سٹیل ملز اراضی پر اکنامک زون کا قیام،  PMLNاورPPP آمنے سامنے کیوں؟

 

 

 

حالیہ دنوں دو حکومتی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے مابین وجہ تنازعہ بننے والا سپیشل اکنامک زون آرڈیننس صدر مملکت کی منظوری کے بعد واپس تو لے لیا گیا ہے مگر یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ آیا پیپلز پارٹی کو صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کے اجرا پر اعتراض تھا یا اسپیشل اکنامک زون ایکٹ میں کی گئی بعض ترامیم اور ان کے تحت متعارف کرائے گئے مخصوص اقدامات پر اختلاف تھا۔ اس حوالے سے حکام اور پیپلز پارٹی کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس معاملے نے نہ صرف اتحادی حکومت کے اندر اختلافات کو نمایاں کیا ہے بلکہ سرمایہ کاری، صنعتی پالیسی اور آئینی طریقۂ کار سے متعلق کئی اہم سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔

 

حکومت کا مؤقف ہے کہ سپیشل اکنامک زون آرڈیننس کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور خصوصی اقتصادی زونز کے نظام کو مؤثر بنانا تھا، تاہم پیپلز پارٹی کا اعتراض ہے کہ مجوزہ ترامیم کے تحت ٹیکس اور ڈیوٹی میں 2035 تک دس سالہ چھوٹ سے مقامی صنعتیں متاثر ہوں گی اور سمگلنگ میں اضافے کا خدشہ بھی پیدا ہوگا۔ جس کی وجہ سے وہ حکومتی آرڈیننس کی تائید کرنے سے انکاری ہے۔ دوسری جانب نون لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اصل میں آرڈیننس کے ذریعے پاکستان سٹیل ملز کی خالی پڑی اراضی پر اسپیشل اکنامک زون قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی، جس پر پیپلز پارٹی کی جانب سے بعض تحفظات سامنے آئے ہیں، تاہم اس معاملے پر پیپلز پارٹی سے مشاورت کی جائے گی اور اتفاقِ رائے سے ترامیم دوبارہ متعارف کرائی جائیں گی۔

معاشی ماہرین کے مطابق پیپلزپارٹی کے اعتراض پر واپس لیے گئے مجوزہ آرڈیننس میں ترامیم کے بنیادی مقاصد میں سرمایہ کاری کو آسان بنانا، انتظامی رکاوٹوں میں کمی، تنازعات کے فوری حل کو یقینی بنانا اور صنعتی و معاشی ترقی کو تیز کرنا شامل تھا۔ اس کے تحت سپیشل اکنامک زونز میں کام کرنے والی دس صنعتوں کو 30 جون 2035 تک انکم ٹیکس میں چھوٹ دینے کی تجویز شامل تھی۔ تنازعات کے تیز رفتار حل کے لیے عام عدالتوں کے بجائے سپیشل اکنامک زون اپیلیٹ ٹربیونل کے قیام کی بھی تجویز دی گئی تھی۔

 

ترمیمی آرڈیننس میں سپیشل اکنامک زونز ایکٹ 2012 میں تبدیلیوں کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے اختیارات کو واضح اور ہم آہنگ کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔ اس کے علاوہ وفاقی سپیشل اکنامک زونز اتھارٹی کے قیام کے لیے باقاعدہ قانونی بنیاد فراہم کرنے، اتھارٹی کی تعریف کو وسیع کر کے وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں کو شامل کرنے اور سپیشل اکنامک زون کے قیام کے لیے درخواست کے طریقہ کار کو واضح کرنے کی شقیں بھی شامل کی گئی تھیں۔ بڑے خصوصی اقتصادی زونز میں ایک سے زائد ڈویلپرز کو کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی، بشرطیکہ زون کا رقبہ کم از کم ایک ہزار ایکڑ ہو اور ہر ڈویلپر کو کم از کم پانچ سو ایکڑ فراہم کیے جائیں۔

ونڈر بوائے کے خوف نے شہباز شریف کو کس فیصلے پر مجبور کیا؟

تاہم جب ترمیمی آرڈیننس سامنے آیا تو انکشاف ہوا کہ یہ صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر جاری کیا گیا ہے،پیپلز پارٹی نے نہ صرف ان مجوزہ ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا بلکہ آرڈیننس کے اجرا کے طریقۂ کار کو بھی غیر آئینی قرار دیا۔ پارٹی کا مؤقف تھا کہ صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کرنا آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق اصل مسئلہ صرف آئینی طریقۂ کار تک محدود نہیں تھا بلکہ مجوزہ ترامیم کے معاشی اثرات بھی تشویشناک تھے۔ ان کے مطابق خصوصی اقتصادی زونز میں قائم صنعتوں کو 2035 تک دس سال کے لیے ٹیکس اور ڈیوٹی میں دی جانے والی چھوٹ سے مقامی صنعتیں متاثر ہوں گی، جو سبسڈی یافتہ صنعتوں کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے بلکہ عام مارکیٹ میں سستی مصنوعات کی فراہمی سے سمگلنگ کے رجحان میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے حکومتی ترامیم پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ آئندہ کے لائحہ عمل کے تعین کے لیے پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا گیا، تاہم اسی رات حکومت نے آرڈیننس واپس لینے کا اعلان کر دیا اور صدر کو سمری ارسال کی۔ صدرِ مملکت نے بدھ کے روز آرڈیننس واپس لینے کی سمری کی منظوری دی، جس کے بعد وزارتِ قانون نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔  اگرچہ اس اقدام سے وقتی طور پر اتحادی حکومت میں پیدا ہونے والا بحران ٹل گیا، تاہم دونوں بڑی اتحادی حکومتی جماعتوں کے مابین اسپیشل اکنامک زونز سے متعلق پالیسی پر تاحال اختلافات برقرار ہیں

Back to top button