پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی ہونے کا اعلان جلد متوقع

پنجاب میں 30؍ اپریل اور خیبر پختونخواہ میں 28 مئی کو شفاف، منصفانہ اور پر امن ماحول میں الیکشن کے لئے حالات سازگار نہ ہونے کے سبب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دونوں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات تا حکم ثانی ملتوی کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے جس کا اعلان دو سے تین روز میں متوقع ہے، سینئر صحافی حنیف خالد نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کے نئے انتخابات کے بارے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر لی ہے، اس مشاورت کے نتیجے میں آئندہ 24گھنٹے کے اندر الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس ہوگا۔
اس اجلاس میں جو فیصلے ہونگے ان کا اعلان کل یا پرسوں تک کئے جانے کا قوی امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے جی ایچ کیو‘ ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس‘ آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز‘ وزارت دفاع‘ وزارت داخلہ‘ وزارت خزانہ‘ وزارت قانون‘ ہائی کورٹس سمیت آئی جی پولیس پنجاب اور آئی جی پولیس خیبر پختونخوا‘ چیف سیکرٹری پنجاب‘ چیف سیکرٹری کے پی کے‘ قائم مقام وزیراعلیٰ پنجاب اور خیبر پختونخوا‘ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان‘ گورنر خیبر پختونخوا غلام علی‘ سیکرٹری وزارت خزانہ‘ سیکرٹری وزارت داخلہ اور تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا سلسلہ مکمل کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ آئندہ 24گھنٹے میں اس مشاورت کی روشنی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سندھ‘ خیبر پختونخوا‘ بلوچستان‘ پنجاب کے ممبر صاحبان سے مشاورت کرینگے۔
اس مشاورت کی روشنی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان دو نئی صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن کے بارے میں اہم اعلان آئندہ دو روز میں کریگا۔ معلوم ہوا ہے کہ وفاقی حکومت کے سیکرٹری خزانہ نے قومی و صوبائی انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو 65 ارب روپے کے فنڈز کے اجراء سے معذرت کی ہے۔ تمام حساس اداروں نے ملک کے اندر دہشت گردی کی لہر کے پیش نظر اور اسکے علاوہ لاہور اور اسلام آباد میں سیاسی جتھوں کی ہنگامہ آرائی سے پیدا صورتحال کے پیش نظر محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ وزارت دفاع‘ وزارت داخلہ‘ ہائی کورٹس نے بھی ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور ریٹرننگ افسر ضلعی عدالتوں سے دینے سے معذرت کر لی ہے۔
عدلیہ، سول اور عسکری اداروں کی طرف سے سیکیورٹی اور ضروری سٹاف دینے سے معذرت سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، اس صورتحال میں الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی بوجوہ فنڈز کی عدم فراہمی‘ سکیورٹی کی عدم موجودگی وغیرہ پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کے الیکشن کرانے سے معذرت کے فیصلے کا اعلان کریگا، واضح رہے کہ چند روز قبل بھی یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ اب تک کمیشن کو مختلف اسٹیک ہولڈرز سے جو معلومات موصول ہوئی ہیں ان کی روشنی میں پنجاب میں 30؍ اپریل اور کے پی میں 28؍ مئی کو شفاف، منصفانہ اور پر امن ماحول میں الیکشن ممکن نہیں۔ الیکشن کمیشن کے ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ اگر آئین کے رو سے الیکشن کمیشن 90 دن میں الیکشن کرانے کا پابند ہے تو یہی آئین کمیشن سے تقاضہ کرتا ہے کہ یہ انتخابات شفاف اور منصفانہ انداز میں اور پر امن ماحول میں کرائے جائیں. تاہم مشاورت کے دوران الیکشن کمیشن کو کسی بھی فریق نے آئینی نقاضوں کے مطابق دو صوبوں میں الیکشن منعقد کروانے کے حوالے سے مثبت جواب نہیں دیا۔
