آئینی ٹچ

تحریر:حماد غزنوی ، بشکریہ : روزنامہ جنگ

یہ غالباً 1986 کی بات ہے، ہمارے کچھ دوست وی سی آر پر رابرٹ ریڈ فورڈ اور میرل اسٹریپ کی ایک فلم ’آﺅٹ آف افریقا‘ دیکھ رہے تھے، جب تک ہم بیٹھک میں پہنچے لگ بھگ آدھی فلم گزر چکی تھی، اس فلم کا ان دنوں بڑا شہرہ تھا اور ہم نے اسے بہت اہتمام سے دیکھنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، لہٰذا بہت رخصت چاہی مگر آخر دوستوں کی ضد سے مجبور ہو کر ہم بھی ٹی وی کے سامنے ڈھیر ہو گئے اور درمیان سے ہی فلم دیکھنے لگے۔اس شام کی بدمزگی مدتوں ہمارے ساتھ رہی۔نہ کرداروں سے کوئی تعلق بنا، نہ کہانی میں دل چسپی پیدا ہو سکی، نہ تھیم کی تفہیم ہو سکی نہ پلاٹ گرفت میں آیا۔اس دن یہ عہد کیا گیا کہ آئندہ کبھی ادھوری فلم نہیں دیکھی جائے گی، اور پھر یہ عہدہم نے زندگی بھر خوب نبھایا۔ پہلا سین تو کیا، کبھی فلم کا ٹائٹل بھی مِس نہیں کیا، کیوں کہ فلم کے طالب علم ٹائٹل کے فونٹ اور ڈیزائن سے ہی فلم کے بارے میں ایک رائے قائم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔آپ حضرات کے لئے بھی یہی مشورہ ہے کہ فلم کبھی درمیان سے نہ دیکھیں، نہ آپ کو کرداروں کی سمجھ آئے گی نہ کہانی کی۔ مثلاً، ادھوری فلم دیکھنے والے کبھی یہ نہیں سمجھ سکیں گے ایک کردار کو اذیت ناک تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور فلم بین نعرے لگا رہے ہیں ’اور مارو‘۔اس لئے کہ ادھوری فلم دیکھنے والوں کو معلوم ہی نہیں ہے کہ یہ کردار ہیروئن کی آبرو ریزی کا مرتکب ہو چکا ہے۔ اوریہ اصول صرف فلموں پر لاگو نہیں ہوتا، سیاست و عدالت کا بھی ہو بہ ہو یہی معاملہ ہے۔ جیسے ہمارے کچھ دوست ہیں جنہوں نے ملک میں جاری سیاسی و عدالتی فلم ’آئین کہتا ہے 90 دنوں میں انتخاب‘ والے سین سے دیکھنی شروع کی ہے۔  یہ دوست ادھوری فلم پر تبصرہ کر رہے ہیں، نہ یہ کرداروں کی اصلیت سے آگاہ ہیں، نہ کہانی کی بڑھت سے۔ آئین کی ایک شق تو فلم کے ایک سین کی طرح ہوتی ہے، اس کے سیاق و سباق کے بغیر تو اسے سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔یہ جو فلم ہے اس کے 280 سین ہیں، اور ہر ہر سین اہم ہے۔ہم نے یہ فلم ٹائٹلز سے دیکھ رکھی ہے تو آئیں آپ کو یہ کہانی شروع سے سناتے ہیں۔

آئین کی ایک شق ہے تریسٹھ اے، اس کی سات سب کلاز ہیں، اس شق کو تفصیل سے، اچھی طرح تسلّی سے پڑھئے، دنیا کا کوئی سائنس دان اس شق کی یہ تشریح نہیں کر سکتا کہ ممبر کا ووٹ سرے سے شمار ہی نہیں کیا جائے گا۔آپ شریف الدین پیرزادہ کی طرح مکاری پر اتر آئیں تو بھی یہ استنباط نہیں کر پائیں گے۔ لیکن آئین کے ساتھ یہ نازیبا حرکت دھڑلے سے کی گئی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے یاد دہانی کروائی کہ پہلے یہ غور کر لیجئے کہ کیا پنجاب اور کے پی کی اسمبلیاں آئین کے مطابق توڑی گئیں، مگر آئین کے رکھوالے نوے دن کی تسبیح کے منکے پھیرتے رہے۔ کیا اب یہ کوئی راز ہے کہ پچھلے پانچ سات سال عملی طور پر آئین کو مفلوج کر کے ملک چلایا گیا۔ باجوہ، فیض، ثاقب نثار، آصف کھوسہ کیا آئین کی حرمت بچانے کیلئے اکٹھے ہوئے تھے؟ آئین کی کس شق کے تحت ہائی برڈ نظام کا سومنات تراشا گیا تھا؟ کیا ہم فیض حمید کی ’دو سالہ محنت‘ کا جواز آئین کے پرنسپلز آف پالیسی میں تلاش کریں؟ کیا فائز عیسیٰ کی پشت میں آئینی چھرا گھونپا گیا تھا؟ جسٹس شوکت صدیقی کو بس کے نیچے پھینکتے ہوئے کسی کو آئین کا خیال آیا؟ پاناما بینچ کے ایک فیصلے پر ہی غور کر لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ سپریم کورٹ کو آئین کا کتنا ’شوق‘ ہے۔ پاکستان کے دو مقبول ترین سیاسی راہ نماﺅں میں سے ایک کو وزارتِ عظمیٰ سے نکالا گیا، اسے نااہل کیا گیا، پھر اسے تاحیات نااہل کیا گیا، پھر اسے پارٹی صدارت سے بھی ہٹا دیا گیا، پھر اسے جیل میں ڈالا گیا، اور یہ سب کچھ 2018 کے الیکشن سے پہلے کرنا ضروری سمجھا گیا۔باجوہ صاحب سے جج ارشد ملک تک بہت سے شرکائے جرم ہمیں وضاحت سے بتا چکے ہیں کہ یہ سب کس ’آئین‘ کے تحت کیا گیا تھا۔ باجوہ صاحب کہتے ہیں ہم پر عمران خان کے عشق کا بھوت سوار تھا۔اب آپ ہی بتائیے آئینِ عشق کے آگے 73 کے آئین کی کیا حیثیت ہو سکتی تھی، عشق میں تو سو خون معاف ہوتے ہیں، یہ آئین شائین کیا بیچتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بھوت اب بھی انصاف کے ایوانوں میں طبلِ عشق کی تھاپ پر دھمال ڈال رہا ہے، ابھی دل بھرا نہیں، اب بھی یہی خواہش ہے کہ اگلا الیکشن نواز شریف کے بغیر کروا دیا جائے۔

طرفہ تماشا دیکھئے، جب پچھلے سال انہی دنوں عمران خان نے پے در پے پانچ مرتبہ آئین توڑا تو کچھ دوستوں نے چھت پر چڑھ کر بغلیں بجانے کا اہتمام کیا تھا، کیسا سرپرائز دیا، سب مخالفین ہکا بکا رہ گئے، کپتان جیت گیا ، وغیرہ وغیرہ۔اب وہی حضرات آئین اور’ نوے دن‘ کی محبت میں گھلے جا رہے ہیں۔ عمران خان بھی صبح شام آئینی ٹچ دے رہے ہیں، جنرل ضیاالحق اور جنرل ایوب خان کی زریت بھی 90 دن کے ترانے گا رہی ہے۔کمال ہو گیا۔آئین کا بھرکس نکالنے والوں کو آئین کی ایک شق سے عشق ہو گیا ہے۔آئین کی 280 شقیں ہیںاور ہمارے لئے سب محترم ہیں، ہم اس شق کا بھی احترام کرتے ہیں جو انتخابات عبوری حکومتوں کے تحت کرانے کا حکم دیتی ہے۔کیا عدلیہ اکتوبر میں قومی اسمبلی کے انتخابات کے موقع پر آئین توڑنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ جج صاحب، کچھ تو فرمائیے۔

سگریٹ نوشی!

Back to top button