الیکشن کمیشن کو وزیراعظم کیخلاف کارروائی سے روک دیا گیا

الیکشن کمیشن کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف کارروائی سے روک دیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو عمران خان کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر حمتی کارروائی سے روک دیا۔

عمران خان اور وفاقی وزیر اسد عمر کی الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹس کو چیلنج کرنے کی درخواستوں کی سماعت ہوئی، اٹارنی جنرل خالد جاوید کی ہدایت پر عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ عمران خان کے خلاف کوئی حتمی فیصلہ نہ دے۔

الیکشن کمیشن نوٹس جاری کرنے کے بعد جرمانہ اور نااہلی نہیں کرے گا، کیس کی سماعت چھ اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے، فریقین سے قانونی نکات پر دلائل طلب کر لیے گئے ہیں، کیس کی سماعت کے آغاز پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے پی لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی گئی۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر بحث آیا تھا اور یہ کہ وزیراعظم سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے غیر جانبدار نہیں رہ سکتے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارلیمانی نظام حکومت میں سب سے اہم عہدیدار کو کیسے الگ کیا جا سکتا ہے؟

پی ٹی آئی سیاست میں حرام کا پیسہ لگانےوالوں کیخلاف کھڑی

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے آئین کی ہر گز یہ سکیم نہیں، یہ ہو سکتا ہے کہ الیکشن کمیشن یقینی بنائے کہ آپ کسی ترقیاتی سکیم کا اعلان نہیں کر سکتے، یا الیکشن کمیشن یہ کہہ سکتا ہے کہ کوئی بھی وزیر سرکاری گاڑی استعمال نہ کرے۔‘

اٹارنی جنرل کے مطابق وزیراعظم نے تحریری ہدایات دی تھیں کہ وہ اپنی جیب یا پارٹی فنڈز سے اخراجات کریں گے۔

Back to top button