جعلی ڈاکٹر پاکستانیوں کی جانیں لینے میں مصروف

 

 

 

پاکستان میں علاج کے نام پر جعلی ڈاکٹروں اور اتائیوں کی صورت میں ایک خاموش وبا پھیل چکی ہے۔ جس کی وجہ سے ملک کے مختلف شہروں بالخصوص دیہاتوں میں سفید کوٹ اعتماد کی علامت کی بجائے جان لیوا دھوکے کی پہچان بن چکا ہے۔ دیہی علاقوں سے شہری آبادیوں تک لاکھوں لوگ ایسے جعلی ڈاکٹروں اور اتائیوں کے رحم و کرم پر ہیں جو بغیر اجازت، بغیر تربیت اور آلودہ آلات کے ساتھ مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ غیر رجسٹرڈ کلینکس کے تیزی سے پھیلاؤ نے ہیپاٹائٹس اور ایڈز جیسے مہلک امراض کے خطرات بڑھا دئیے ہیں۔

 

غریب اور پسماندہ علاقوں میں جعلی کلینکس اکثر علاج کا پہلا اور واحد ذریعہ ہوتے ہیں۔ جہاں ریاست بنیادی صحت کی سہولت فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے، وہاں اتائی سفید کوٹ پہن کر مسیحا بن جاتے ہیں۔ کم تعلیم یافتہ آبادی کے لیے مستند اور غیر مستند ڈاکٹر میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے، جس کا فائدہ اٹھا کر یہ افراد مریضوں کی جانوں سے کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان میں علاج کے نام پر پھیلتی جعلی ڈاکٹروں کی وبا کی وجہ سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد کی جانیں خطرے میں ہیں۔ تاہم اس صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ گاؤں دیہاتوں میں ہی نہیں بلکہ متعدد شہروں میں ایسے غیر مستند افراد اور اتائی ڈاکٹر بلا روک ٹوک طبی پریکٹس کر رہے ہیں اور انھیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں، ہرگزرتے دن کے ساتھ ایسے اتائیوں کے اڈوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے کیونکہ غریب اور کم تعلیم یافتہ آبادی کے لیے یہی غیر قانونی کلینکس اکثر علاج کا پہلا، اور بعض اوقات واحد، ذریعہ ہوتے ہیں۔ اس صورتحال نے جعلی ڈاکٹروں کو ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین عوامی صحت کی وبا میں بدل دیا ہے۔

 

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل عبدالغيور شورو کے مطابق ملک بھر میں چھ لاکھ سے زائد جعلی ڈاکٹر سرگرم ہیں۔ یہ افراد ابتدا میں مستند ڈاکٹروں کے ساتھ کام کر کے چند بنیادی باتیں سیکھتے ہیں اور پھر بغیر کسی قانونی اجازت یا تربیت کے اپنے کلینکس کھول لیتے ہیں۔ ان غیر مستند معالجین کو ادویات کے مضر اثرات، درست مقدار اور بیماری کی صحیح تشخیص کا علم نہیں ہوتا جس سے متعدد افراد جان کی بازی تک ہار جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کلینکس میں آلات کا خطرناک حد تک دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ سرنجیں اور دیگر طبی آلات محض پانی سے دھو کر دوبارہ استعمال کیے جاتے ہیں، جس کے باعث ہیپاٹائٹس اور ایڈز جیسے مہلک امراض کے پھیلاؤ کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ شورو کے مطابق اگر بیماری کی درست تشخیص نہ ہو تو معمولی مسئلہ بھی جان لیوا صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اتائیوں کے ہاتھوں مریضوں کا غلط علاج صرف فوری نقصان تک محدود نہیں رہتا بلکہ پاکستان کے پہلے سے دباؤ کا شکار صحت کے نظام کو بھی مفلوج کر رہا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ملک بھر سے ایسے مریض سرکاری ہسپتالوں میں لائے جاتے ہیں جن کی حالت جعلی ڈاکٹروں کے غلط علاج کے باعث مزید بگڑ چکی ہوتی ہے۔ ان کے بقول زیادہ تر مریض غلط تشخیص اور غلط ادویات کی وجہ سے ناقابلِ تلافی نقصان کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں، علاج سے ان کی صحت تو بحال ہو جاتی ہے تاہم اکثر مریض لمبے عرصے سے اتائیوں سے علاج کروانے کی وجہ سے یا تو عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں یا جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

لاہوریوں کا 20 کلو سونا لوٹنے والا فراڈیا حاجی کیسے گرفتار ہوا ؟

ریگولیٹری اداروں کی ناکامی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ اگرچہ وقتاً فوقتاً جعلی کلینکس کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں، مگر کمزور قوانین اور محدود وسائل کے باعث یہ اقدامات محض وقتی ثابت ہوتے ہیں۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ جرم قابلِ ضمانت ہوتا ہے، جس کے باعث ملزمان جلد رہا ہو جاتے ہیں اور دوبارہ وہی دھندا شروع کر دیتے ہیں۔  ریگولیٹری ادارے بھی جعلی ڈاکٹروں کی اس وبا پر قابو پانے میں اپنی ناکامی تسلیم کرتے نظر آتے ہیں۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے سربراہ احسن قوی صدیقی کے مطابق کمیشن کے وسائل محدود ہیں اور اس مسئلے کا مکمل خاتمہ آسان نہیں۔ ان کے بقول اگر 25 غیر رجسٹرڈ کلینکس بند کیے جائیں تو اگلے ہی دن 25 نئے کھل جاتے ہیں۔صدیقی کے مطابق جعلی ڈاکٹروں اور اتائیوں کے خلاف موجود قانون بھی کمزور ہے۔ مقدمات درج کیے جاتے ہیں مگر چونکہ یہ جرم قابلِ ضمانت ہے، اس لیے ملزمان اگلے ہی دن رہا ہو جاتے ہیں۔

 

ناقدین کے مطابق پاکستان میں جعلی ڈاکٹروں کا مسئلہ کسی ایک طبقے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک منظم، ہمہ گیر اور دیرینہ بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جعلی ڈاکٹروں اور اتائیوں کی وبا کے خاتمے کے لیے محض چھاپے کافی نہیں بلکہ سخت قانون سازی، غیر مستند پریکٹس کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دینا، ریگولیٹری اداروں کو مکمل اختیارات دینا اور سب سے بڑھ کر عوام میں شعور بیدار کرنا ناگزیر ہے۔ جب تک صحت کو سنجیدگی سے قومی ترجیح نہیں بنایا جاتا، جعلی ڈاکٹروں کا یہ عفریت نہ صرف خاموشی سے جانیں نگلتا رہے گا بلکہ ملک کے صحت کے نظام کو بھی اندر سے کھوکھلا کرتا رہے گا۔

Back to top button