پنجاب میں جعلی پولیس مقابلے: عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ

 

 

 

ہیومن رائٹس کمیشن آف نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی حکومت کے زیر سایہ صوبے میں بڑھتے ہوئے جعلی پولیس مقابلوں اور ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر دیا ہے۔ کمیشن کی تازہ ترین فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق کرائمز کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیوں میں مشتبہ ملزمان کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ایک ایسے رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں جو قانون کی حکمرانی اور آئینی تقاضوں سے متصادم ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2025 کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران کم از کم 670 پولیس مقابلوں کی اطلاعات سامنے آئیں جن میں 924 مشتبہ افراد  مارے گئے جبکہ اسی عرصے میں صرف دو پولیس اہلکاروں کی جان گئی۔ اس کے علاوہ پنجاب میں جنسی جرائم میں ملوث ملزمان کے نیفوں میں پستولیں چلانے کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

 

یاد رہے کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں جنسی جرائم میں ملوث 100 سے زائد ملزمان اپنے نیفوں میں چھپائے گئے پستول چلنے کی وجہ سے مردانہ صفات سے محروم ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث ملزمان کیساتھ پیش آنے والے ہر حادثے میں نیفے کے پستول سے اچانک چلنے والی گولی ملزم کے عضو تناسل پر ہی لگی۔

 

مبصرین کہتے ہیں کہ وزیر اعلی مریم نواز نے سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو جعلی مقابلوں میں پار کرنے کے لیے ایک نیا محکمہ کھڑا کر دیا ہے جس کا نام کرائمز کنٹرول ڈیپارٹمنٹ یعنی سی سی ڈی ہے۔ اس نئے محکمے کے تحت ہونے والی ماورائے عدالت کاروائیوں کا بنیادی مقصد خوف پھیلا کر جنسی جرائم کم کرنا ہے، لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ قانون سے بالا ایسی سزائیں مزید جرائم کی راہیں کھول دیتی ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں جب وزیر اعلی شہباز شریف کے دور میں فرقہ ورانہ جرائم میں ملوث ملزمان کو ختم کرنے کے لیے یہی حکمت عملی اپنائی گئی تھی تو کئی بے گناہ صرف اس لیے مارے گئے کہ پولیس پیسے پکڑ کر جعلی انکاؤنٹر کر دیتی تھی۔

 

حالیہ مہینوں میں اس طرح کے واقعات میں اضافہ تب ہوا جب مریم نواز کی حکومت نے ڈی آئی جی سہیل ظفر چھٹہ کی زیر قیادت سی سی ڈی تشکیل دیا۔ اعداد و شمار کے مطابق قتل، ڈکیتی اور زیادتی جیسے جرائم پر قابو پانے کے لیے سی سی ڈی کے قیام کے بعد سے صوبے میں پولیس مقابلوں میں 35 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ ان مقابلوں میں ملزمان یا تو مارے جاتے ہیں یا ادھ موئے ہو جاتے ہیں۔ پنجاب میں نیفوں میں پستولیں چلنے کے علاوہ گرفتار شدہ ملزمان فرار ہونے کی کوشش میں بڑی تعداد میں مارے جا رہے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب پنجاب کے مختلف شہروں میں ڈکیتی اور زنا جیسے جرائم میں ملوث گرفتار ملزمان کو ان کے ساتھی پولیس کی حراست سے چھڑانے کی کوشش میں مروا نہ دیں۔

 

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آج تک کسی بھی ملزم کے ساتھی اسے پولیس کی حراست سے چھڑانے میں کامیاب نہیں ہوئے، بلکہ اس کی موت کا ہی باعث بنے ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ ان واقعات نے پنجاب کی حد تک جرائم پیشہ افراد پر دہشت اور خوف طاری کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ساڑھے چار ہزار پولیس اہلکاروں پر مشتمل سی سی ڈی کا دائرہ کار تحصیل کی سطح تک پھیلا ہوا ہے، جہاں یہ ڈرون نگرانی، ڈیجیٹل ڈیٹا بیس، اور جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کے ذریعے کام کر رہی ہے۔ یہ فورس اپنے قیام کے بعد سے اب تک 1500 سے زائد "پولیس مقابلے” کر چکی ہے جن میں 500 سے زائد ملزمان ہلاک اور سینکڑوں ہاف فرائی یعنی زخمی ہو چکے ہیں۔ پولیس کی زبان میں فل فرائی کرنا کسی جرائم پیشہ شخص کو مقابلے میں پار کرنے کو کہتے ہیں جب کہ ہاف فرائی کرنا زخمی کرنے کو کہتے ہیں۔ اس وقت پنجاب پولیس کے ہاتھوں ایسے مجرم فل اور ہاف فرائی ہو رہے ہیں جو کمسن بچوں یا خواتین کیساتھ ریپ جیسا سنگین جرم کرتے ہیں۔

علیمہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے عمران کا فائدہ کر رہی ہیں یا نقصان؟

تاہم ہیومن رائیٹس کمیشن کے مطابق یہ واقعات محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم پیٹرن کا حصہ ہیں جس کے تحت ملزمان کو عدالتوں میں پیش کرنے کی بجائے ماورائے عدالت ہی فارغ کیا جا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں نے فوجداری نظام انصاف کو متاثر کیا ہے کیونکہ متعدد کیسز میں ملزمان کو عدالت میں پیش کیے جانے اور قانونی عمل مکمل ہونے سے پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا۔  ہیومن رائٹس کمیشن نے زور دیا ہے کہ ریاستی طاقت کا استعمال صرف ناگزیر اور متناسب حالات میں ہونا چاہیے اور ہر ہلاکت کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات لازمی ہیں۔

 

Back to top button