اپنی محسن فوج کی ٹرولنگ کروانے والا احسان فراموش کپتان

معروف اینکر پرسن سلیم صافی نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاست میں وزیر اعظم عمران خان سے زیادہ احسان فراموش تلاش کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احسان فراموشی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ عمران خان کی پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی ٹرولنگ کر رہی ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران خان نے اکتوبر 2021 میں نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کو جس طرح متنازعہ بنا دیا تھا اسکے باوجود جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل ندیم انجم جواب دینے کا حق رکھتے تھے لیکن انہوں نے انتقام لینے کی بجائے فوج کو نیوٹرل کر کے اسکے آئینی رول تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا،

جو کہ اُن کا آئینی فرض بھی ہے۔چنانچہ عمران خان کو اس بات پر غصہ ہے کہ فوجی قیادت آئین پر عمل کیوں کر رہی ہے اور ماضی کی طرح میرے الزامات اپنے سر کیوں نہیں لیتی؟
سلیم صافی کہتے ہیں کہ پوری اپوزیشن نیوٹرل ہونے پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو شاباش دے رہی ہے لیکن عمران کبھی انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی منت ترلہ کرتے ہیں اور کبھی دھمکیاں دینا شروع کر دیتے ہیں کہ میں پہلے سے زیادہ خطرناک ہو جائوں گا۔ عمران خان کا تقاضا ہے کہ فوج اپنی نیوٹریلٹی چھوڑ کر میرے لیے غیرجانبدار ہو جائے۔

لیکن فوجی قیادت کی جانب سے معذرت کر کے کہا جا رہا ہے کہ آئین اور فوج کے وقار کا تقاضا ہے کہ وہ نیوٹرل رہیں۔چنانچہ اب عمران خان فوج کے ساتھ بھی میڈیا جیسا سلوک کرنا چاہتے ہیں جو کہ سوشل میڈیا پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی ٹرولنگ سے ظاہر ہو چکا ہے۔

بقول صافی، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اس عمل کی مذمت کررہے ہیں لیکن کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ایک دن عمران خان سوشل میڈیا کی طاقت کی دھمکی دیتے ہیں اور اگلے روز سوشل میڈیا پر فوجی قیادت کے خلاف گھٹیا ترین مہم شروع ہو جاتی ہے۔ آخر احسان فراموشی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران کی جانب سے یہ کہنا کہ محض جھوٹی باتیں تھیں کہ مجھے حکومت کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں آرام سے باہر جا کر مزے کی زندگی گزار سکتا ہوں۔ اُن کے اعمال اور رویے سے واضح ہو گیا کہ اقتدار اُنہیں ہر شے سے زیادہ عزیز ہے۔ اصول پرستی تو کیا ان کی انا پرستی بھی جعلی نکلی۔

جو کل تک مونس الٰہی کو وزیر بنانے پر تیار نہ تھے، انتہائی علیل شجاعت حسین کی عیادت کیلئے تیار نہ تھے، اقتدار بچانے کے لیے اُن کے گھر جا پہنچے۔ اسکے بعد ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد ایسے باادب حاضر ہوئے جیسے کسی دربار پر حاضری دے رہے ہوں۔ اسکے علاوہ انہوں نے آصف زرداری دور کے سابقہ شہباز گِل، یعنی ذوالفقار مرزا کے فلیٹ پر بھی حاضری دی جو اب گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا حصہ ہیں۔

سلیم صافی یاد دلاتے ہیں کہ یہ وہی عمران خان ہے جنہوں نے کوئٹہ میں سڑکوں پر پڑی میتوں کے بارے میں سنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ تک کہہ ڈالا تھا کہ میں بلیک میل نہیں ہوں گا، لیکن آج کرسی کے لالچ میں اپنے اتحادیوں اور ایم این ایز سب سے بلیک میل ہو گئے۔ اج عمران اپنے ایم این ایز کو بھی بلیک میل کررہے ہیں، میڈیا کو بھی، عدلیہ کو بھی اور فوج کو بھی۔ وہ اقتدار کے تحفظ کے لیے آئین شکنی پر مائل ہو چکے ہیں اور خوفزدہ اسپیکر سے کھلی آئین شکنی کروا رہے ہیں۔

خود غرضی کی انتہا یہ ہے کہ اب موصوف اپنے اقتدار کی بقا کی خاطر ملک کی سلامتی اور عزت سے کھیلنے لگے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ عملاً ان کی حکومت نے نہ تو مغرب کا کچھ بگاڑا ہے اور نہ ہی بگاڑ سکتی ہے لیکن صرف سستی شہرت اور عوامی جذبات سے کھیلنے کے لیے جھعٹے بیانات دے کر بیرونی دنیا کو پاکستان سے مزید متنفرکرر ہے ہیں۔
صافی کے بقول چین کو ناراض اور سی پیک منصوبہ تباہ کرکے جتنی خدمت خان نے امریکہ کی کر دی یے، اتنی تو انڈیا بھی نہیں کر سکتا تھا، لیکن ایبسلوٹلی ناٹ کی بلاوجہ تکرار کرکے امریکہ کو طیش دلا رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ نہ تو امریکہ نے ہم سے اڈے مانگے تھے، اور نہ ہی اس دوران کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار نے عمران سے بات کی۔ نہ ہی امریکی صدر نے ٹیلی فون کال کرکے خان کی گفتگو کرنے کی خواہش پوری کی لہذا سوال یہ ہے کہ انہوں نے کس کے سامنے ایبسلوٹلی ناٹ کہا تھا، اب خان صاحب کے یہ حالات ہیں کہ انڈیا کی خارجہ پالیسی کی تعریفیں کرنے لگے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اگر انڈین پالیسی کامیاب رہی تو پھر پاکستان کی ناکام رہی۔

لگتا ہے کہ ان پر یہ سوچ غالب آ گئی ہے کہ اگر وہ اقتدار میں نہ رہے تو پھر خدانخواستہ پاکستان بھی نہ رہے گا۔ اس لیے اب ہم جیسوں کا بھی پیمانہ صبر لبریز ہو گیا ہے اور شف شف کی بجائے اب شفتالو کہنے پر مجبور ہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں اور اب وہ اس ملک کے درپے دکھائی دے رہےہیں۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ اگر میں سچ بتاؤں تو عمران پر طاقت وروں نے جتنے بڑے احسانات کیے، وہ کسی اور لیڈر کو نصیب نہیں ہوئے۔ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کو ایک ساتھ بٹھانا ناممکنات میں سے تھا لیکن اُن دونوں کو کسی نہ کسی طرح شامل کرایا گیا۔ اسد عمر سے لے کر شیریں مزاری تک اور پرویز خٹک سے لے کر اعظم سواتی تک، کوئی ایک بھی عمران یا ان کی پارٹی کے دستور سے متاثر ہوکر پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوا بلکہ انہیں شامل کرایا گیا۔

ان کو ہیرو بنانے کے لیے میڈیا اور اینکرز کو استعمال کیا گیا۔ اُن کے لیے نہ صرف دھرنوں کا تمام تر انتظام کروایا گیا بلکہ طاہر القادری کو ان کے ساتھ بٹھایا گیا۔ ان کی خاطر نواز شریف کی بھی دشمنی لی اور آصف زرداری کو بھی ناراض کیا گیا۔ عرصہ دراز سے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی اتحادی دینی جماعتوں کو بھی عمران کی خاطر قربان اور ناراض کیا گیا۔

ان کے لیے عدلیہ کو بھی استعمال کرایا گیا اور جہانگیر ترین جیسوں کی قربانی بھی دی گئی۔ آر ٹی ایس بھی فیل کروایا گیا اور پھر ان کی حکومت چلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی لیکن جواب میں عمران نے محسن کشی کی نئی تاریخ رقم کی۔ عمران بطور حکمران بہتر کارکردگی دکھاتے تو ان کا سر اونچا ہو جاتا لیکن بدترین حکمرانی کی وجہ سے انہوں نے ملک کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ ہم جیسے لوگ بھی انہیں طعنے دینے لگے۔

بقول صافی، عمران خان نے معیشت کو ایسا تباہ کیا کہ قومی سلامتی کے اداروں کے لیے اپنا معمول کا کام چلانا مشکل ہو گیا حالانکہ ان کی خاطر اعلیٰ عہدیداران وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ کی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے باہر سے پیسہ لاتے رہے لیکن جواب میں انہوں نے آرمی چیف کی ایکسٹینشن کو جان بوجھ کر متنازعہ بنا دیا۔ تاہم جب اس معاملے پر قانون سازی کے لیے زخم خوردہ اپوزیشن کی ضرورت پڑی تو نواز شریف، مولانا فضل الرحمٰن اور آصف زرداری نے بھرپور تعاون کیا حالانکہ فوجی قیادت نے ان پر کوئی احسان نہیں کیا تھا۔

Ehsan Forgotten Captain Trolling His Mohsin Army

Back to top button