کیا کپتان حکومت کا خاتمہ واقعی چند دنوں کا کھیل ہے؟

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے کوشاں اپوزیشن جماعتوں کی قیادت اپنے سیاسی لائحہ عمل کو حتمی شکل دینے کے لئے لاہور میں اکٹھی ہو چکی ہے اور اسکا دعویٰ ہے کہ کپتان حکومت کا خاتمہ اب چند دنوں کا کھیل ہے۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو نکالنے کا منصوبہ ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت نہایت خفیہ رکھا جا رہا ہے اور پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت اپنے تمام کارڈز سینے سے لگائے ہوئے ہے۔
22 فروری کی رات شہباز شریف کی بلاول ہاؤس لاہور میں آصف زرداری کے ساتھ ایک طویل ملاقات کے بعد 22 فروری کے روز آصف زرداری، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن اپنے وفود کے ہمراہ پہنچے اور دوبارہ سے ایک طویل نشست ہوئی جس میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ہر پارٹی قائد نے اپنی پروگریس کے حوالے سے آگاہ کیا۔
ان ملاقاتوں کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے 24 حکومتی اراکین کی حمایت حاصل کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے دعوے کے مطابق قومی اسمبلی میں ان کے پاس 162 اراکین موجود ہیں جبکہ 24 حکومتی اراکین کی حمایت مل جانے کے بعد ان کے ووٹوں کی تعداد بڑھ کر 186 ہو جاتی ہے۔ یوں اپوزیشن کے دعوے کے مطابق انکے پاس وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے مطلوبہ 172 ووٹوں سے بھی 14 عدد زائد ووٹ موجود ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی وزیر اعظم عمران خان کی حکمران جماعت تحریک انصاف کے اندر ایک کپتان مخالف دھڑا علیحدہ ہو کر سامنے آئے گا، انکی چاروں اتحادی جماعتیں بھی انکا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن کے ساتھ شامل ہو جائیں گی۔ یوں اپوزیشن جماعتوں کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے خلاف 200 سے بھی زائد ممبران کی حمایت حاصل ہو جائے گی اور عمران کا بچنا محال ہو جائے گا۔
موم بتی بجھانے والی موبائل ایپ کی دھوم
یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی 156 سیٹیں ہیں جبکہ اسے چار اتحادی جماعتوں کے بیس ممبران اسمبلی کی حمایت بھی حاصل ہے۔ عمران کی اتحادی جماعتوں میں ایم کیو ایم کے 7، قاف لیگ کے 5، باپ پارٹی کے بھی پانچ جبکہ جی ڈی اے کے تین ممبران اسمبلی موجود ہیں، یوں حکومتی اتحاد کے کل ممبران قومی اسمبلی کی تعداد 176 بن جاتی ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے پاس 84 ممبران اسمبلی ہیں جبکہ تیسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے پاس 56 اراکین اسمبلی ہیں۔ اس کے علاوہ جمیعت علماء اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، جمہوری وطن پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی بھی اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہیں جن کے ممبران کی تعداد ملا جلا کر 22 بن جاتی ہے۔
یوں اپوزیشن کے ممبران قومی اسمبلی کی کل تعداد 162 بنتی ہے۔ اگر اپوزیشن کے دعوے کے مطابق اسے حکومتی جماعت کے 24 ممبران اسمبلی کی حمایت بھی حاصل گئی ہے تو عمران کے خلاف 186 ووٹ اکٹھے ہو جاتے ہیں جبکہ تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے 172 ووٹوں کی ضرورت ہے۔
تاہم دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپوزیشن کو چیلنج دیا ہے کہ اگر اس کے پاس تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے مطلوبہ تعداد میں ممبران اسمبلی موجود ہیں تو وہ آج ہی تحریک لے کر آئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ فواد کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اپنی تحریک عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ نمبرز حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی ہے اور اب آصف زرداری اور شہباز شریف پی ٹی آئی کے ممبران خریدنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
اپوزیشن ذرائع نے یہ الزام رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی باتیں حکومت کی شکست کا اظہار ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان مسلم لیگ ق اور اے این پی اور مسلم لیگ ن کی قیادت پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین اور جماعت اسلامی کو اعتماد میں لینے ان کی قیادت سے رابطے جاری رکھے گی۔ مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کو قریب لانے کا مشکل ٹاسک پیپلز پارٹی نے اپنے ذمےلے لیا ہے، آصف زرداری نے شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کو یقین دلایا ہے کہ وہ بہت جلد مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے دو بڑے شریف اور چوہدری خاندانوں کے تحفظات دور کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے.
پی ڈی ایم میں شامل مختلف جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کا ساتھ دینے کی صورت میں مولانا فضل الرحمن اور آصف زرداری حکمران جماعت کی اتحادی مسلم لیگ (ق) کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے کے حق میں ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) بالخصوص شاہد خاقان عباسی گروپ اِسکا مخالف ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ اتنی کم نشستوں کے ساتھ (ق) لیگ کی بجائے مسلم لیگ (ن) وزارت اعلیٰ پنجاب کی حق دار ٹھہرتی ہے کیوں کہ حکمران جماعت کے بعد (ن) لیگ کی ہی پنجاب اسمبلی میں اکثریت ہے۔ دوسری طرف مرکز کے لیے بھی ابھی تک کسی کے نام پر اتفاق نہیں ہوا۔
پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی جانب سے دو دو نام وزارت عظمیٰ کے لیے زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ کیس کے باعث شہبازشریف کی صورت میں پی ڈی ایم کو مشکلات کا سامنا ہوگا اِس لیے شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے آصف زرداری ترجیحاً بلاول بھٹو اور اُن کے بعد ایک بار پھر راجہ پرویز اشرف کا نام لیا جارہا ہے۔
حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن کو یقین ہے کہ وہ جہانگیر ترین گروپ اور بعض ناراض حکومتی اراکین کی حمایت کرلے گی اسی طرح حکمران جماعت بھی مطمئن ہے کہ اپوزیشن اوردیگر پارٹیوں کے بعض ارکان تحریک عدم اعتماد سے پرے رہیں گے۔
