فیض حمید پر جنرل کا ٹائٹل استعمال کرنے پر پابندی کا امکان

سینیئر صحافی زاہد کشکوری نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہو گئی ہے، جس کے بعد اگلے چند روز میں انہیں ممکنہ طور پر سخت ترین سزا سناتے ہوئے ان پر ریٹائرڈ جنرل کا ٹائٹل استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی جائے گی۔

اس سے پہلے سوشل میڈیا پر کئی روز سے گردش کرنے والی مختلف پوسٹس میں یہ دعوی کیا جا رہا تھا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جنرل (ر) فیض حمید کو تا حیات قید کی سزا سنادی گئی ہے اور ان کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کرنے کے علاوہ پنشن و مراعات ختم جبکہ بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی نہ تو حکومتی سطح پر تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی عسکری ذرائع نے کوئی مؤقف جاری کیا ہے۔ عموماً اس نوعیت کے فیصلوں کا اعلان آئی ایس پی آر کی جانب سے باضابطہ بیان کے ذریعے کیا جاتا ہے، لیکن اس حوالے سے اب تک کوئی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔ لیکن باخبر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فیض حمید کو اگلے چند روز میں سزا سنائے جانے کا امکان ہے کیونکہ ان کا فوجی ٹرائل مکمل ہو چکا ہے۔

سینیئر صحافی زاہد کشکوری نے مزمل سہروردی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جنرل (ر) فیض حمید کا 12 اگست 2024 کو شروع ہونے والا ٹرائل 457 روز بعد 17 نومبر 2025 کو مکمل ہو چکا ہے۔ ان کے بقول جنرل فیض حمید کو سخت ترین سزا کا سامنا ہے اور یہ امکان موجود ہے کہ اب انہیں اپنے نام کے ساتھ ’’ریٹائرڈ جنرل‘‘ کا ٹائٹل استعمال کرنے کی بھی اجازت نہ ہو۔ یاد رہےکہ جنرل فیض حمید کی گرفتاری کے بعد ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی اگست 2024 میں شروع کی گئی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ وہ سیاست میں مداخلت کے مرتکب ہوئے، اسکے علاوہ انہوں نے آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کی، ریاستی مفادات کو نقصان پہنچایا، اور اپنے اختیارات و سرکاری وسائل کا غلط استعمال کیا۔

جنرل فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران 9 مئی 2024 کو فوجی تنصیبات پر حملوں اور انکے پیچھے موجود محرکات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیقات میں یہ پہلو بھی شامل تھا کہ آیا فیض حمید نے کسی سیاسی جماعت یا شخصیات کے ساتھ مل کر ایسے واقعات کو منصوبہ بندی کے تحت ہوا دی۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، جس کی سزائیں انتہائی سخت تصور کی جاتی ہیں۔ ان واقعات کے سلسلے میں پہلے ہی دو سو سے زائد فوجی افسران اور اہلکاروں کے خلاف پہلے ہی کارروائی ہوچکی ہے اور یہ امکان بھی موجود ہے کہ عمران خان کے خلاف درج 9 مئی 2023 کے کیسز میں فیض حمید سے ملنے والا مٹیریل بھی بطور ثبوت استعمال کیا جائے۔

آئی ایس پی آر پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ فیض حمید کے کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران انہیں تمام قانونی حقوق دیے گئے اور انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا۔ زاہد کشکوری کے حالیہ دعوؤں کے بعد فیض حمید کے کورٹ مارشل نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ اگر یہ دعوے درست قرار پاتے ہیں تو یہ فیصلہ پاکستانی عسکری تاریخ میں ایک غیر معمولی مثال ہوگا، کیونکہ کسی سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف اس نوعیت کا ٹرائل اور ممکنہ طور پر ریٹائرڈ ٹائٹل کی واپسی ایک نہایت غیر معمولی اور سخت فیصلہ تصور کیا جائے گا۔ اگر ان اطلاعات کی ٹائمنگ یا نوعیت پر آئی ایس پی آر کوئی واضح بیان جاری کرتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر اس مقدمے کی قانونی حیثیت اور سیاسی اثرات پر پڑے گا۔

فی الحال تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ آئندہ چند روز میں اس مقدمے سے متعلق کوئی واضح اعلان کرتا ہے یا نہیں، کیونکہ فیصلہ سامنے آتے ہی اس کے اثرات پاکستان کی سیاست، عسکری پالیسی اور عوامی اعتماد پر دور رس نتائج مرتب کر سکتے ہیں۔

Back to top button