بلوچستان میں BLA کے حملوں کے بعد کوئٹہ میں ایمرجنسی نافذ

 

 

 

بلوچستان قوم پرست جنگجو تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے دہشت گردی میں تیزی آنے کے بعد آج صبح سے کوئٹہ سمیت صوبے کے درجن بھر شہروں میں دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات جاری ہیں، جن کے نتیجے میں 38 دہشت گرد اور 11 پولیس اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ چونکہ ان حملوں کا سلسلہ ابھی جاری ہے اس لیے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر کوئٹہ میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔

 

کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں اپنے نام نہاد آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کا حصہ قرار دیا ہے۔ گروہ کے مطابق یہ کارروائیاں صوبے میں بلوچ عوام کے حقوق کے لیے جاری جدوجہد کا حصہ ہیں، اور وہ وفاقی حکومت اور سکیورٹی اداروں کے بلوچستان پر غلبے کے خلاف مزاحمت کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔

 

یاد رہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی بلوچستان کے سب سے فعال بلوچ مسلح گروہوں میں سے ایک ہے۔ یہ گروہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں قائم ہوا، اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ صوبے میں وفاقی حکومت کے زیرِ اثر سیاسی، معاشی اور ثقافتی دباؤ کے خلاف لڑ رہا ہے۔ BLA کے رہنما اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بلوچستان کے وسیع قدرتی وسائل یعنی جیسے گیس، کوئلہ، معدنیات اور بندرگاہیں وفاقی حکومت کے زیرِ استعمال ہیں، جبکہ مقامی بلوچ عوام ان وسائل سے محروم ہیں۔ بی اہل اے نے گزشتہ دو عشروں میں کئی بڑے دہشت گرد  حملے کیے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز کے ٹھکانوں، فوجی چوکیوں اور انفراسٹرکچر پر کارروائیاں شامل ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں صوبے میں آزادی اور مقامی خودمختاری کے حصول کے لیے ہیں، جبکہ حکومت پاکستان نے BLA کو کالعدم قرار دے کر دہشت گرد تنظیم کے طور پر شناخت کیا ہے۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق، بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں سکیورٹی فورسز نے ایک آپریشن کے دوران 30 شدت پسند ہلاک کیے، جبکہ ضلع پنجگور میں 11 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے مشیر شاہد رند نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے چند مقامات پر شدت پسندوں نے حملے کی کوشش کی، جسے پولیس اور ایف سی نے ناکام بنایا۔ کوئٹہ میں دھماکوں اور فائرنگ کے بعد ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، اور سول سیکریٹریٹ، عدالتیں اور دیگر سرکاری دفاتر بند کر دیے گئے ہیں۔ مستونگ میں جیل پر حملے کے نتیجے میں متعدد قیدی فرار ہوئے، جبکہ مچھ میں مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

 

سکیورٹی اور انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق، شدت پسند گروہ ایک نئی حکمت عملی آزما رہے ہیں: وہ کسی ایک دن میں کسی شہر کو نشانہ بناتے، بینک لوٹتے، پھر شواہد مٹانے کے لیے عمارتیں جلا کر فرار ہو جاتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرزِ واردات کے تدارک کے لیے حساس مقامات کی سکیورٹی مزید سخت کی جا رہی ہے۔ شاہد رند نے کہا کہ فرار ہونے والے شدت پسندوں کا تعاقب جاری ہے اور سکیورٹی ادارے صوبے میں مکمل چوکس ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ حفاظتی اقدامات پر عمل کریں اور غیر ضروری خطرات مول نہ لیں۔ صوبے میں ایمرجنسی کے بعد وفاقی اور صوبائی سطح پر ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے، اور اہم راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں۔

 

دوسری جانب اپوزیشن کے مطابق بلوچستان میں بڑھتے ہوئے حملے حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اپوزیشن رہنما کہتے ہیں کہ سکیورٹی ادارے ابھی تک شدت پسندوں کے خطرات پر مؤثر کنٹرول قائم کرنے میں ناکام ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خود کو محفوظ رکھیں اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری اور مؤثر حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ دہشت گردوں کے حملوں کو روکا جا سکے۔ بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں شہری خوف و ہراس کی کیفیت میں ہیں۔ شہری بازاروں، دفاتر اور اسکولوں میں کم پہنچ رہے ہیں، اور کئی علاقوں میں ٹریفک معطل ہے۔ مستونگ اور مچھ کے مقامی لوگ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں، اور انتظامیہ نے مساجد کے ذریعے عوام کو حفاظتی ہدایات جاری کی ہیں۔

بلوچستان کے12 مقامات پر فتنہ الہندوستان کے 37 دہشتگرد جہنم واصل؍

بلوچستان میں بڑھتے ہوئے حملے بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا باعث بن رہے ہیں، کیونکہ صوبے میں سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت بروقت اقدامات نہ کرے تو شدت پسند گروہوں کی کارروائیاں مزید مہلک ہو سکتی ہیں اور صوبے کی معاشی ترقی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔بلوچستان میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے ساتھ سیاسی دباؤ بھی بڑھ گیا ہے۔ حکومت کو نہ صرف سکیورٹی کے چیلنجز کا سامنا ہے بلکہ عوامی اعتماد بحال کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی کے دعووں کے مطابق وہ صوبے کے وسائل پر مقامی کنٹرول چاہتے ہیں، جس کے باعث وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی تناؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

Back to top button