فیض حمید کو اپیل کا حق تو ہے، لیکن معافی کا امکان نہیں

 

 

 

سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو کورٹ مارشل کے نتیجے میں سنائی گئی 14 برس قید بامشقت کی سزا کے خلاف اپیل کا حق تو موجود ہے، تاہم آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق انہیں اپیل میں کسی بھی قسم کی رعایت ملنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے، کیونکہ سزا ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سنائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ قانون کے مطابق فیض حمید اپنی سزا کے خلاف اپیل آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو کر سکتے ہیں۔

 

آئینی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ فیض حمید کے خلاف کارروائی کے آغاز سے پہلے ہی مختلف اداروں کے ذریعے جامع تحقیقات کی گئیں اور شواہد اکھٹے کیے گئے، جس کے بعد باقاعدہ کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی تاکہ کسی قسم کی کمزوری باقی نہ رہے۔ ان کے مطابق اگر سابق جنرل اپیل دائر کرتے ہیں تو بھی سزا برقرار رہنے کا قوی امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ریاستِ پاکستان کے خلاف کسی بھی نوعیت کی سازش کرنے والے عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ قومی وحدت کو خطرے میں ڈالنے والوں کے لیے اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

 

قانونی حلقوں کے مطابق اس فیصلے کے بعد مزید اہم فیصلے بھی سامنے آسکتے ہیں، جب کہ کچھ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور فیض حمید مستقبل میں اکٹھے بھی کٹہرے میں نظر آسکتے ہیں، اور ان کے خلاف کارروائی یا سزا کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اب گڈ ٹو سی یو نہیں بلکہ بیک ٹو سی یو کا وقت ہے۔

 

سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اپیل مجرم کا بنیادی حق ہے، مگر اپیل میں کیس کے نکات اور شہادتوں کا ازسرنو جائزہ لیا جاتا ہے۔ انہیں ٹھوس شواہد کو پرکھا جاتا ہے جن کی بنیاد پر سزا سنائی گئی ہو۔ ماہرین کے مطابق کورٹ مارشل سے قبل ابتدائی انکوائری میں شواہد تفصیل سے اکٹھے کیے جاتے ہیں، انہیں باریک بینی سے دیکھا جاتا ہے، اور مناسب شہادتوں کی موجودگی میں ہی کیس فوجی عدالت میں بھیجا جاتا ہے۔ اسی اصول پر فیض حمید کے خلاف کارروائی کی گئی اور ان کے کیس میں پیش کیے گئے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا گیا۔

 

آئینی اور قانونی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس مقدمے میں شہادتوں میں کسی قسم کی کمزوری کا امکان دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ یہ معاملہ صرف سزا دینے کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی ساکھ کے تحفظ کا بھی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات، ملکی سلامتی کو درپیش خطرات اور فوج کے خلاف جاری سازشوں کے تناظر میں کمزور شہادت پر سزا ممکن نہیں تھی۔ یہ پاکستان کی ایٹمی طاقت، اس کی افواج کے وقار اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کا معاملہ ہے۔

 

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے بعد پاکستان ایک مضبوط اور مستحکم ریاست کے طور پر مسلم دنیا میں ابھر رہا ہے، اور عوام اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق فیض حمید کو جی ایچ کیو کی جانب سے مکمل مواقع فراہم کیے گئے اور یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ فوج کا داخلی احتسابی نظام نہ صرف فعال ہے بلکہ کسی بھی فرد کو، خواہ وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، آئین اور قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا۔ یہ اقدام پاکستان کی ریاست اور فوج کی مضبوطی کا واضح اظہار ہے، جس سے پوری دنیا کو یہ پیغام ملا ہے کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر کوئی رعایت ممکن نہیں۔

 

قانونی ماہرین کے مطابق فیض حمید کے باہر آنے کا امکان اس لیے بھی نہیں کہ ان کے خلاف ممکنہ طور پر ایک اور کورٹ مارشل کی کارروائی بھی شروع ہونے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ فوجی ترجمان کی جانب سے کورٹ مارشل کے بعد لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 برس قید با مشقت کی سزا سنانے کے اعلامیے کا آخری پیرا خاصا معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے، اس اعلامیے سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے لیے مشکلات کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے اور قوی امکان ہے کہ اُنھیں 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی سازش کے الزام پر ایک اور کورٹ مارشل بھگتنا پڑ جائے۔ سیاسی حلقوں میں یہ افواہ بھی زوروں پر ہے کہ اگر 9 مئی کے حملوں کی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا تو سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے لیے بھی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔

فیض حمید کیخلاف الزامات ثابت کرنے میں FIA کا مرکزی کردار

آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے آخری حصے میں کہا گیا ہے کہ ’فیض حمید کے خلاف سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر انتشار پیدا کرنے اور سیاسی عدم استحکام پھیلانے سمیت دیگر متنازعہ معاملات علیحدہ طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔‘ اس جملے نے یہ تاثر دیا ہے کہ فیض حمید کو سنائی گئی سزا ان کی کہانی کا اختتام نہیں ہے۔ فوجی ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کا آخری پیرا واضح اشارہ ہے کہ 9 مئی کے حوالے سے ابھی مزید پیش رفت بھی متوقع ہے، اور اس کی زد میں آنے والے ناموں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

 

دفاعی امور کے تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حارث نواز کے مطابق یہ معاملہ صرف فیض حمید تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں کے نام بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ باجوہ کے خلاف کارروائی کے امکانات کم ہیں کیونکہ بہت سے معاملات میں ڈی جی آئی ایس آئی اپنی مرضی سے آزادانہ فیصلے کرتے ہیں۔

Back to top button