حکومت کا فرح گوگی کو انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ پرسن کہلانے والی فرح خان عرف گوگی اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کی کرپشن کی تحقیقات میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے نے فرحت شہزادی اور ان کے شوہر کو انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لانے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
خیال رہے کہ ایف آئی اے نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرحت شہزادی کے خلاف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی سفارش پر 28فروری کو مقدمہ درج کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق مقدے مے اندراج کے بعد اب ایف آئی اے فرحت شہزادی کی وطن واپسی کے لیے انٹرپول سے رجوع کرنے سے پہلے عدالت سے ان کے ریڈ وارنٹ حاصل کرے گی۔
ایف آئی آر کے مطابق ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ انکوائری کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ فرحت شہزادی نے کرپشن اور رشوت کے ذریعے جرائم کی رقم جمع کی ہے، ان کے بینک اکاؤنٹس میں بھی مشکوک مالی سرگرمی کی اطلاع ملی۔مزید بتایا گیا کہ ان کے اکاؤنٹس میں 2019 سے 2022 کے دوران بڑی رقوم جمع کروائی گئیں جو ان کی آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ایف آئی اے فرحت شہزادی کے شوہر احسن جمیل گجر سے بھی منی لانڈرنگ کیس میں تفتیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔رپورٹ کے مطابق فرحت شہزادی اور ان کے شوہر اپریل میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت مخلوط حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بیرون ملک چلے گئے تھے، ایف آئی اے نے گزشتہ ہفتے جوڑے کو طلب کیا تھا لیکن وہ پیش نہ ہوئے۔ جس کے بعد انھیں انٹرپول کے ذریعے وطن واپس لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ تحقیقاتی اداروں کی ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ بشری بی بی کے پہلے شوہر خاور فرید مانیکا کے ذاتی دوست احسن جمیل گجر اور اسکی بیوی گوگی نے کرپشن کرتے وقت کمال مہارت دکھائی اور اپنے پیچھے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں چھوڑا۔ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ فرح گوگی اور ان کے شوہر نے پیشہ وارانہ مہارت دکھائی اور اتنی زیادہ احتیاط برتی کے پونے چار برس کے دوران وزیراعظم ہاؤس قرار دیئے گئے بنی گالا کے ملاقاتیوں کے ریکارڈ میں دونوں میاں بیوی کی ایک بھی انٹری موجود نہیں حالانکہ فرح گوگی اکثر وہیں قیام پذیر ہوتی تھی۔فرح خان اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر کے ساتھ ’وزیراعظم ہاؤس بنی گالہ کے رہائشیـوں جیسا رویہ اپنایا گیا اور ان کے آنے اور جانے کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
انکوائری کے دوران اسپیشل برانچ کے اہلکاروں نے، جنہوں نے پی ایم ہاؤس بنی گالہ میں ڈیوٹی سرانجام دی، اپنے سینئرز کو بتایا کہ فرح اور اسکے شوہر احسن گجر بنی گالہ پی ایم ہاؤس میں اکثر آتے تھے اور وہاں قیام بھی کیا کرتے تھے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ جوڑے کا داخلہ کبھی ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اسپیشل برانچ کو ہدایت تھی کہ گجر اور گوگی کے ساتھ ’وزیراعظم ہاؤس کے رہائشیون جیسا رویہ اپنایا جائے کیونکہ وہ خاندان کا حصہ ہیں۔ اسپیشل برانچ اسلام آباد پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ اسی لیے ان کے پی ایم ہاؤس بنی گالہ میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کو کبھی ریکارڈ پر نہیں لایا گیا۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ پرسن فرح گوگی اور پراپر ٹی ٹائیکون ملک ریاض کی بیٹی امبر ریاض کی ایک آڈیو کال بھی منظر عام پر آئی تھی جس میں فرح کی طرف سے بشری کیلئے 5 قیراط کے ہیرے کی انگوٹھی کے تقاضے بارے گفتگو کی گئی تھی۔ اس گفتگو کے سامنے آنے پر عمران خان اور پنکی پیرنی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
