ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کے بعدایلون مسک نے حکومتی عہدے سے مستعفی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اپنے نت نئے اقدامات سے امریکہ سمیت دنیا بھر میں ہنگامہ برپا کرنے والے ایلون مسک خاموشی سے مستعفی ہو گئے۔ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کے ساتھ ایلون مسک کے اچانک مستعفی ہونے کی خبروں نے امریکی سیاست میں تہلکہ مچا دیا ہے اور اس حوالے سے سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری ہیں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے تبصروں کا سلسلہ جاری ہے
خیال رہے ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی کے طور پر شناخت رکھنے والے دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے 20 جنوری 2025ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی” کے سربراہ کے طور پر اپنی زندگی کا ایک نیا باب شروع کیا۔ایلون مسک نے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی اپنے اقدامات کے ذریعے سے جہاں یو ایس ایڈ اور وائس آف امریکہ سمیت متعدد سرکاری اداروں کو بند کروایا وہیں وفاقی نظام حکومت کو بھی ہلا کر رکھ دیا، ایلون مسک کے اقدامات پر جہاں ٹرمپ کو اپنے حامیوں ومخالفین کی تنقید برداشت کرنا پڑی وہیں کئی اقدامات پر ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی عدلیہ نھی آمنے سامنے آئیں تاہم 2اپریل کو ایلون مسک نے اچانک اس عہدے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ جس نے سیاسی پنڈتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اور وہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کیلئے سر گرداں ہیں کہ ایلون مسک کے اچانک مستعفی ہونے کی کیا وجواہات ہیں؟ ایلون مسک کے مستعفی ہونے کے ٹرمپ انتظامیہ پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟ کیا ایلون مسک کے استعفے کے بعد ان کے اٹھائے جانے والے اقدمات کا مستقبل کیا ہو گا؟
مبصرین کے مطابق ایلون مسک نے اپنے 73 روزہ دور اقتدار کے دوران یو ایس ایڈ کو بند کرنے، ایجوکیشن سائنسز کے معاہدوں کی منسوخی ، ملازمین کی برطرفیوں سمیت مختلف متنازع اقدامات کئے جس کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا رہا۔ مسک کے اقدامات کے جواب میں "ٹیسلا ٹیک ڈاؤن” تحریک نے جنم لیا اور اس تحریک کے تحت مختلف مقامات پر 500سے زائد مظاہرے کئے گئے ،جبکہ امریکہ اور جرمنی سمیت مختلف ممالک میں ٹیسلا کی گاڑیوں کو جلانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ۔ جس کے بعد ٹیسلا کے بورڈ نے مسک کو حکومتی عہدے سے مستعفی ہونے کا کہا، جبکہ ٹرمپ نے بھی ایلون مسک کو کاروبار پر توجہ مرکوز کرنے کی تلقین کی جس کے بعد ایلون مسک نے اپنے حکومتی عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20جنوری کو دوسری بار صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد مسک کو ڈوج کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ ٹرمپ انتطامیہ کی جانب سے انہیں "خصوصی سرکاری ملازم” کا درجہ دیا گیا تھا، جس کی مدت 130دن تک محدود تھی۔ تعیناتی کے بعد ایلون مسک ایک ٹریلین ڈالر کی بچت کا ہدف دیا گیا تھا، لیکن ایلون مسک نے اپنے جذباتی اقدامات سے حکومتی کمپنیوں اور ٹرمپ شہرت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔
مسک نے اپنے ٹوئٹر کے تجربے سے متاثر ہو کر 28 جنوری کو 24 لاکھ وفاقی ملازمین کو ای میل بھیجی، جس میں آٹھ ماہ کی تنخواہ کے بدلے استعفے کی پیشکش کی گئی، 75 ہزار ملازمین نے یہ پیشکش قبول کی، جس کی وجہ سے مسک اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے کیونکہ مستعفی ہونے والے ملازمین کی کل تعداد سالانہ ریٹائرمنٹ کی شرح سے ملتی جلتی تھی۔ بعد ازاں مسک نے امریکی خزانے کی ادائیگی کے نظام تک رسائی حاصل کی اور یو ایس ایڈ کو بند کر دیا جبکہ 11فروری کو، انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن سائنسز کے 900ملین ڈالر کے معاہدے منسوخ کر دئیے بعد ازاں مسک نے ملازمین سے ان کے کام کی تفصیل مانگی اوردھمکی دی کہ جواب نہ دینے والوں کو برطرف سمجھا جائے گا، جس سے بورے امریکی نظام حکومت میں افراتفری پھیل گئی۔مبصرین کے مطابق ایلون مسک کے اقدامات کے خلاف ایک امریکی جج نے یو ایس ایڈکی کٹوتیوں کو غیر آئینی قرار دیا، جس سے مسک کے اختیارات محدود ہو گئے۔ جس کے بعدمسک نے پینٹاگون کا دورہ کیا، جس سے مفادات کے ٹکراؤ کے خدشات پیدا ہوئے۔
سی این این کے مطابق،مسک کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں "ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی” کے سربراہ کے طور پر کردار اور ان کے متنازع فیصلوں کیخلاف عالمی سطح پر "ٹیسلا ٹیک ڈاؤن” تحریک شروع ہوئی۔29 مارچ 2025ء کو "ٹیسلا ٹیک ڈاؤن گلوبل ڈے آف ایکشن” کے نام سے عالمی سطح پر 500 سے زائد مظاہرے ہوئے، جن میں امریکا، کینیڈا، اور یورپ کے شہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مسک نے یورپی سیاست میں مداخلت شروع کی، جس سے یورپی رہنماؤں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔یورپ میں سیاسی مداخلت سے ٹیسلا کی یورپ میں مانگ میں 59فیصد کمی ہوئی ۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، مسک نے جنوری میں جرمنی کی دائیں بازو کی جماعت کی حمایت کا اعلان کیا جس پرجرمن رہنماؤں نے "انتخابی مداخلت” کی مذمت کی۔برطانیہ کی ریفارم یو کے کی حمایت اور اسٹارمر پر تنقید پر برطانوی وزیراعظم نے ایلون مسک پر "جھوٹ” پھیلانے کا الزام لگایا۔ فرانس کے صدر میکرون نے مسک کو "ری ایکشنری انٹرنیشنل” قرار دیا۔ ڈیلی میل کے مطابق، مسک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشاورت سے 2اپریل کو ڈوج سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ اگرچہ مسک کے کام سے مطمئن تھے تاہم چونکہ مسک کے اقدامات سے ان کی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ رہا تھا اس لئے امریکی صدر بھی مسک کے مستعفی ہونے پر قائل ہوگئے۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ مسک خود کو "حکومتی فضول خرچی کا خاتمہ کرنے والا” قرار دیتے ہوئے اپنی ستائش کرتے دکھائی دیتے ہیں تاہم دی اکانومسٹ نے مسک کے اقدامات کو "تباہ کن” قرار دیا ہے۔
ناقدین کے مطابق مسک کے اقدامات کے خلاف احتجاج فروری سے شروع ہوا اور مارچ میں عروج پر پہنچا لاس ویگاس میں ٹیسلا گاڑیوں کو آگ لگائی گئی ۔جرمنی میں سات گاڑیاں جلائی گئیں ۔ یورپ میں 10سے20شورومز کو نقصان پہنچا۔ امریکا میں، 15سے30 واقعات رپورٹ ہوئے۔ مسک نے ان حملوں کو "ملکی دہشت گردی” قرار دیا اور ان کے خلاف سخت منصوبہ پیش کیا۔ تاہم اس منصوبے پر عمل نہ ہو سکا۔ دریں اثناء 2 اپریل کو مسک کے ڈوج چھوڑنے کی خبروں کے ساتھ ہی ٹیسلا کی فروخت میں کمی اور مظاہروں کے باوجود اس کے شیئرز میں اضافہ ہوا ۔ مبصرین کے مطابق ایلون مسک کی جانب سے حکومتی عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ٹیسلا کے شئیرز کی قیمت 45 فیصد کمی کے بعد 263.55ڈالرسے گر کر 145 ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ اس عرصے کے دوران مسک کی دولت میں 126 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ ایلون مسک کا اس حوالے سے ماننا ہے کہ”حکومت میں ہونا ان کی کمپنیوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ تاہم اب ایلون مسک نے اپنے کاروبار کو بچانے کیلئے مدت پوری ہونے سے قبل ہی اپنا حکومتی عہدہ چھوڑ دیا ہے۔
خیال رہے کہ ایلون مسک کی دستبرداری کا اعلان 130 دن کے دور سے 57دن پہلے 2 اپریل کو شام 8:41 پر ہوا۔20جنوری سے 2 اپریل تک، مسک نے ڈوج کے ذریعے وفاقی نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، لیکن ان اقدامات سے کسی فائدے کی بجائے600سے زائدمظاہرے، 15سے30نقصان کے واقعات، اور قانونی چیلنجز سامنے آئے۔ تاہم اب ایلون مسک کی دستبرداری سے ٹیسلا کے شیئرز میں کچھ استحکام ضرور آیا ہے لیکن ان کے سیاسی کردار کے اثرات برسوں تک محسوس ہوں گے۔
