نون لیگ پنجاب میں الیکشن کی تیاری کیوں نہیں کر رہی؟

سپریم کورٹ کے 90 روز میں انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے حکم پر عمل ہوتا نظر نہیں آتا۔ ایک جانب پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے، دوسری طرف مسلم لیگ (ن) تاحال اپنے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کر رہی ہے اور واضح اعلان کر چکی ہے کہ انصاف کے دونوں پلڑے برابر ہونے تک صرف عمران خان کی خواہش پر الیکشن نہیں ہونگے جبکہ مریم نواز اعلان کر چکی ہیں پہلے احتساب ہوگا پھر ہی انتخاب ہوگا۔
دوسری جانب تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے پنجاب میں عام انتخابات کے لیے ٹکٹوں کے اجرا کے لیے ’ممکنہ‘ امیدواروں سے درخواستیں طلب کرلی ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اس بات پر تذبذب کا شکار نظر آتی ہے کہ انتخابات کے لیے میدان میں اتریں یا سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کریں۔
واضح رہے کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق پنجاب میں 30 اپریل کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کی قیادت انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے ’واضح مؤقف‘ لینے سے گریزاں ہے۔ گوجرانوالہ میں پارٹی اجلاس کے دوران بھی مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے الیکشن کی تیاریوں کے حوالے سے کوئی ہدایات نہیں دیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما اب بھی اس بات پر بضد ہیں کہ صرف عمران خان کی خواہش پر انتخابات نہیں کرائے جا سکتے۔حال ہی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے اصرار کیا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن ہونے چاہئیں۔مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پنجاب میں انتخابی میدان میں اترنے کے بارے میں واضح مؤقف نہ لیے جانے سے متعلق سوال پر پارٹی رہنما طلال چوہدری نے کہا کہ عمران خان کی خواہش پر الیکشن نہیں ہو سکتے۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیالیکن مسلم لیگ (ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے صوبے میں انتخابات کے حوالے سے کسی ابہام کے تاثر کی تردید کی ہے، انہوں نے کہا کہ مریم نواز شریف نے انتخابات کی تیاریوں کے لیے ہی پنجاب کے 6 اضلاع کا دورہ کیا ہے، جلد ہی پارٹی کا پارلیمانی بورڈ ٹکٹ جاری کرنے کا اعلان کر دے گا۔انہوں نے عمران خان کو ’لاڈلا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سربراہ کے خلاف مقدمات میں انصاف کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کا احتساب ہوتا نظر آنا چاہیے کیونکہ وہ لاڈلے لگتے ہیں جبکہ دوسری جانب نواز شریف کو انصاف نہیں مل رہا‘۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ انتخابات کے لیے میدان میں اترنے سے پہلے بہت سی چیزوں کو طے کرنا ہوتا ہے، ہمارا مطالبہ بالکل واضح ہے، نواز شریف کے لیے انصاف اور عمران خان کا احتساب۔
دریں اثنا پیپلزپارٹی نے پارٹی ٹکٹ کے خواہاں افراد سے کہا ہے کہ وہ 8 مارچ تک 30 ہزار روپے کے بینک ڈرافٹ کے ساتھ درخواستیں جمع کرائیں۔یہ فیصلہ پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دو روزہ دورہ لاہور کے بعد کیا گیا، انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کے بغیر الیکشن میں اتر سکتی ہے۔پیپلز پارٹی رہنما فریال تالپور نے بھی پنجاب میں پارٹی کے ڈویژنل صدور کو موزوں امیدواروں کی فہرستیں جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔فریال تالپور نے کہا کہ پنجاب میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی انتخابی اتحاد نہیں کیا جائے گا، اس لیے صرف مضبوط امیدواروں کو ہی الیکشن میں کھڑا کیا جانا چاہئے۔
گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلزپارٹی لاہور کے صدر اسلم گل نے کہا کہ ان کی پارٹی خاص طور پر لاہور میں مضبوط امیدوار کھڑے کرے گی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلزپارٹی کو ہر حلقے میں 3 ’مضبوط‘ امیدوار دستیاب ہیں۔
