فیض حمید کے کورٹ مارشل کا فیصلہ چند یفتوں میں آنے کا امکان

سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کا فیصلہ اگلے چند ہفتوں میں آنے کا امکان ہے جس کے بعد اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو 9 مئی کی سازش رچانے کے الزام میں فوجی تحویل میں دیا جا سکتا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ٹھوس ثبوت سیکیورٹی اداروں کے ہاتھ لگ گئے ہیں جس کے بعد عمران خان کا انجام سے بچنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
یاد رہے کہ اڈیالہ جیل میں بند عمران خان پچھلے کئی مہینوں سے بار بار اسٹیبلشمنٹ کو مذاکرات کی پیشکش کر رہے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ پاکستان میں اصل فیصلہ ساز اسٹیبلشمنٹ ہی ہے لہٰذا وہ اس کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ لیکن فوجی ترجمان نے ایک پریس بریفنگ میں عمران خان کی مذاکرات کی خواہش کو سختی کے ساتھ رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے ساتھ تب تک مذاکرات نہیں ہو سکتے جب تک وہ معافی نہیں مانگتے۔جبکہ حکومت سمجھتی ہے کہ پی ٹی آئی آئینی ترمیم کے بہانے حکومت سے عمران خان کیلئے این آر او حاصل کرنا چاہتی ہے جو کسی صورت نہیں دیا جائے گا جبکہ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نہ تو پی ٹی آئی سے کسی قسم کے مذاکرات کی خواہش اور نہ اس کے فی الحال کوئی امکانات موجود ہیں۔ تحریک انصاف کو اگر کوئی ریلیف ملے گا یا موجودہ سیاسی تعطل اگر کسی طرح ٹوٹ سکتا ہے تو اس کا حل سیاسی قیادت اور پارلیمان سے نکلے گا۔ تاہم اس کا امکان اس لیے نظر نہیں آتا کہ اب فوجی اسٹیبلشمنٹ 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو سزا دلوانے پر تل چکی ہے اور اسی لیے فیض حمید کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جس کے بعد عمران خان کے بھی فوجی تحویل میں جانے کی خبریں زیر گردش ہیں۔
دوسری جانب عمرانڈوز کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری اسٹیبلشمنٹ مخالف کمپین پر سخت رد عمل دیتے ہوئے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید ذمے دار عہدے پر بیٹھ کر مخصوص سیاسی جماعت کو اوپر لا رہے تھے۔ فوج کے لیے تمام سیاسی جماعتیں قابل احترام ہیں، فوج آئین کی وفادار ہوتی ہے، اس کی کوئی سیاسی سوچ نہیں ہوتی اور نہ ہی فوج کا بحیثیت ادارہ کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق ہوتا ہے۔
سکیورٹی حکام نے بتایا کہ فیض حمید پر الزام ہے کہ وہ سیاسی ایما پر کام کر رہے تھے، فیض حمید کا کورٹ مارشل ہو رہا ہے، مودی نے بھارتی فوج کو سیاسی بنایا اور مخالفین کے خلاف کارروائی کی، ہٹلر بھی جرمنی کی فوج کو سیاسی سوچ کے تحت چلا رہا تھا اور مخالفین کے خلاف کارروائی کی، پاکستانی فوج کے ساتھ بھی ایسا ہی کرنے کی واردات کی گئی۔ تاہم بروقت اس فتنے کی سرکوبی کی گئی۔سکیورٹی حکام کے مطابق فیض حمید بھی ذمے دار عہدے پر بیٹھ کر مخصوص سیاسی جماعت کو اوپر لا رہے تھے حالانکہ فوج کا حکومت میں برسراقتدار سیاسی جماعت سے صرف غیر سیاسی تعلق ہوتا ہے۔
خیال رہے کہ حالیہ دنوں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنداپور کی جانب سے ملک میں قیام امن کیلئے افغان طالبان سے براہراست مذاکرات کا اعلان کیا گیا تھا گنڈاپور کے اس اعلان کو جہاں وفاقی حکومت نے ریاست پر حملہ قرار دیا وہیں اب سیکیورٹی حکام نے بھی سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ سکیورٹی حکام نے واضح کیا کہ افغانستان میں ایک درجن سے زیادہ دہشتگرد تنظیمیں ہیں، دہشتگرد افغانستان سے آکر حملے کرتے ہیں، فتنہ الخوارج سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو گی، ماضی میں ایک سیاسی جماعت نے فسادیوں سے بات چیت کی، اب بھی ایسا ہی کہا جا رہا ہے، پچھلی بات چیت کے تجربے سے پتا چل گیا کہ فتنہ الخوارج سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔سکیورٹی حکام کے مطابق دہشتگردوں کی افغانستان میں ٹریننگ ہو رہی ہے، سیکیورٹی حکام کے مطابق افغانستان میں عبوری حکومت سے بات چیت کر رہے ہیں کہ دہشتگردوں کو سنبھالیں جبکہ دوسری جانب دہشتگردوں کے خلاف روزانہ 100 سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کر رہے ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ ہر صورت جیتیں گے۔
سکیورٹی حکام نے بتایا کہ لکی مروت میں کرمنل گینگز کام رہے ہیں، جب کرمنل گینگز کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو شرپسند عناصر علاقے میں مظاہرے کرواتے ہیں، لکی مروت میں فوج صوبائی حکومت کی درخواست پر ذمےداری انجام دے رہی ہے، صوبائی حکومت نے جب کہا فوج لکی مروت سے واپس چلی جائے گی، تاہم سیکیورٹی فورسز خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں امن کی بحالی کیلئے جاری کاوشوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گی، جلد خیبرپختونخوا میں امن بحال ہو گا۔
سیکیورٹی حکام کا مزید کہنا ہے کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کو پکڑتے ہیں، تاہم عدالتیں عدم ثبوت کا کہہ کر انھیں چھوڑ دیتی ہیں، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کرمنل جسٹس سسٹم کو ٹھیک اور قانون کے نفاذ کو یقینی بنانا ہوگا۔
