روس اوریوکرین کےمابین جنگی قیدیوں کاتبادلہ

روس اور  یوکرین کےدرمیان متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں ایک بارپھرجنگی قیدیوں کا تبادلہ ہوا۔

روسی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہےکہ روس اور یوکرین کے درمیان206 جنگی قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔روس نےیوکرین کےایک103 اور یوکرین نےبھی روس کے 103 جنگی قیدی رہا کیے ہیں۔رہاہونے والے افراد یوکرین کےکورسک ریجن میں ہونے والی لڑائی کے دوران قیدی بنائے گئے تھے۔

 امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس نےواضح کیا ہے کہ یوکرین پر اس بات کی پابندی برقرار ہے کہ وہ روس کے اندرونی علاقوں تک مار کرنے کی صلاحیت کے حامل امریکی میزائلوں سے حملے نہ کرے۔

امریکا کی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نےکہاہے کہ اس معاملےپرامریکی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ اس میں فی الحال تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں۔

امریکی وضاحت پرروس کےصدارتی ترجمان نے ردعمل دیتے ہوئےکہاکہ نتائج سے خبردار رہنے سے متعلق پیوٹن کا پیغام متعلقہ جگہ پرپہنچ گیا۔

امریکی صدارتی انتخابات : پوپ فرانسس نے کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کردی

خیال رہےکہ روسی صدرپیوٹن نےکہا تھا کہ نیٹو ممالک نہ صرف یوکرینی فوج کو روس کےاندرونی علاقوں تک مارکرنےوالےمیزائل استعمال کرنے ی اجازت کےامکان پربات کررہےہیں بلکہ وہ یوکرین تنازع میں خود بھی شامل ہونے پرغورکررہےہیں۔

Back to top button