تحریک لبیک کے کارکن کا انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ

فرقہ واریت سے ماورا اور مضبوط دلائل سے بھرپور گفتگو کرنے والے عالم دین انجینئر محمد علی مرزا سے تقریباً ہر مسلک کے لوگ ناراض رہتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں، جس کی وجہ سے انجینئر محمد علی مرزا کو اکثر عوامی رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اتوار کے روز بھی جہلم میں ایک مذہبی نشست اچانک خوف و ہراس میں بدل گئی جب انجینیئر محمد علی مرزا پر تحریک لبیک کے کارکن نے حملہ کرتے ہوئے ان کی جان لینے کی کوشش کی۔ لیکچر کے اختتام پر جاری فوٹو سیشن کے دوران ایک نوجوان نے مبینہ طور پر اُن پر جھپٹتے ہوئے ان کا گلا دبادیا تاہم موقع پر موجود افراد نے فوری مداخلت کرتے ہوئےملزم کو قابو کر کے پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے 26 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر کے اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تاہم اس واقعہ کا دلچسپ اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ حملہ آور نے کارروائی سے چند لمحے قبل مبینہ طور پر انتظامیہ کے ایک رکن سے کہا: ’’میری انجینیئر صاحب کے ساتھ تصویر بنا دو تاکہ یادگار رہے۔‘‘ بظاہر ایک معمولی سی درخواست کے پردے میں چھپا یہ مطالبہ چند سیکنڈ بعد ایک سنجیدہ واقعے میں بدل گیا۔ انجینیئر محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملے کا یہ واقعہ جہلم میں قائم اُن کی اکیڈمی میں پیش آیا، جہاں ہر اتوار کو درس و سوال و جواب کی نشست منعقد ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ انجینیئر محمد علی مرزا کو نشانہ بنایا گیا ہو؛ ماضی میں بھی اُن پر قاتلانہ حملوں کی کوششیں ہو چکی ہیں۔ تاہم تازہ واقعے نے ایک بار پھر مذہبی مباحث، اختلافِ رائے اور سکیورٹی کے سوالات کو قومی سطح پر زیر بحث لا کھڑا کیا ہے۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر سلیبرٹی کا درجہ حاصل کرنے والے انجینئر محمد علی مرزا کو زیادہ تر لوگ مسلک سے بالاتر ہو کر سب کو متحد کرنے والا عالم قرار دیتے ہیں، لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو ان سے سخت علمی اختلاف رکھتے ہیں۔ اپنے نام کے ساتھ انجینیئر کا لفظ استعمال کرنے والے محمد علی مرزا کو اکثر مختلف مسالک کی جانب سے ایک دوسرے کا ’ایجنٹ‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ کبھی اُنھیں احمدیوں کا ایجنٹ تو کبھی انہیں ’شیعہ ایجنٹ‘ بھی کہا گیا، تاہم ناقدین محمد علی مرزا کے خیالات کو دلیل سے رد کرنے کے بجائے اُن کی ذات کو نشانہ بنانے پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ پاکستانی سوشل میڈیا پر اپنے اچھوتے اور لبرل مذہبی نظریات کی وجہ سے تنازعات کا شکار رہنے والے عالم دین انجینیئر محمد علی مرزا اپنے غیر روایتی نظریات کی بنا پر اکثر زیرِ بحث رہتے ہیں۔جہلم سے تعلق رکھنے والے انجینئر محمد علی مرزا اسی شہر میں واقع اپنے مدرسے میں مختلف مذہبی موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں جس کے دوران لوگوں کے سوالوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
اتوار 15 فروری کے روز جہلم میں قائم ’’قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی‘‘میں اسی سوال و جواب کی نشست کے دوران ایک نوجوان نے تصویر بنانے کے بہانے انجینئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔ پولیس نے 26 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر کے اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والا ملزم صبح نو بجے اکیڈمی میں داخل ہوا اور مکمل سیشن میں موجود رہا۔ سیشن کے اختتام پر جب دوسرے شہروں سے آنے والے افراد کے لیے مخصوص کمرے میں فوٹو سیشن جاری تھا تو اُس نے مبینہ طور پر انتظامیہ کے ایک رکن سے کہا: ’’میری انجینیئر صاحب کے ساتھ تصویر بنا دو تاکہ یادگار رہے۔‘‘ وکیل محمد طاہر ایوبی کے مطابق جونہی ملزم انجینئر محمد علی مرزا کے قریب پہنچا تو اُس نے پہلے تحریک لبیک کا نعرہ لگایا اور پھر اچانک حملہ کرتے ہوئے عمامہ زمین پر گرا دیا اور دونوں ہاتھوں سے گلا دبا کر سانس روکنے کی کوشش کی۔ ہال میں موجود افراد کے شور مچانے پر سٹاف اور شرکا فوراً کمرے میں پہنچے، ملزم کو قابو کیا اور ڈیوٹی پر موجود پولیس کے حوالے کر دیا۔ واقعے کے فوراً بعد اکیڈمی کے دروازے بند کر کے تمام افراد کی تلاشی لی گئی تاکہ ملزم کے کسی ممکنہ ساتھی کی موجودگی کی تصدیق کی جا سکے۔ پولیس کے مطابق ملزم کی جیب سے شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا ہے اور اس کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 324 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
عمران خان کے اندھے پن کے ڈرامے کا ڈراپ سین کیسے ہوا؟
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ انجینیئر محمد علی مرزا کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ مارچ 2021 میں اُن پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہوئے مگر محفوظ رہے، جبکہ 2017 میں بھی ایک قاتلانہ حملے سے بچ گئے تھے۔ گزشتہ برس اُنہیں مبینہ توہینِ مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور دسمبر 2025 میں اڈیالہ جیل سے ضمانت پر رہائی ملی تھی۔ تاہم تازہ واقعہ نے ایک بار پھر مذہبی اختلافات، اظہارِ رائے کی حدود اور عوامی شخصیات کی سکیورٹی سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
