الیکشن کمیشن نے پنجاب اور KPالیکشن کی تاریخ دیدی

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔۔۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد الیکشن کمیشن نے پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کے لیے 30 اپریل سے 7 مئی تک کی تاریخیں تجویز کر دی ہیں۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں صدرِ مملکت اور گورنر کے پی کو خط ارسال کر دیا ہے۔تازہ اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن کی تجویز سامنے آنے کے بعد صدر ڈاکٹر عارف علوی نے 30اپریل کو پنجاب اسمبلی کے انتخابات کروانے کی منظوری دے دی ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق صدرِ مملکت کے تاریخ کے انتخاب کے بعد اپنے آئینی اور قانونی فرائض انجام دینے کو تیار ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس سے پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اجلاس 2مارچ کو ہوا تھا جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد معاملے پر غور کیا گیا تاہم کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا تھا۔ تاہم کمیشن کی رائے بہت واضح تھی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا ہوگا جس کے بعد 3مارچ کے اجلاس میں الیکشن کمیشن نے صدر اور گورنر کے پی کو الیکشن کے انعقاد بارے تاریخیں تجویز کر دی ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے تاریخوں کے اعلان کے بعد جب الیکشن کمیشن ذرائع سے کہ پوچھا گیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر جن اداروں نے کمیشن کی معاونت پر ہچکچاہٹ دکھائی تھی کیا وہ اب معاونت کیلئے تیار ہیں، تو ذرائع کا کہنا تھا کہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے کا مرحلہ صدر اور گورنر کے پی کی جانب سے دونوں صوبوں میں الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے بعد آئے گا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے یکم مارچ کو حکم دیا تھا کہ صدر عارف علوی پنجاب اسمبلی کیلئے جبکہ گورنر کے پی اپنے صوبے میں الیکشن کیلئے تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کے ساتھ مشاورت کے بعد کریں۔ سپریم کورٹ کے آرڈر اور پنجاب اور کے پی اسمبلی کے الیکشن کی ممکنہ تاریخ کے اعلان کے بعد بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ متعلقہ وفاقی اور صوبائی ادارےصوبوں میں آزاد اور شفاف الیکشن کے انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کریں گے یا نہیں۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے نہ صرف صوبائی حکومتوں نے الیکشن کمیشن کو انتخابات میں تاخیر کرنے کیلئے اپنی اپنی وجوہات بتائیں تھیں بلکہ وزارت خزانہ نے بھی یہ رائے پیش کی تھی کہ مالی وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے انتخابات میں تاخیر کی جائے۔ وزارت داخلہ اور دفاع نے بھی کمیشن کو بتایا تھا کہ فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الیکشن ڈیوٹی کیلئے فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ، لاہور ہائی کورٹ نے کمیشن کو بتایا تھا کہ الیکشن ڈیوٹی کیلئے جوڈیشل افسران فراہم نہیں کیے جا سکتے۔ جس کے بعد امکانات یہی ظاہر کئے جا رہے تھے کہ دونوں صوبوں میں بروقت انتخابات منعقد نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی چودہ جنوری اور خیبرپختونخوا اسمبلی اٹھارہ جنوری کو تحلیل کی گئی تھی چونکہ دونوں اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرنے سے قبل توڑی گئیں لہٰذا یہاں آئین کے مطابق نوے روز میں الیکشن کرائے جانے ہیں۔ اس لحاظ سے پنجاب اسمبلی کو تحلیل ہوئے سینتالیس دن ہوچکے ہیں اور محض تینتالیس روز باقی ہیں۔ جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی کو توڑے تینتالیس دن گزر چکے ہیں اور سینتالیس روز بعد الیکشن کا دن بنتا ہے۔ الیکشن کمیشن کو اگر نوے روز میں الیکشن کرانے ہوں تو اسے تیاریوں کے لیے کم از کم چون سے اٹھاون دن درکار ہوتے ہیں۔موجودہ صورتحال میں دونوں صوبوں میں اسے بالترتیب محض تینتالیس اور سینتالیس دن دستیاب ہیں اور ابھی تیاریوں کا آغاز نہیں ہوا۔ اگرچہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن پاکستان نے تاریخیں تو تجویز کر دی ہیں۔ تاہم الیکشن کی باقاعدہ تیاریوں کے سلسلے کا آغاز ہونے میں مزید دو تین روز لگ سکتے ہیں۔ یوں اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو درکار وقت مزید کم ہو جائے گا۔

فواد چودھری عدلیہ کو ساتھ ملا کر سازش کرتے پکڑے گئے

Back to top button