیع کے معاملات پر غور ہو رہا ہے، وہیں اقتدار کے ایوانوں کے محرکات کی تبدیلی کو بھی ستائیسویں ترمیم سے جوڑا جا رہا ہے۔
عمران کے بیٹوں کے پاکستان آنے پر لیگی رہنما متضاد بیانیے کا شکار
صدر آصف علی زرداری 8 فروری 2024ء کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کے پاور شیئرنگ فارمولے کے تحت صدر بنے اور پیپلز پارٹی نے وفاقی کابینہ کا حصہ بننے کی بجائے آئینی عہدے لینے کا فیصلہ کیا، پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا حصہ اس لئے نہیں بنی کیونکہ وہ اُس وقت معاشی اور سیاسی مشکلات میں گھرے ہوئے ملک کی حکومت کا حصہ بن کر اپنی سیاست کو داؤ پر نہیں لگانا چاہتی تھی۔ پہلے اڑھائی سال (ن) لیگ اور آخری اڑھائی سال پیپلز پارٹی کی حکومت کا فارمولہ بھی سامنے آیا مگر پیپلزپارٹی نے مشکل صورتحال کا بوجھ اٹھانے کی بجائے آئینی عہدے لئے اور اپنی نظریں آنے والے انتخابات پر رکھنا شروع کر دیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ پیپلز پارٹی کو احساس ہوا کہ یہ نظام تو چلتا دکھائی دے رہا ہے، اپریل 2024ء میں پیپلزپارٹی میں کابینہ کا حصہ بننے کی خواہش جاگی، یہی وجہ ہے کہ اسحاق ڈار کو نائب وزیر اعظم کا عہدہ دیا گیا تاکہ پیپلز پارٹی اگر وزارتیں لیتی ہے تو وزیر خارجہ بلاول بھٹو بنیں، مگر اس پلان کے راستے میں رکاوٹیں آگئیں۔
مستقبل میں اس بات کے امکانات ہیں کہ پیپلزپارٹی وفاقی کابینہ کا حصہ بن سکتی ہے مگر ابھی تک اس کا ماڈل طے پانا باقی ہے، البتہ اب ایسا نہیں ہوگا کہ نصف مدت (ن) لیگ پوری کرے اور باقی کی نصف مدت پاکستان پیپلزپارٹی۔ ابھی تک کے طے شدہ معاملات واضح ہیں کہ شہباز شریف کی سربراہی میں ہی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی، سول ملٹری تعلقات جتنے اس دور میں مستحکم ہیں اس کی نظیر نہیں ملتی، اس کا کریڈٹ صرف شہباز شریف کو جاتا ہے۔ ایسے میں شہباز حکومت کی بجائے کسی اور ماڈل پر جانا فوج کیلئے ایک بڑا رسک ہے۔ جہاں تک آصف زرداری کو ہٹائے جانے کی بات ہے تو ایسا ممکن نظر نہیں آتا، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومت پیپلزپارٹی کے بغیر آئینی ترمیم کسی صورت نہیں کر سکتی، ویسے بھی سوال یہ ہے کیا پیپلز پارٹی ایسی ترمیم کو سپورٹ کرے گی جس میں اسے صدارت سے ہاتھ دھونے پڑیں؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نہ صرف دو تہائی اکثریت پوری رکھنے کیلئے بلکہ سادہ اکثریت رکھنے کیلئے بھی حکومت کو پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے، جس کے پاس قومی اسمبلی میں 74 نشستیں ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جو حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ فوجی قیادت نظر ایوانِ صدر پر ہے تو موجودہ صورتحال میں یہ بھی درست نہیں، اگر ایوان صدر کی باگ ڈور سیاسی لوگوں کی بجائے کسی اور کے سنبھالنے کی قیاس آرائی مان بھی لی جائے تو موجودہ سٹرکچر کے ہوتے ہوئے صدر کا عہدہ محض رسمی اور طاقت کے بغیر ہے اور اسے طاقتور بنانے کیلئے سیاسی جماعتوں کو وہی غلطیاں دہرانا ہوں گی جو انہوں نے 90 ء کی دہائی میں کی تھیں اور اس کا خمیازہ بھگتا تھا۔
