غیر ملکی قرضوں سے ہر پاکستانی تین لاکھ 33ہزار کا مقروض

لامتناہی قرضوں پر عمران خان حکومت کو ہدف تنقید بنانے والے شہباز شریف نے اپنے دور اقتدار میں قرضوں کا ریکارڈ قائم کر دیا۔ صرف ایک سال جون 2024 سے جون 2025 کے دوران مجموعی عوامی قرضے 71.2 کھرب روپے سے بڑھ کر 80.5 کھرب روپے تک جا پہنچے۔ حکومت کی جانب سے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی بھرمار کے نتیجے میں آج ہر پاکستانی شہری اوسطاً 3 لاکھ 33 ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے، جس نے معیشت اور عوام دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

خیال رہے کہ یہ وہی شہباز شریف ہیں جو ماضی میں عمران خان کی حکومت کو قرضوں میں اضافے کو بنیاد بنا کر خوب تنقید کے نشتر چلاتے تھے اور ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ سابقہ حکومت نے ملک کو قرضوں کے دلدل میں دھکیل دیا، مگر اب سرکاری اعداد و شمار خود اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ شہباز شریف کے اپنے دورِ حکومت میں نہ صرف قرضوں کا تسلسل برقرار رہا بلکہ رفتار پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو گئی ہے۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی فِسکل پالیسی اسٹیٹمنٹ کے مطابق، مالی سال 2024-25 میں وفاقی حکومت مالی نظم و ضبط قائم رکھنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ قانونی طور پر مالی خسارے کی حد جی ڈی پی کا 3.5 فیصد مقرر ہے، مگر حکومت نے یہ خسارہ بڑھا کر 6.2 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔ یعنی شہباز شریف حکومت نے قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے قومی خزانے کو تقریبا 3 کھرب روپے کا اضافی نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے قرضوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ سود کی ریکارڈ ادائیگیوں اور روپے کی قدر میں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ جب حکومت کفایت شعاری کے دعوے کر رہی تھی تو پھر نئے محکمے کیوں قائم کیے گئے؟ وفاقی کابینہ میں توسیع کیوں کی گئی؟ نئی گاڑیاں، فرنیچر اور دیگر اخراجات کس ضرورت کے تحت کیے گئے؟ یہ تمام اقدامات اس وقت کیے گئے جب ملک پہلے ہی شدید مالی دباؤ کا شکار تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں سود کی ادائیگیوں پر 8.8 کھرب روپے خرچ ہوئے، جو کل آمدن کا بڑا حصہ نگل گئے۔ دفاعی اخراجات بھی بجٹ سے تجاوز کرتے ہوئے 2.2 کھرب روپے تک جا پہنچے، جبکہ ترقیاتی اخراجات کو کاٹ کر 1.4 کھرب روپے تک محدود کر دیا گیا۔ یوں ایک بار پھر ترقی قربان کر دی گئی اور قرضوں کا بوجھ بڑھا دیا گیا۔ سامنے آنے والے اعداد وشمار کے مطابق ٹیکس وصولیوں کی صورتحال بھی حوصلہ افزا نہیں رہی۔ مقررہ 13 کھرب روپے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 11.7 کھرب روپے وصول کیے جا سکے، یعنی حکومت اپنے ہی ریونیو اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اس کا براہِ راست اثر یہ ہوا کہ خسارہ پورا کرنے کے لیے مزید قرض لینے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں فی کس قرضہ 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے ہوگیا۔ اس طرح ایک سال کے دوران ہر پاکستانی پر قرضے میں تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی عوامی قرضہ 71.2 کھرب روپے سے بڑھ کر 80.5 کھرب روپے تک جا پہنچا، دوسری جانب وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں کل وفاقی اخراجات 18.9 کھرب روپے بجٹ کیے گئے تھے، جن میں سے موجودہ اخراجات 17.2 کھرب روپے تھے، یعنی وفاقی حکومت نے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد کے برابر اضافی اخراجات کیے۔ترقیاتی اخراجات 1.7 کھرب روپے کے مقابلے میں 1.4 کھرب روپے رہے،جبکہ دفاعی اخراجات بجٹ سے تجاوز کرتے ہوئے 2.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے، سود کی ادائیگیاں 8.8 کھرب روپے رہیں۔

8 فروری کو اپوزیشن کی احتجاجی کال ٹھس کیوں ہو جائے گی؟

دوسری جانب ماہرینِ معیشت کا حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اگر حکومت کی ملکی و غیر ملکی قرضوں کے حصول بارے یہی روش برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں قرضوں کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہو جائے گا۔ ہر نیا قرض دراصل آنے والی نسلوں کو گروی رکھنے کے مترادف ہے، جنہیں نہ صرف یہ قرض چکانا ہوگا بلکہ اس پر بھاری سود بھی ادا کرنا پڑے گا۔حکمران طبقات کو قرضوں سے نجات کیلئے اپنی مراعات کم کرنے، نظام میں اصلاحات لانے اور وسائل کو درست سمت میں استعمال بارے ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے ورنہ آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کرینگی۔

Back to top button