مہنگی بجلی پر ہڑتال کرنے والے تاجروں کی منجی ٹھوک دینی چاہیے؟

تاجروں کو بجلی کے بلوں پر ہڑتال کا کوئی حق نہیں ہے۔ کیونکہ آج ہم جن معاشی مسائل کا شکار ہیں ان میں انہی تاجروں کا بنیادی قصور ہے۔تاجروں نے جب مہنگی بجلی کے بلوں پر دکانیں بند کرنے کا سلسلہ شروع کر ہی دیا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ صرف ان تاجروں کو دکانیں کھولنے کی اجازت دے جو ٹیکس فائلر ہیں۔جو ٹیکس فائلر نہیں ہیں ان کو دکانیں کھولنے کی ویسے ہی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ملک توانائی بحران کا شکار ہے۔ ان تاجروں کو سمجھایا گیا کہ اگر آپ دکانیں رات کو جلد بند کر دیں گے تو پاکستان کے اربوں ڈالر بچ جائیں گے۔لیکن انہیں کوئی پرواہ نہیں۔ اسے اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ پاکستان کے لیے ایک ارب ڈالر کی کتنی اہمیت ہے۔ دکانیں جلدی بند کرنے سے پاکستان کے معاشی مسائل میں کمی ممکن ہے لیکن تاجر ایسا نہیں سوچتے انہیں صرف اپنے منافع کی فکر ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروری نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ملک میں بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے احتجاج جاری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ ہر گھر بجلی قیمتوں سے پریشان ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ اضافہ ایک دن میں نہیں ہوا ہے۔ گزشتہ دس سال سے ملک میں بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔یہ اضا فہ اب عام آدمی کی برداشت سے باہر ہو گیا ہے۔بجلی کے بل نے متوسط طبقہ کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اسے سمجھ نہیں آرہا کہ دوبارہ پتھروں کے دور میں کیسے واپس چلا جائے جہاں بجلی کا کوئی تصور ہی نہ ہو۔ عام آدمی اندھیروں میں واپس جانا چاہتا ہے لیکن یہ ظالم سماج اسے جانے نہیں دے رہا۔ لوگ سارے گھر سمیت ایک کمرے میں رہنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ا یک کمرے والے ایک کمرے کا بل دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔ بجلی کا بل سب کے لیے ایک مسئلہ بن گیاہے۔مگر تاجروں کو بجلی کے بلوں پر ہڑتال کا کوئی حق نہیں ہے۔ مزمل سہروری کہتے ہیں کہ ہماراتاجر ٹیکس نہیں دیتا۔ کیا ٹیکس نہ دینے والے تاجروں کو ملک میں احتجاج کا حق ہونا چاہیے؟ ہمارا تاجر ٹیکس دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ لیکن مہنگی بجلی کے بلوں پر احتجاج کرنے کے لیے تیار ہے۔ رات کو جلدی دکانیں بند کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن احتجاج کے لیے تیار ہیں ۔ لیکن ملک کے توانائی بحران پر اس تاجر کو کوئی پرواہ نہیں۔ وہ رات دیر تک دکانیں کھولنے پر بضد رہا۔ ملک میں انتخابات کا موسم ہے اس لیے کوئی بھی سیاسی حکومت ان کی ناراضگی مول لینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔اس لیے دکانیں رات کو جلدی بند کرانے پر سب ناکام رہے۔ اس ملک میں جو فرد بھی جو فائلر نہیں ہے اس کو پاکستان میں کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔پاکستان کا تنخواہ دار طبقہ ٹیکس دینے پر مجبور ہے۔ اسے تاجر جیسی ٹیکس نہ دینے کی کوئی سہولت حاصل نہیں۔ اس کو ٹیکس کاٹ کر تنخواہ دی جاتی ہے۔
اس لیے پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس تنخواہ دار طبقے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔دنیا ہمیں سمجھا رہی ہے کہ پاکستان جب تک اپنے ٹیکس کی محصولات میں اضافہ نہیں کرے گا تب تک ہم اپنے معاشی مسائل حل نہیں کر سکتے۔ جب تک سب ٹیکس نہیں دیں گے پاکستان کے معاشی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔مزمل سہروری کہتے ہیں کہ ہم نے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی بہت کوشش کی ہے۔ ان کے لیے ٹیکس مراعات کا بھی اعلان کیا ہے۔لیکن تاجر ان مراعات کے باوجود ٹیکس دینے کے لیے تیارنہیں ہوا۔ہم نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں کے ذریعے ان کو ٹیکس کلچر میں لانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ناکام رہے۔ ریاست آج تک ان کے سامنے ناکام اور سرنگوں ہی رہی ہے۔ یہ ٹیکس دینے کے لیے پہلے ہی تیار نہیں ہیں اور اب بجلی کے بل دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔
سوال یہ ہونا چاہیے کہ جس کو ہزاروں لاکھوں روپے بجلی کا بل آیا ہے اس کی دکان ٹھیک چل رہی ہے،وہ ٹیکس کتنا دیتا ہے۔ جس نے بجلی کے بل پر احتجاج کرنا ہے وہ اپنی ٹیکس ریٹرن سامنے لائے۔ وہ بتائے اس کا کیا کاروبار ہے۔جب کاروبار ہی نہیں ہے تو بل کیسے آگیا۔ اگر بل آیا ہے تو کاروبار پر ٹیکس ریٹرن کیوں نہیں دیتا۔ نگران حکومت کی تو کوئی سیاسی مجبوریا ں نہیں ہیں۔ انھوں نے تو کسی سے ووٹ نہیں لینا۔ انھیں چاہیے کہ اب ان سب نے جب دکانیں بند کرنے کا سلسلہ شروع کر ہی دیا ہے تو پھر ٹیکس ریٹرن سے پہلے دکانیں کھلنی نہیں چاہیے۔ ان کے آمدن اور اثاثے چیک ہونے چاہیے۔پہلے ٹیکس دیں پھر دکانیں کھولیں۔ جب یہ ٹیکس دیں گے تو بجلی خود بخود سستی ہو جائے گی۔ انھی کی وجہ سے مہنگی ہے اور یہی مہنگی بجلی پر
پرویز الٰہی کی بازیابی کی درخواست غیر مؤثر ہونے پر نمٹادی گئی
احتجاج کر رہے ہیں۔
