2سال میں 5ارب78کروڑ کی بجلی چوری کا انکشاف

ملک بھر میں 2سال کے دوران 5ارب 78کروڑ کی بجلی چوری کانیا ریکارڈ بن گیا۔آدٹ رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آ گئے۔
ملک میں بجلی چوری کے بڑھتے ہوئے رجحان نے قومی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایک تازہ آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران مجموعی طور پر 5 ارب 78 کروڑ روپے کی بجلی چوری کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصے میں 2 لاکھ 62 ہزار 740 صارفین بجلی چوری میں ملوث پائے گئے، جن میں عام افراد کے ساتھ ساتھ تجارتی و صنعتی صارفین بھی شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کے دوران ملک کے نو بڑے ریجنز میں بجلی چوری کے سنگین کیسز سامنے آئے۔ چوروں نے ڈائریکٹ کنیکشنز (کنڈے)، میٹر ٹیمپرنگ، جعلی میٹرز اور ری پروگرامنگ جیسے غیر قانونی ذرائع سے بجلی حاصل کی۔
سب سے زیادہ بجلی چوری پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے دائرہ کار میں ریکارڈ کی گئی، جہاں ایک ارب 84 کروڑ روپے مالیت کی بجلی غیر قانونی طور پر استعمال کی گئی۔ حیسکو میں ایک ارب 61 کروڑ، جبکہ لیسکو میں ایک ارب 35 کروڑ روپے کی بجلی چوری رپورٹ ہوئی۔ دیگر ریجنز بشمول اسلام آباد میں بھی ایسے کیسز سامنے آئے۔
لاہور میں بجلی چوری کا ایک سنگین واقعہ اُس وقت منظر عام پر آیا جب ڈیوس روڈ پر واقع ایک نجی ہوٹل میں کروڑوں روپے کی بجلی غیر قانونی طور پر استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ لیسکو کے مطابق ہوٹل کے تین تھری فیز میٹرز سے 2 کروڑ 63 لاکھ روپے مالیت کی بجلی چوری کی جا رہی تھی۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ہوٹل انتظامیہ نے میٹرز کو ری پروگرام کرتے ہوئے سیکیورٹی سسٹم کو بائی پاس کیا اور ریڈنگز کو فریز کر دیا، تاکہ اصل کھپت چھپائی جا سکے۔ لیسکو ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے میٹرز کو تحویل میں لے لیا اور ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی چوری نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ ایماندار صارفین کے لیے بلوں کا بوجھ بھی بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت اس مسئلے کے تدارک کے لیے مؤثر قانون سازی، سخت مانیٹرنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنائے۔
یاد رہے کہ بجلی چوری پاکستان میں توانائی بحران کی ایک بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے، جو نہ صرف مالی نقصانات بلکہ لوڈشیڈنگ اور وولٹیج کی خرابیوں کا بھی باعث بنتی ہے۔
