فیض حمید کورٹ مارشل ہونے والے چکوال کے تیسرے فوجی افسر

انٹر سروسز انٹیلیجنس کے متنازع ترین سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائیرڈ فیض حمید پنجاب کے ضلع چکوال سے تعلق رکھنے والے پہلے فوجی افسر نہیں جنہیں کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماضی میں میجر جنرل تجمل حسین ملک اور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال ملک بھی کورٹ مارشل کا شکار ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ ماضی میں چکوال کے گاؤں تھنیل کمال سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل تجمل حسین ملک اور بوچھال گاؤں سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کا بھی کورٹ مارشل ہوا تھا اور دونوں کو چودہ چودہ برس قید کی سزا دی گئی تھی۔
میجر جنرل تجمل حسین ملک کا کیس تب سامنے آیا جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کر کے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت برطرف کی۔ تجمل حسین ملک نے مارشل لا کے نفاذ پر جنرل ضیاء الحق سے شدید اختلاف کیا تھا۔ انہوں نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کر کے مارشل لا نافذ کرنے والے جنرل ضیاء الحق کو گرفتار کر کے قوم کے سامنے پیش کیا جائے اور اس سے یہ اعتراف کروایا جائے کہ اس نے ایک سازش کے تحت پہلے مارشل نافذ کیا اور پھر بھٹو کو پھانسی دی۔
یہ تمام تفصیل خود میجر جنرل تجمل حسین ملک نے اپنی کتاب The Story of My Struggle میں بیان کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ: میرا ارادہ قتلِ عام کا نہیں تھا۔ میں خون بہا کر انقلاب نہیں لانا چاہتا تھا۔ میرا منصوبہ یہ تھا کہ ضیاء الحق کو گرفتار کر کے قوم کے سامنے لایا جائے تاکہ وہ اپنے جرائم تسلیم کرے۔ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کر کے نہ صرف آئین توڑا بلکہ فوج کو سیاست کی دلدل میں گھسیٹ لیا۔ میں ضیا کو ایک کمانڈر نہیں بلکہ ایک قاتل اور حادثاتی حکمران سمجھتا تھا۔ اگر میں جنرل ضیاء الحق کی آئین شکنی پر خاموش رہتا تو تاریخ مجھے بزدل کہتی، اور اگر کوئہ قدم اٹھاتا تو غدار کہلاتا۔ لہٰذا میں نے اپنے ضمیر کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تاکہ تاریخ میں مجھے بزدل نہ لکھا جائے۔
میجر جنرل تجمل حسین ملک اپنی کتاب میں مزید لکھتے ہیں کہ جب انکی گرفتاری اور کورٹ مارشل ہوا اور انہیں ریاست کے خلاف مجرم قرار دیا گیا تو وہ مسکرا دیے، کیونکہ انکے نزدیک ریاست وہ ہوتی ہے جو آئین کے تحت چلتی ہو، نہ کہ کسی فرد یا گروہ کے تحت جیسا کہ ضیا دور میں ہو رہا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں فوج سے نکال دیا گیا لیکن ان کا یہ موقف درست ثابت ہوا کہ پاکستان کو بالآخر آئین، انصاف اور عوام کی طرف لوٹنا ہی ہو گا، ورنہ وردی بدلتی رہے گی اور نظامِ حکمرانی جوں کا توں رہے گا۔ اپنی قید کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ تنہائی انسان کو یا تو توڑ دیتی ہے یا خود شناسی عطا کرتی ہے، اور انہوں نے جیل میں سیکھا کہ اصل طاقت بندوق میں نہیں بلکہ سچ پر ڈٹے رہنے میں ہے۔ اس طرح وہ خود کو شکست خوردہ نہیں بلکہ ثابت قدم شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
میجر جنرل تاجمل حسین ملک، سزا اور رہائی کے بعد 1988 میں سیاست میں آئے اور تحریکِ انقلابِ اسلام کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا۔ انہوں نے چکوال سے قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا اور یہ اپنایا کہ پاکستان کا نو آبادیاتی نظام ناقابلِ قبول ہے اور اسے ایک اسلامی نظام میں تبدیل ہونا چاہیے۔
چکوال سے تعلق رکھنے والے دوسرے فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال ملک کا کورٹ مارشل 2019 میں ہوا، ان پر جاسوسی کا الزام تھا۔ اس کیس میں ان کے ساتھ بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان اور ایک سویلین ڈاکٹر وسیم اکرم کو بھی مجرم قرار دیا گیا۔ ان لوگوں پر الزام تھا کہ انہوں نے اہم ترین پاکستانی راز امریکہ میں فروخت کیے۔ اس مقدمے کا فیصلہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سنایا، جسکی توثیق تب کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی۔ اس کیس میں تینوں ملزمان کو سزا سنائی گئی، جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال ملک کو بھی 14 سال قید کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی طرح کورٹ مارشل کا شکار ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا تعلق ضلع چکوال کے ایک معمولی کاشتکار گھرانے سے بتایا جاتا ہے۔ ان کے والد کھیتی باڑی سے وابستہ تھے اور انکے خاندان نے محدود وسائل میں زندگی گزاری۔ ان کے ایک بھائی محکمہ مال میں پٹواری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ ان کے دوسرے بھائی کھیتوں میں ٹریکٹر چلاتے ہوئے حادثاتی طور پر نیچے گر کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ فیض حمید نے فوج میں مختلف حساس ذمہ داریاں نبھائیں اور لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ تاہم 11 دسمبر کو انہیں بھی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی، یوں وہ بھی چکوال سے تعلق رکھنے والے ان سینیئر فوجی افسران کی فہرست میں شامل ہو گئے جنہیں کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا۔
