کورٹ مارشل مکمل ہونے کے بعد فیض حمید کی سزا کا انتظار

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آئی ایس آئی کے متنازعہ ترین چیف قرار پانے والے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کا کورٹ مارشل مکمل ہو چکا ہے اور اب ان کی سزا کا انتظار ہے۔
فیض حمید کو اسٹیبلشمنٹ کے اس دھڑے کا رنگ لیڈر سمجھا جاتا تھا جو سابق وزیر اعظم عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے سرگرم تھا۔ اسی لیے فیض حمید نے آخری لمحے تک جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری رکوانے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ ہتھکنڈے استعمال کیے۔ جب وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے تو انہوں نے فوج میں بغاوت کی سازش کی اور 9 مئی 2023 کو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملے کروائے۔
یاد رہے کہ بطور ڈی جی سی اور بعد ازاں ڈی جی آئی ایس آئی، فیض حمید کو آئی ایس آئی کے طاقتور ترین سربراہان میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ 2019 سے 2021 تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔ دیگر آئی ایس آئی سربراہان کے برعکس وہ میڈیا میں اپنی تشہیر کے شوقین تھے اور شہ سرخیوں میں رہنا چاہتے تھے، جس پر فوجی حلقوں میں تحفظات بھی پائے جاتے تھے۔
جنرل عاصم منیر کے بطور آئی ایس آئی چیف وقت سے پہلے فراغت کے پیچھے بھی فیض کا ہاتھ تھا۔ عاصم منیر بطور آئی ایس آئی چیف عمران خان کے علم میں انکی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی اور انکی قریبی ساتھی فرح گوگی کے کرپشن کے شواہد سامنے لائے تھے۔
اسی طرح پاکستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی بھی یہ الزام عائد کرتی آئی ہیں کہ فیض حمید نے سیاست میں مسلسل مداخلت کی اور تحریک انصاف کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے ریاستی اداروں کا غلط استعمال کیا۔ 2018 کے الیکش میں آر ٹی ایس سسٹم بٹھانے اور دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو وزیراعظم بنانے کا الزام بھی فیض حمید پر لگایا گیا تھا۔ نواز شریف کی بطور وزیراعظم نااہلی اور اس کے بعد سپریم کورٹ سے ان کی اپیل مسترد کرانے کے لیے بھی فیض حمید نے ہی ججز پر دباؤ ڈالا۔
عمران خان کی وزارت عظمی کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ فیض حمید ان کے گھر آئے اور ان پر نواز شریف کو سزا دینے کے لیے دباؤ ڈالا، جب جسٹس صدیقی نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ معاملہ پبلک کر دیا تو فیض حمید نے جسٹس ثاقب نثار کے ذریعے ان کی بطور جج چھٹی کروا دی۔
2017 میں نون لیگی حکومت کے خلاف تحریک لبیک کا فیض آباد دھرنا بھی فیض حمید کے اشارے پر سٹیج کیا گیا تھا۔ یہ دھرنا ختم کرنے کے لیے حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان جو معاہدہ ہوا اس میں فیض حمید کا نام بطور ضامن درج تھا، فیض حمید کی ہدایت پر ہی دھرنے کے شرکا کو پیسے دے کر گھروں کو رخصت کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی حکومت کے دوران جب جنرل قمر باجوہ نے فیض حمید کو آئی ایس آئی چیف کے عہدے سے ہٹا کر کور کمانڈر پشاور لگایا تو عمران خان سیخ پا ہو گئے۔ یوں عمران اور جنرل باجوہ کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔ فیض کو پہلے کور کمانڈر پشاور اور بعد میں کور کمانڈر بہاولپور تعینات کیا گیا۔ لیکن اس دوران بھی وہ سیاست کرتے رہے اور فوج میں تقسیم پیدا کرنے سے باز نہیں آئے۔
ناقدین کے مطابق جنرل فیض حمید مسلسل یہ خواہش رکھتے تھے کہ انہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کے بعد آرمی چیف بنایا جائے۔ عمران خان بھی 2022 میں انہیں آرمی چیف مقرر کرنا چاہتے تھے، تاہم سیاسی حالات کی تبدیلی اور عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ امکان ختم ہو گیا۔ اس سے پہلے فیض حمید نے جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکنے کے لیے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے لیکن ناکام رہے۔ جنرل عاصم منیر کے فوجی سربراہ بننے کے بعد فیض نے اپنی سروس مکمل ہونے سے چھ ماہ قبل ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔
نواز شریف نے دوبارہ فوجی اسٹیبلشمنٹ پر حملہ کیوں کر دیا؟
اس سے پہلے مریم نواز نے سیاست میں مداخلت کے الزام پر فیض حمید کے کورٹ مارشل کا مطالبہ کیا تھا۔ چنانچہ جب اسٹیبلشمنٹ نے سیاست میں ملوث سابق عسکری افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا تو فیض حمید کو بھی گرفتار کر لیا گیا اور ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہو گئی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک اہم اور غیر معمولی موڑ ہے، جو فوج کے اندر نظم و ضبط کی بحالی کے ساتھ ساتھ عمران خان کے لیے بھی نئے قانونی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
اس کارروائی کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے "پراجیکٹ عمران خان” کو ایک سنگین غلطی تسلیم کرتے ہوئے اس میں شامل تمام سہولتکاروں بشمول فیض حمید کو لپیٹ دیا ہے۔
