2034 تک بجلی 30 روپے یونٹ ہو سکتی ہے، پاور ڈویژن کی رپورٹ

پاور ڈویژن کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آئندہ آٹھ برسوں میں بجلی کی قیمتوں میں اوسطاً 25 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ تین سالوں میں کرنسی کی شدید گراوٹ کے باعث بجلی کے نرخوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ پہلے ہی ہو چکا ہے۔

جولائی کے آخری ہفتے میں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیے گئے ورکنگ پیپر میں بتایا گیا کہ 2034 تک بجلی کا اوسط ٹیرف 29 روپے 70 پیسے فی یونٹ تک پہنچ سکتا ہے، جو اس وقت کے 24 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں تقریباً 6 روپے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 2016 میں اوسط پاور پرچیز ریٹ 7 روپے 17 پیسے تھا، جو 2025 میں بڑھ کر 24 روپے 88 پیسے فی یونٹ تک جا پہنچے گا ، یعنی 250 فیصد اضافہ۔ اسی عرصے میں کپیسٹی چارجز 275 ارب روپے سے بڑھ کر 2 کھرب 10 ارب روپے ہو گئے، جس میں 660 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا، زیادہ تر سی پیک کے تحت شروع کیے گئے منصوبوں کے سبب۔

2022 سے 2025 کے درمیان پاور پرچیز ریٹ میں بھی 50 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2023 سے 2025 کے دوران ڈالر کے لحاظ سے اوسط بیس ٹیرف میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، لیکن روپے کی قدر میں کمی نے اسے 25 روپے سے بڑھا کر 35 روپے 50 پیسے کر دیا۔

کپیسٹی چارجز بھی ڈالر میں ہونے کی وجہ سے 11 روپے سے بڑھ کر 18 روپے فی یونٹ ہو گئے — 66 فیصد کا اضافہ۔ توانائی کی لاگت میں اگرچہ معمولی اضافہ ہوا، مگر دیگر چارجز اور ٹیکسوں کے باعث صارفین پر مجموعی بوجھ بڑھا۔

2034 تک کپیسٹی چارجز کے مزید 65 فیصد اضافے کے ساتھ 3 کھرب 14 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں بجلی کی بلند قیمتوں کو صنعتی زوال کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ صنعتی بجلی کی کھپت 2022 میں 34 ارب یونٹ تھی، جو 2024 میں گھٹ کر 28 ارب یونٹ رہ گئی — قیمتوں میں اضافے اور آف گرڈ جنریشن کی جانب رجحان اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

پاور ڈویژن نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے نے نہ صرف طلب کو کم کیا بلکہ قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں بھی اضافہ کیا، جو صارفین پر مزید بوجھ کا سبب بنا۔

سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، پہلی بار ایک لاکھ 42 ہزار پوائنٹس کی حد عبور

 

تکنیکی و تجارتی نقصانات (ATC Losses) میں کوئی خاص کمی نہیں آئی، جو 2013 میں 18.9 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں صرف 18.3 فیصد تک پہنچے  یعنی پیداواری اور بل شدہ بجلی میں واضح فرق برقرار رہا۔

پاور ڈویژن کا ماننا ہے کہ اگرچہ آئندہ دہائی میں قیمتوں میں اضافہ نسبتاً سست (25–30 فیصد) ہوگا، لیکن یہ بوجھ برقرار رہے گا۔ رپورٹ میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ صاف ایندھن کا حصہ 2034 تک 66 فیصد ہو جائے گا، جو اس وقت 46 فیصد ہے اور یہی تبدیلی قیمتوں میں بہتری لا سکتی ہے۔

Back to top button