اپوزیشن کواین آر او نہیں دینگے چاہے حکومت چلی جائے

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ عید کے بعد اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی. ایف اے ٹی ایف اور نیب قوانین پر اپوزیشن کو کسی صورت این آر او نہیں دیں گے وزیراعظم عمران خان مائنس ہیں تو پھر پوری پی ئی آئی بھی مائنس ہے. حکومت چلی جائے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرینگے.
سندس فائونڈیشن تھلیسیمیا کے زیر علاج بچوں میں عید گفٹ تقسیم کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر شبلی فراز نے کہاکہ مجرمان ہمیں ڈکٹیٹ نہ کریں ایف اے ٹی ایف کو جواز بنا کرنیب سے ریلیف کی کوششیں ناکام ہو ں گی. شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جتنی مرضی اے پی سی بلا لیں ان کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گےمائنس ون کے سوال پر انہوں نے کہاکہ خان نہیں تو کوئی بھی نہیں. وفاقی وزیر نے کہا کہ پارلیمنٹ میں وطن سے محبت کرنے والوں کی اکثریت ہے ایف اے ٹی ایف کا بل ہر صورت پاس کرائیں گے .
شبلی فراز نے مہنگائی اور دیگر مسائل کا ذمہ دار اپوزیشن کو قرار دیتے ہوئے کرونا کے خلاف کامیابی کو حکومت کی بہتر حکمت عملی سے تعبیر کیا. شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف ) کے قوانین ملک کے لیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب کے قوانین، جس پر اپوزیشن سودے بازی کرنا چاہ رہی ہے وہ ان کے ذاتی مفاد کے لیے ہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ کمیٹی میں اپوزیشن کے جو اراکین ہیں یہ ان کے مفادات کا تصادم ہے کیونکہ ان کے خلاف مقدمات بنے ہوئے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے لیے جو ملک کے قوانین ہیں ان کے لیے اپوزیشن کو این آر او دے دیں۔
شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کا مقصد اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے انہیں ملک اور اداروں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ صرف اپنے آپ کو بچانے کے لیے سیاسی دباؤ ڈال رہے ہیں اور عید کے بعد اس غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو اے پی سی کرنی ہے کرتے رہیں اور اےپی سی کرنے والے سیاسی طور پر بیروزگار ہوچکے ہیں، ان کا سیاسی ایجنڈا یہی ہے کہ اپنی حکومتوں میں جو کام کیے تھے ان کو تحٖفظ دیں جبکہ نہ ان میں اخلاقی قوت ہے اور نہ ہی عوام ان کی حمایت کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اے پی سی ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر مذاکرات ہوں گے تو ہمارے بنیادی نظریے پر ہوں گے وریہ تو اسی طرح کی بات ہوئی جو مجرم ہیں وہ کہیں جیلوں کو بندکردیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس ملک نے بہت نقصان اٹھالیا ہے، ماضی کی حکومتوں نے سیاسی فائدے پہنچانے کے لیے ملک کے مفادات کو قربان کیا ہے، ہماری حکومت یہ کام نہیں کرسکتی اور نہ کرے گی۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی مسلم لیگ(ن) سے ملاقات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے موجود ایم پیز ہم سے ملاقاتیں کررہے تو انہیں اپنے گھر کا خیال رکھنا چاہیے، ان کے لوگ ہماری قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ شبلی فراز نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو سندھ کو سنبھالیں انہوں نے ایک نیشنل پارٹی کو صوبائی بھی نہیں بلکہ علاقائی جماعت بنادیا ہے یہ سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کو اپنے نظریے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ ان کا یہی کلچر رہا ہے کہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے ملک کو قربان کیا ہے۔بل کی منظوری سے متعلق انہوں نے کہا کہ بل پاس ہوجائے گا کیونکہ کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو ملک کے مفادات کو دیکھتے ہیں اور اگر وہ ساتھ نہیں دیں گے تو اپوزیشن بے نقاب ہوجائے گی۔
خیال رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق قانون سازی اور احتساب قوانین میں تبدیلی کے لیے پہلے ہی تاخیر کا شکار بات چیت تعطل کا شکار ہوگئی کیوں کہ دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ایک جانب حکومت نے قومی احتساب آرڈیننس میں اپوزیشن کی تجویز کردہ زیادہ تر ترامیم مسترد کردی ہیں تو دوسری جانب اپوزیشن نے حکومت کا پیش کردہ ایف اے ٹی ایف بل موجودہ حالت میں قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button