ایف آئی اے کاطلبی کیلئے الیکٹرانک نوٹسزجاری کرنےکافیصلہ

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ملک بھر میں شہریوں کی طلبی کے جعلی نوٹسز کے بڑھتے ہوئے رجحان اور بلیک میلنگ سے بچانے کے لیے تمام دستی اور مینوئل نوٹسز کا اجراء بند کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں شہریوں کو جعلی نوٹسز بھجوا کر خوفزدہ کرنے اور پیسے بٹورنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اس مکروہ عمل کے دوران مختلف جعلساز گروہ اور فراڈیے واٹس ایپ، ای میل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے معصوم شہریوں کو ایف آئی اے کے نام سے نوٹسز بھیجتے ہیں، جن میں شہریوں پر جرائم یا سائبر قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات درج کیے جاتے ہیں اور قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے رقم ادا کرنے کا تقاضا کیا جاتا ہے جبکہ رقم کی ادائیگی سے انکار کرنے والوں کے ساتھ گالم گلوچ کے علاوہ انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں تاہم اب ایف آئی اے نے جعلسازوں پر شکنجہ کسنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مینوئل نوٹسز کا اجراء ہی بند کر دیا ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق اب دفعہ 160 کے تحت جاری ہونے والے نوٹسز صرف الیکٹرانک سسٹم کے ذریعے جاری ہوں گے اور ان پر ایک منفرد کیو آر کوڈ درج ہو گا، جس کے ذریعے ہر شہری نوٹس کی فوری تصدیق کر سکے گا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اگر کسی شہری کو نوٹس موصول ہو اور اس پر کیو آر کوڈ موجود نہ ہو تو اسے جعلی یا مشکوک تصور کیا جائے اور متعلقہ شخص کو فوری طور پر ادارے سے رابطہ کرنا چاہیے۔

تاہم عوامی آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ایف آئی اے کی جانب سے مینوئل نوٹسز کے اجراء پر پابندی کے باوجود مختلف علاقوں میں ایف آئی اے نوٹسز فراڈ کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے فراڈ کا نشانہ بننے والے گوجرانوالہ کے محمد علی نے بتایا کہ مجھے واٹس ایپ پر ایف آئی اے کا نوٹس موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ میری سوشل میڈیا سرگرمیاں قابلِ گرفتاری ہیں۔ نوٹس میں دھمکی دی گئی کہ اگر میں نے جواب نہ دیا تو مجھے گرفتار کر لیا جائے گا۔ میں نے متعلقہ دفتر سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ ان کی جانب سے تو ایسا کوئی نوٹس جاری ہی نہیں کیا گیا محمد علی کے مطابق نوٹس میں میرے متعلق تمام معلومات اور ڈیٹا حقائق پر مبنی تھا، بس الزامات غلط تھے۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ فشنگ فراڈ تھا، اور مقصد صرف بلیک میلنگ تھا۔’

اسی طرح ایک شہری خرم اقبال نے بتایا کہ ان کی بہن کو جعل سازوں نے خود کو ایف آئی اے کا نمائندہ ظاہر کرکے کچھ الزامات پر مبنی نوٹس بھیجا۔ جس میں انہیں یہ بتایا گیا کہ آپ کا اکاؤنٹ مشکوک سرگرمیوں کی فنڈنگ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ جس پر وہ گھبرا گئی۔ جعلی اہلکاروں نے انہیں فون کرکے دھمکایا کہ فوری تصدیق نہ کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ اس عمل کے دوران انہوں نے بینک اکاؤنٹ سے دو لاکھ روپے کی رقم نکال لی۔
دوسری جانب ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز میں چلنے والے جعلی نوٹسز بظاہر اصل لگتے ہیں، جن میں فرضی کیس نمبر، جعلی دستخط یا غیرحقیقی سیکریٹ سٹیمپس تک شامل ہوتی ہیں۔  جعلی نوٹسز میں اکثر انتہائی خوفناک الزامات اس لیے درج کیے جاتے ہیں تاکہ وصول کنندہ فوری طور پر خوفزدہ ہو جائے اور بغیر کسی تصدیق کے کیس سے بچنے کے چکر میں رقم لٹانے پر تیار ہو جائے۔ ایف آئی اے حکام نے واضح کیا کہ ادارہ کسی بھی شہری سے فون کال، نوٹس یا پیغام کے ذریعے ذاتی یا مالی معلومات طلب نہیں کرتا اور نہ ہی بینکنگ تفصیلات مانگتا ہے۔ حکام کے مطابق کسی بھی سرکاری نوٹس سے پہلے مکمل تحقیق، واضح کیس نمبر اور باضابطہ طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ کسی بھی نا معلوم نمبر سے آنے والی دھمکی آمیز کال یا مشکوک نوٹس پر یقین نہ کریں اور اس حوالے سے فوری ایف آئی اے میں شکایت درج کروائیں
ترجمان ایف آئی کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے میں مینوئل نوٹسز کا اجراء بند کر کے نیا الیکٹرانک نوٹس سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے جس سے نہ صرف جعلی نوٹس فراڈ سے چھٹکارا ملے گا بلکہ شہریوں کو بھی دھوکے اور بلیک میلنگ سے بچانے میں معاون ثابت ہو گا۔تاکہ کوئی بھی جعل ساز ادارے کے نام پر عوام کو نقصان نہ پہنچا سکے۔

Back to top button