معاشی بحران: چین اور امریکہ پاکستان سےچاہتے کیا ہیں؟

معاشی زبوں حالی کی وجہ سے ایک طرف پاکستان آئی ایم ایف کی جانب سے قرض بحالی کا منتظر ہے وہیں دوسری طرف دو سپر پاورز امریکہ اور چین پاکستان کی معاشی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ ایک طرف مشکل معاشی صورتحال کے دوران چائنہ پاکستان کی قرض کی صورت میں بھرپور مالی اعانت کر رہا ہے وہیں دوسری طرف امریکہ کی جانب سے پاکستان کیلئے مدد تو کجا وہ پاکستان پر چین کی مہربانیوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہوئے مختلف قسم کے تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف پاکستان کو اپنے ٹیکس نیٹ میں وسعت اور اصلاحات سے متعلق شرائط پوری ہونے کے بعد 2019 میں طے پانے والے 6 ارب ڈالر کے بیل آوٹ پیکج کی ایک ارب ڈالر سے زائد کی قسط جاری کرے گا۔ لیکن قرضوں کی واپسی کے لیے پاکستان کے لیے اپنے دوست ممالک کی معاونت حاصل کرنا بھی ضروری ہوگا۔

دوسری جانب حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان ڈیرک شولے پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک پر چین کے قرضوں سےمتعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔اقتصادی امور کے تجزیہ کار فرخ سلیم کہتے ہیں کہ اس وقت جہاں پاکستان کھڑا ہے اس کا ذمے دار نہ چین ہے اور نہ ہی امریکہ۔لیکن پاکستان کی کمزور معیشت کی وجہ سے یہ ممالک فائدہ اٹھاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی معیشت جہاں کھڑی ہے اس کی پوری ذمے داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔

اگرچہ ماضی میں عالمی اداروں سمیت پاکستان کے سعودی عرب جیسے دوست ممالک مشکل وقت میں پاکستان کی مالی معاونت کرتے رہے ہیں اور اب بھی پاکستان کو توقع ہے کہ آئی ایم ایف سے معاملات طے ہونے کے بعد سعودی عرب اور چین جیسے ممالک پاکستان کی مدد کریں گے۔

فرخ سلیم کہتے ہیں کہ پاکستانی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا چین یا امریکہ کا کام نہیں۔ یہ پاکستان کا اپنا کام ہے اور کسی دوسرے ملک سے اس کی توقع کرنا درست نہیں ہے۔فرخ سلیم کہتے ہیں کہ جہاں امریکہ اپنے اثروسوخ کی وجہ سے عالمی مالیاتی اداروں کے فیصلوں پر اپنے مفادات کے لیے اثر اانداز ہوتا ہے۔ وہیں گزشتہ 25 برسوں میں چین بھی بعض حلقوں کے بقول ‘ چیک بک ڈپلومیسی” کررہا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین اور امریکہ کے پاکستان کے حوالے سے سامنے آنے والےبیانات کی وجوہ سیاسی ہوسکتی ہیں لیکن امریکہ اور چین اپنے مفادات کے لیے پاکستان پر اثرو سوخ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔البتہ پاکستان کو آئی ایم ایف اور دیگر مغربی مالیاتی اداروں سے فنڈز حاصل کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ اچھے روابط رکھنا ضروری ہے۔ جب کہ سی پیک کے منصوبے اور چین کے ساتھ اسٹرٹیجک روابط بھی پاکستان کے مفاد کے لیے ضروری ہے۔

فرخ سلیم کہتے ہیں کہ اگر پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے نہیں پاتے تو ایک مشکل صورتِ حال کا سامنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کو مارچ اور جون کے عرصے میں لگ بھگ 7 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ اس میں لگ بھگ پانچ ارب ڈالر چین کا ادا کرنے ہیں اور اگر چین یہ قرض رول اور نہیں کرتا تو ان کے بقول اس کی وجہ سے پاکستان کو سنگین حالات درپیش ہوں گے۔

حال ہی میں پاکستان کو چائنا ترقیاتی بینک کی طرف سے 70 کروڑ ڈالر کا قرض ملا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر کو کسی قدر سہارا ملا ہے۔ دوسری طرف وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ چین کے انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آئی سی بی سی نے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی سہولت کے رول اوور کی منظوری دے دی ہے جبکہ 50 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط موصول ہو چکی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے بتایا کہ چین کے بینک آئی سی بی سی نے معمول کی کارروائی مکمل کر لی ہے اور ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی سہولت کے روول اوور کی منظوری دے دی جو پاکستان نے کچھ عرصہ قبل چینی بینک کو واپس ادا کی تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ رقم 3 اقساط میں ملے گی، جس کی 50 کروڑ ڈالر کی پہلی قسط اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو موصول ہو چکی ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا جبکہ باقی ماندہ رقم بھی جلد پاکستان کو مل جائے گی۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ا س امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ بیجنگ دیگر فریقوں کی نسبت اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد پر تیار ہو سکتا ہے کیوں کہ ایسی صورتِ حال میں جب خطے کی جیو اسٹریٹجک صورت حال تغیر پذیر ہے ایک مستحکم پاکستان چین کے لیے ضروری ہے۔

کون سا پچھتاوا مرتے دم تک امان اللہ کے ساتھ رہا؟

Back to top button