بجلی 4 روپے 83 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی

مہنگائی کے ستائے عوام پر بجلی بم بھی گرا دیا گیا ہے، حکومت نے فی یونٹ بجلی 4 روپے 83 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دیدی ہے، ڈسکوز کیلئے 2.86 روپے فی یونٹ اور کے الیکٹرک (کے ای) کو مارچ میں فروخت ہونے والی بجلی کیلئے تقریباً 44 ارب روپے کے مجموعی مالیاتی اثرات کیساتھ 4.83 روپے فی یونٹ اضافی فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کو حتمی شکل دیدی۔

ڈسکوز اور کے ای دونوں کے لیے اضافی ایف سی اے کو نیپرا کے چیئرمین توصیف ایچ فاروقی کی زیر صدارت الگ الگ عوامی سماعتوں میں حتمی شکل دی گئی جنہوں نے کہا کہ یہ اضافہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر کیا گیا ہے، اس سے ڈسکوز کے لیے تقریباً 29 ارب روپے، کے الیکٹرک کے لیے ساڑھے 7 ارب روپے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو تقریباً ساڑھے 7 ارب روپے جنرل سیلز ٹیکس کی شکل میں اضافی ریونیو میں حاصل ہوں گے۔

نیپرا کے چیئرمین توصیف ایچ فاروقی اور رکن سندھ رفیق شیخ نے لوڈشیڈنگ کرنے پر پاور کمپنیوں سے اظہار برہمی کی اور وجوہات دریافت کیں۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے سربراہ ریحان اختر نے تمام ڈسکوز کی جانب سے بات کرتے ہوئے عذر پیش کیا کہ گرمی کی شدت کے اضافے کے نتیجے میں بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

توصیف ایچ فاروقی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی جواز نہیں ہے، دنیا اتنی ترقی کرچکی ہے کہ آپ 3 ماہ قبل ہی موسم کی پیشین گوئی باآسانی کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ریحان اختر نے محکمہ موسمیات پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ موسم کی درست پیشین گوئیاں فراہم نہیں کر رہا۔

رفیق شیخ نے کہا کہ موسم گرما پہلی بار نہیں آرہا، حیرت ہے کہ پاور پلانٹس کے لیے ایندھن کا انتظام کیوں نہیں ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام بجلی کے بغیر گرمی میں انتہائی سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور ذمہ داران بچگانہ جوابات دے رہے ہیں۔ریگولیٹر نے ہنگامی بنیادوں پر ایندھن کے انتظام پر زور دیا اور اس معاملے کو حکومت کے ساتھ بھی اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

Back to top button