کورٹ مارشل مکمل ہونے پر فیض حمید کو مکافات عمل کا سامنا

کورٹ مارشل کے نتیجے میں ممکنہ طور پر سخت ترین سزا کا سامنا کرنے والے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے اپنے دور میں جو بویا تھا آج وہی کاٹ رہے ہیں۔ مکافات عمل کا سامنا کرنے والے فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی 13 نومبر کو مکمل ہو گئی تھی اور اب اگلے چند دنوں میں انہیں سخت ترین سزا سنائی جانے والی ہے۔
یاد رہے کہ بطور آئی ایس آئی چیف وہ اپنے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی زیادہ طاقتور تھے چونکہ انہیں وزیر اعظم عمران خان کے انتہائی قریب خیال کیا جاتا تھا اور وہ اہم ترین حکومتی فیصلہ سازی میں بھی شامل ہوتے تھے۔ فیض حمید محض حساس ادارے کے سربراہ نہیں تھے بلکہ سیاست، حکومتی فیصلوں، اور عدلیہ پر بھی اثر انداز ہوتے تھے۔ یہی الزامات آگے چل کر ان تحقیقات کا باعث بنے جن کا اختتام ایک باضابطہ فوجی کورٹ مارشل پر ہوا، جس کا فیصلہ بہت جلد سنایا جانے والا ہے۔
فیض حمید کے خلاف کارروائی کا باضابطہ آغاز تب ہوا جب ایک نجی ہاؤسنگ پراجیکٹ کے مالک نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کی رہائش گاہ اور دفاتر پر حساس ادارے کے اہلکاروں نے چھاپے مارے اور قیمتی سامان تحویل میں لیا۔ اس واقعے کی انکوائری کے لیے سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا جس کے نتیجے میں فوج نے آرمی ایکٹ کے تحت تفتیش شروع کی۔ اگرچہ فوج نے اس کارروائی کو تکنیکی اور قانونی دائرے میں رکھنے پر زور دیا، مگر یہ معاملہ جلد ہی ایک وسیع تر سیاسی و ادارہ جاتی بحث میں بدل گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اصل کہانی عمران خان کے دورِ حکومت میں جڑ پکڑتی ہے، جب فیض حمید کو نہایت بااثر اور حکومتی فیصلوں پر اثرانداز سمجھا جاتا تھا۔ عمران خان کی کمزور پارلیمانی اکثریت اور مسلسل اتحادیوں کے دباؤ نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس میں سیاسی حلقوں کے مطابق خفیہ اداروں کا اثر غیر رسمی طور پر بڑھا، اور فیض حمید کا کردار نمایاں دکھائی دینے لگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو استحکام دینے، انک کی اتحادی جماعتوں کو ساتھ رکھنے، اپوزیشن کی قیادت کو دبانے اور حکومتی بیانیے کو مضبوط کرنے میں فیض حمید پیش پیش رہتے تھے۔ اسی لیے وہ پاکستانی سیاسی تاریخ کے متنازعہ ترین آئی ایس آئی سربراہ بن چکے تھے جس کا اگلا ٹارگٹ فوجی سربراہ بننا تھا۔
فیض حمید کے دور میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس شوکت عزیز نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ حساس مقدمات خاص طور پر سیاسی نوعیت کے کیسز میں جنرل فیض حمید کی جانب سے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ کچھ ججوں نے یہاں تک کہا کہ فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے لیے غیر معمولی طریقے استعمال ہوئے، تاہم فیض حمید کے خلاف ایکشن لینے کی بجائے تب کے چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ہی برطرف کر دیا۔ تاہم فیض حمید کی فراغت کے بعد ثابت ہو گیا کہ ملک کی اعلی عدلیہ پر فیض حمید کا غیر معمولی اثر رسوخ تھا۔
اپوزیشن جماعتوں کی قیادت نے بھی فیض دور میں بارہا یہ دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف بنائے جانے والے مقدمات، گرفتاریوں اور دیگر انتقامی کارروائیوں کے پیچھے آئی ایس آئی کا فیض نیٹ ورک کارفرما تھا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت کئی جماعتوں نے تب یہ مؤقف اختیار کیا کہ احتسابی ڈھانچے کو سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جا رہا۔ اس پس منظر کو وہ عمران خان اور فیض حمید کے باہمی تعلقات سے جوڑتے رہے کیونکہ تب آئی ایس آئی کا سربراہ عمران کے ذاتی ملازم کے طور پر ان کے مفادات کا تحفظ کر رہا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ فیض حمید ہر صورت آرمی چیف بننا چاہتے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے عمران خان کو جنرل عاصم منیر کی مخالفت پر راضی کر لیا تھا۔
تاہم 9 مئی 2023 کو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال بدل گئی۔ اس روز ہونے والے بدترین احتجاج اور حملوں نے سیاسی انتشار کو نئی سطح پر پہنچا دیا۔ بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ 9 مئی کے حملوں کی سازش جنرل فیض حمید نے عمران خان کے مشورے سے تیار کی تھی جس کا مقصد فوج میں بغاوت کو ہوا دینا تھا۔ اسی تناظر میں فیض حمید کا کردار دوبارہ سوالات کی زد میں آیا۔ جب یہ ثابت ہو گیا کہ فیض حمید ریاست کے خلاف سازش کر رہے تھے تو اگست 2024 میں انہیں فوجی تحویل میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہوئی۔
چارج شیٹ کے مطابق، فیض حمید پر فوج میں بغاوت کی سازش، سیاست میں مداخلت، اپنے اختیار کے غلط استعمال، حساس معلومات کے غیر مجاز استعمال، اور ایسے روابط کے الزامات ہیں جنہیں فوجی نظم و نسق کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ فوجی عدالتوں کی کارروائیاں بند دروازوں کے پیچھے ہوتی ہیں، اس لیے ایسے کیسز کی تفصیلات عام لوگوں تک نہیں پہنچتیں، مگر اس کے باوجود فیض کا ٹرائل ملک بھر میں بے پناہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس صورتحال میں ایک اہم سوال عمران خان اور فیض حمید کے مبینہ تعلق کے بارے میں بھی اٹھتا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس تاثر کو تقویت ملی کہ دونوں کے درمیان باہمی اعتماد اور سیاسی مفادات کی ہم آہنگی ایک عرصے تک برقرار رہی۔
استعفے دینے والے ججز کوئی تحریک کیوں شروع نہیں کر پائے؟
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ فیض حمید کے اثرورسوخ نے عمران خان کی حکومت کو استحکام دینے میں کردار ادا کیا، جبکہ عمران خان کے دور میں انہیں غیر معمولی اختیار اور آزادی میسر رہی۔ تنقید کرنے والے حلقے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دونوں نے اپنے اپنے مفادات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک دوسرے پر انحصار کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فیض حمید کا کورٹ مارشل پاکستان میں ریاستی اداروں کے کردار وہ بھی بے نقاب کرتا ہے۔ فیض حمید جیسے طاقتور فوجی افسر کے خلاف کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ اب فوج جیسے ادارے بھی اپنی داخلی ساخت میں ایسے کرداروں پر سوال اٹھنے لگے ہیں جن پر حد سے تجاوز کا الزام ہو۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق فیض حمید کے کورٹ مارشل کا جو بھی فیصلہ ہو، اس کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
