فیض حمید کا کورٹ مارشل مکمل، عمران کے پھنسنے کا امکان

 

 

 

آئی ایس آئی کے متنازعہ ترین سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا کورٹ مارشل مکمل ہو چکا ہے اور اس کارروائی کے نتیجے میں عمران خان کے بھی پھنسنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ فیض حمید کے کورٹ مارشل کا سیاق و سباق واضح طور پر سیاسی ہے اور اس کے اثرات عمران خان کے خلاف درج 9 مئی 2023 کے کیسز پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

 

فیض حمید کے خلاف فیصلے کا اعلان ایک ہفتے کے اندر متوقع ہے۔ اگرچہ ان کے خلاف چارج شیٹ میں سنگین نوعیت کے الزامات شامل تھے، تاہم انہیں سزائے موت دیے جانے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے اس برعکس ٹرائل کے نتیجے میں انکا فوجی رینک واپس لینے اور تمام تر مراعات و پینشن ختم کرنے کا قوی امکان موجود ہے، یہ فوج میں کسی سینئر افسر کے لیے سب سے کڑی سزا تصور کی جاتی ہے۔

 

یہ انکشافات معروف تحقیقاتی صحافی فخر دُرّانی نے عمار مسعود کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کیے۔ فخر درانی کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کا باضابطہ ٹرائل 13 نومبر 2025 کی شب ڈیڑھ بجے مکمل ہوا، جس کا فیصلہ اب ’کسی بھی وقت‘ سامنے آسکتا ہے۔ فخر دُرّانی کے بقول یہ کارروائی تقریباً 11 ماہ تک جاری رہی، جو فوجی افسران کے خلاف معمول کے ٹرائلز کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر طویل ہے۔

 

فخر دُرّانی نے بتایا کہ کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد فیض حمید کی کیس فائل جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ کو بھجوائی جا چکی ہے، جہاں 5 سے 7 روز تک قانونی جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ تیار کیا جائے گا اور پھر آرمی چیف کی حتمی منظوری کے لیے بھیج دیا جائے گا۔ ان کے مطابق 13 نومبر کو فیض حمید کے کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد 20 نومبر کے بعد کسی بھی دن کیس کا فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔

 

فخر درانی نے پراسیکیوشن اور دفاع دونوں فریقوں سے ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں اپنے مؤقف میں پر اعتماد ہیں، ان کے مطابق پروسیکیوشن کا خیال ہے کہ سخت ترین سزا سنائی جائے گی جبکہ فیض حمید کے وکلا سمجھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا۔ تاہم 11 ماہ کے ٹرائل اور سابق آئی ایس آئی چیف کے خلاف پیش کردہ شواہد کو دیکھتے ہوئے یہ امکان بہت کم ہے کہ فیض حمید کو سزا نہ ہو۔ فخر درانی نے واضح کیا کہ فوج کے اندر رینک اور مراعات کی واپسی قید سے کہیں زیادہ سخت سزا سمجھی جاتی ہے اور زیادہ امکان یہی ہے کہ ان سے فوجی رینک اور مراعات چھین لی جائیں گی۔

 

فخر دُرّانی کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزامات اگرچہ قانونی طور پر سخت سزا کے حامل ہو سکتے ہیں، مگر موجود شواہد سزائے موت کے لیول تک نہیں پہنچتے۔ انہوں نے آئی ایس پی آر کی 6 دسمبر 2024 کی پریس ریلیز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فیض کے خلاف چارج شیٹ میں تین بڑے الزامات شامل تھے جن میں پہلا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا تھا، دوسرا سیاست میں مداخلت اور ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی شخصیات سے روابط کا تھا جبکہ تیسرا الزام اسلام آباد کی ٹاپ سٹی نامی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کا تھا۔

فوج کے پاس عمران سے نمٹنے کے لیے کون سے 2 راستے ہیں؟

فخر دُرّانی کے مطابق فیض حمید کے خلاف کرپشن اور اپنی اتھارٹی اور عہدے کے غلط استعمال بارے گواہی دینے والوں میں فوجی اور سویلین دونوں شامل تھے۔ فیض حمید نے اپنے حق میں گواہی کے لیے 90 افراد کے نام فراہم کیے تھے جن میں سے صرف 3 لوگ پیش ہوئے۔ ایک سوال کے جواب میں فخر درانی نے کہا کہ فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی کا سیاق و سباق واضح طور پر سیاسی ہے اور اس کے اثرات تحریکِ انصاف کی قیادت بالخصوص عمران خان کے خلاف درج 9 مئی 2023 کے کیسز پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ان کے بقول فوجی قیادت فیض حمید کے کورٹ مارشل کے ذریعے اندرونی احتساب کا پیغام دے رہی ہے اور توقع ہے کہ 9 مئی  کے کیسز کے فیصلے بھی تیز رفتاری سے ہوں گے۔

 

یاد رہے کہ فیض حمید 2019 تا 2021 آئی ایس آئی کے سربراہ رہے اور اپنے دور میں سیاسی و حکومتی معاملات میں مبینہ مداخلت کے حوالے سے انتہائی متنازع شخصیت سمجھے جاتے رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان پر مختلف سیاسی شخصیات سے روابط رکھنے اور کچھ متنازعہ پراپرٹی و کاروباری معاملات میں اثرانداز ہونے کے الزامات سامنے آئے۔ انہی سرگرمیوں اور متعلقہ شواہد کے باعث ان کے خلاف انکوائری کا آغاز ہوا جو آگے چل کر مکمل کورٹ مارشل میں تبدیل ہوگئی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی اس نوعیت کے فوجی ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں، جسے ملک کے عسکری و سیاسی حلقوں میں ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

Back to top button