خیبر پختونخوا میں سینیٹ کی 11 نشستوں پر الیکشن آج ہو گا

خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی 11 نشستوں کے لیے انتخابات آج ہوں گے، جن میں 25 امیدوار میدان میں موجود ہیں۔

پولنگ کا عمل صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک جاری رہے گا، جس کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی کے جرگہ ہال کو پولنگ اسٹیشن قرار دیا گیا ہے۔ سینیٹ الیکشن کے دوران سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

ہارس ٹریڈنگ سے بچنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 6 اور 5 نشستوں کا باہمی فارمولا طے پایا ہے، جس کے تحت حکومت کو 6 اور اپوزیشن کو 5 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔

جنرل نشستوں پر حکومت کے 4 اور اپوزیشن کے 3 امیدوار میدان میں ہیں، جب کہ خواتین اور ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر دونوں جانب سے 2،2 امیدوار نامزد کیے گئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف نے جنرل نشستوں کے لیے مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا محمد آفریدی، اور نورالحق قادری کو ٹکٹ دیا ہے، جبکہ اعظم سواتی اور روبینہ ناز بھی پی ٹی آئی کے امیدواروں میں شامل ہیں۔

اپوزیشن کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے نیاز احمد، پیپلز پارٹی کے طلحہ محمود، اور جمعیت علمائے اسلام کے عطاء الحق جنرل نشستوں کے امیدوار ہیں۔ خواتین اور ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد اور جے یو آئی کے دلاور خان بھی میدان میں موجود ہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومت کو 92 جبکہ اپوزیشن کو 53 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ جنرل نشست جیتنے کے لیے 19 ووٹ جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے 49 ووٹ درکار ہیں۔

اپوزیشن کو تیسری جنرل نشست جیتنے کے لیے مزید 4 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ پانچ ناراض ارکان میں سے چار کے دستبردار ہونے کے بعد خرم ذیشان میدان میں رہ گئے ہیں۔

ادھر پنجاب سے سینیٹ کی ایک خالی نشست پر ضمنی انتخاب بھی آج ہی منعقد ہو رہا ہے، جس کے لیے پنجاب اسمبلی کو پولنگ اسٹیشن مقرر کیا گیا ہے۔ الیکشن کمشنر پنجاب ریٹرننگ افسر کے فرائض انجام دے رہے ہیں، اور 371 رکنی ایوان میں سے 369 ارکان ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

یہ نشست مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر پروفیسر ساجد میر کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھی۔ اس نشست پر مسلم لیگ (ن) کے حافظ عبدالکریم، اپوزیشن کے مہر عبدالستار، اور دو آزاد امیدوار—خدیجہ صدیقی اور اعجاز حسین—میدان میں ہیں۔

Back to top button