ایلون مسک کی دولت میں اچانک 132 ارب ڈالرز کی کمی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےمشیر اور دنیا کےامیر ترین شخص ایلون مسک کےلیے 2025 کا سال مالی لحاظ سے کچھ زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا۔

2025 کےدوران ایلون مسک کی دولت میں 132 ارب ڈالرز کی کمی آچکی ہے۔

درحقیقت 10 مارچ کوہی ایلون مسک کو 29 ارب ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہےاوران کی مجموعی دولت اب 301 ارب ڈالرز تک گھٹ گئی ہے۔

ایلون مسک نےسال کا آغاز 433 ارب ڈالرز کے ساتھ کیا تھا اور بظاہر امریکی حکومت کے لیے ان کی جانب سے تجویز کردہ مالی بچت کےاقدامات ان کی اپنی کمپنیوں کے لیے کچھ زیادہ اچھے ثابت نہیں ہو رہے۔

دسمبر 2024 میں ان کی دولت 486 ارب ڈالرزکی ریکارڈ سطح تک پہنچی تھی۔

10 مارچ کوایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا کے حصص کی قیمتوں میں 15 فیصد کمی آئی جس کے نتیجے میں ایلون مسک کو 29 ارب ڈالرز سے محروم ہونا پڑا۔

واضح رہےکہ ایلون مسک ٹیسلا کے 21 فیصد حصص کے مالک ہیں اوران کی مجموعی دولت کا 68 فیصد حصہ بھی اسی کمپنی کےحصص سے منسلک ہے۔

یوکرین کے صدر نے تلخ کلامی پر ٹرمپ سے معافی مانگ لی : امریکی صدر کے مندوب کا دعویٰ

 

ویسے 3 ماہ میں 132 ارب ڈالرز کی کمی کےباوجود ایلون مسک تاحال دنیا کے امیر ترین شخص ہیں۔

ایمازون کے بانی جیف بیزوز دوسرےنمبر پر ہیں جو 216 ارب ڈالرز کے مالک ہیں۔

جیف بیزوز کےلیے بھی 10 مارچ کا دن کچھ زیادہ اچھا نہیں تھا اوران کی دولت میں 4.21 ڈالرز کی کمی آئی۔

مارک زکربرگ 211 ارب ڈالرز کے ساتھ اس فہرست میں تیسرے نمبر پرہیں جبکہ فرانس سے تعلق رکھنے والے برنارڈ آرنلٹ 183 ارب ڈالرز کے ساتھ چوتھے اور لیری ایلیسن 169 ارب ڈالرز کےساتھ 5 ویں امیرترین شخص ہیں۔

Back to top button