بنگلہ دیش میں انتخابات اگلے سال کے آخر یا 2026 کے اوائل میں ہوں گے : محمد یونس

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے کہا ہےکہ عام انتخابات اگلے سال کے آخر یا 2026 کے اوائل میں ہوں گے۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے کہ وہ عام انتخابات کی تاریخ کا تعین کریں۔
محمد یونس کاکہنا تھاکہ عام انتخابات کی تاریخیں 2025 کے آخر یا 2026 کی پہلی ششماہی تک طے کی جاسکتی ہیں۔
محمد یونس نے اصلاحات کی نگرانی کےلیے کمیشن قائم کیےہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہےکہ اصلاحات کی ضرورت ہے اور انتخابات کی تاریخ کا تعین اس بات پر منحصر ہےکہ کیا سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں نے اس بات پر زور دیا ہےکہ انتخابات کے انتظامات سے پہلے اصلاحات ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر سیاسی جماعتیں کم از کم اصلاحات کے ساتھ قبل از وقت انتخابات کرانے پر رضامند ہوجاتی ہیں،جیسے بے عیب ووٹر لسٹ رکھنا،تو انتخابات منعقد کیے جاسکتے ہیں۔لیکن انتخابی اصلاحات کی مکمل فہرست شامل کرنے سے انتخابات میں چند ماہ کی تاخیر ہو گی۔
انہوں نےکہاکہ جن اصلاحات کی ضرورت ہے ان میں ووٹر لسٹ کو اپ ڈیٹ کرنا اہم ہے،جو برسوں کے ہنگامہ خیز جمہوری عمل کےبعد ایک پیچیدہ چیلنج ہے،جس کےلیے فہرستوں سے جعلی ناموں کو ہٹانےکے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی میں پہلی بار رائے دہندگان کا اندراج بھی ضروری ہے۔
محمد یونس نے کہاکہ وہ انتخابات میں 100 فیصد رائے دہندگی کو یقینی بنانےکا خواب دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر یہ حاصل کیا جاسکتا ہے،تو کوئی بھی حکومت کبھی بھی شہریوں کو ان کے ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی ہمت نہیں کرےگی۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں آخری بار جنوری 2024 میں عام انتخابات ہوئےتھے جب حسینہ واجد نے فتح کا جشن منایا تھا اور ایک سروےمیں اسے نہ تو آزادانہ اور نہ ہی منصفانہ قرار دیا گیاتھا اور ایک کریک ڈاؤن کےبعد مخالفین نے اس کا بائیکاٹ کیا تھا جس کے دوران حزب اختلاف کی جماعت کے ہزاروں ارکان کو گرفتار کیاگیا تھا۔
ترکیہ کا شام میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان
یاد رہے کہ 77 سالہ حسینہ واجد 5 اگست کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پڑوسی ملک بھارت فرار ہوگئی تھیں جب ہزاروں مظاہرین نے ڈھاکہ میں وزیراعظم کے محل پر دھاوا بول دیا تھا۔حسینہ واجد کی برطرفی سے چند ہفتے قبل سینکڑوں افراد جاں بحق ہوئے تھے جن میں سے زیادہ تر پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے تھے۔
حسینہ واجد کی حکومت پر عدالتوں اور سول سروس کو سیاسی رنگ دینے کے ساتھ ساتھ اپنے اقتدار پر جمہوری کنٹرول کو ختم کرنے کےلیے یک طرفہ انتخابات کرانے کا بھی الزام لگایا گیاتھا۔ حسینہ واجد کےدور حکومت میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دیکھنےمیں آئیں،جن میں ان کے سیاسی مخالفین کو بڑےپیمانے پر حراست اور ماورائے عدالت قتل بھی شامل ہے۔
