فیض حمید اپنے دور میں مفرور افراد کو پناہ بھی دیتے رہے

 

 

پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل اور معروف قانون دان انعام الرحیم نے دعوی کیا ہے کہ 14 برس قید کی سزا پانے والے فیض حمید اپنے دورِ میں قانون سے مفرور مطلوب افراد کو مالی مفادات کے عوض پناہ بھی فراہم کرتے رہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ فیض حمید نہایت محفوظ اور حساس علاقے میں رہائش پذیر تھے، جو طاقت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ اسی طاقت اور اثر و رسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ مطلوب افراد کو جائے پناہ فراہم کرتے رہے، ویسے بھی اس زمانے میں انہیں کوئی پوچھ گچھ کرنے والا نہیں تھا۔

 

ایک انٹرویو میں کرنل (ر) انعام الرحیم نے کہا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں فیض حمید کو غیر معمولی اختیارات حاصل تھے۔ ان کے مطابق فیض حمید نے اس قدر طاقت سمیٹ لی تھی کہ وہ خود کو ناقابلِ گرفت سمجھنے لگے تھے، لیکن طاقت کا یہ زعم ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے اسی نشے نے فیض حمید کو دوسروں کو زیر کرنے کی روش پر ڈال دیا، جو بالآخر مکافاتِ عمل کی صورت میں ان کے سامنے آیا اور آج وہ بھی اپنے لیڈر عمران خان کی طرح جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔

 

کرنل (ر) انعام الرحیم کے مطابق سیاست میں ملوث ہونے اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر فیض حمید کو 14 برس قید با مشقت کی سزا سنائے جانے کے بعد صورتحال نے نیا رخ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب وہی فیض حمید، جو خود کو ناقابلِ احتساب سمجھتے تھے، اپنی سزا میں رعایت حاصل کرنے کے لیے عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے پر آمادہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وعدہ معاف گواہ بننے کی گنجائش قانون میں موجود ہے اور یہ سہولت ہر اس شخص کو حاصل ہو سکتی ہے جو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تعاون پر آمادہ ہو۔ تاہم انہوں نے کہا کہ فیض کے جرائم اتنے زیادہ ہیں کہ اس کو معافی دینے سے کورٹ مارشل کا مقصد فوت ہو جائے گا اور فیض کے ٹرائل سے فوج کے رینک اینڈ فائل کو جو پیغام گیا ہے وہ ریورس ہو جائے گا۔

فیض حمید کے بعد عمران اور ثاقب نثار کا احتساب کیوں لازمی ہے

فیض حمید کے ممکنہ مستقبل پر بات کرتے ہوئے کرنل (ر) انعام الرحیم نے کہا کہ فیض حمید اپنے طور پر آرمی چیف بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ خود کو اتنا طاقتور سمجھتے تھے کہ انہوں نے ائین اور قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہ صرف لوگوں کو اغوا کیا بلکہ ان کی زمینوں پر بھی قبضے کیے۔ انہوں نے نہ صرف عمران خان کے سیاسی مخالفین کو نشان عبرت بنایا بلکہ کئی صحافیوں پر بھی حملے کروائے۔ تاہم وہ بالآخر اپنے ہی بنائے شکنجے میں کس دیے گئے۔

کرنل (ر) انعام الرحیم کے مطابق فیض حمید کے خلاف فوجی قوانین کے تحت باقاعدہ کورٹ مارشل کی کارروائی عمل میں لائی گئی، جس میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات کے ناجائز استعمال، ادارہ جاتی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی اور ریاستی مفادات کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات ثابت ہوئے۔ ان کے بقول انکوائری اور ٹرائل کے دوران پیش کیے گئے شواہد اس قدر مضبوط تھے کہ دفاع کے لیے کوئی مؤثر گنجائش باقی نہ رہی۔ اسی بنیاد پر فوجی عدالت نے انہیں 14 برس قید با مشقت کی سزا سنائی، جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ ادارہ اپنے اندر احتساب کے عمل کو سنجیدگی سے نافذ کرتا ہے اور کسی بھی عہدے یا سابق حیثیت کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا۔ ایسے میں اگر فیض حمید وعدہ معاف گواہ بن بھی جائیں تو ان کی سزا مکمل طور پر معاف کیے جانے کا کوئی امکان نہیں۔

Back to top button