فواد چودھری عدلیہ کو ساتھ ملا کر سازش کرتے پکڑے گئے

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری اور ان کے بھائی فیصل چوہدری کے درمیان مبینہ آڈیو کال منظر عام پر آگئی۔38 سیکنڈز کی آڈیو میں مبینہ طور پر فواد چوہدری اور ان کے بھائی فیصل چودھری ‘لاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس امیر بھٹی اور چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال کے درمیان ‘ملاقات’ کروانے کی بات کرتے سنے جا سکتے ہیں۔فواد چوہدری کو فیصل چوہدری سے کہتے سنا گیا کہ ’اچھا میں نے کہا کہ وہ جو اپنا چیف جسٹس لاہور ہے، وہ کہہ رہا ہے کہ میری بندیال سے کوئی جنرل کراؤ‘۔مبینہ طور پر فواد چوہدری نےمزید کہا کہ ’ٹھیک ہے نا دوسرے اپنے مظاہر کو ڈار صاحب کے ذریعے جو ہے نا، ان کے ساتھ، ان سے ذرا مل لیں‘۔پی ٹی آئی رہنما نے  بھائی فیصل کو ہدایت کی کہ وہ جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی سے ملیں اور انہیں پیغام دیں کہ ’’پورا ٹرک آپ کے ساتھ کھڑا ہے، لہٰذا ہمیں بتائیں کہ اب کیا کرنا ہے۔‘‘

فواد چوہدری نے لیگی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئےمزید کہا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ تارڑ کے خلاف تین سے چار استغاثے کروا کر اسے دفعہ 128 کے تحت سزا دلوا دیں تاکہ ان پر دباؤ ڈالا جا سکے اور ان پر پریشر آئے۔ فواد چودھری نے چونکہ آخری نام استعمال کیا ہےاس لیے یہ واضح نہیں ہے کہ وہ عطا اللہ تارڑ کے بارے میں بات کر رہے تھے یا اعظم نذیر تارڑ کے بارے میں۔

جواب میں فیصل چودھری نے فواد کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اگلی صبح ان کی ہدایات پر عمل کریں گے اور انہیں صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ فواد چودھری کی آڈیو سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ عدلیہ کا جھکاؤ ایک سیاسی جماعت کی طرف ہے، مظاہرنقوی کیخلاف ریفرنسَ ابھی تک سماعت کیلئے مقرر نہیں کیا گیا. اب فواد چودھری کی آڈیو میں مظاہر نقوی کیلئے ایک ٹرک کھڑا کیا گیا، یہ آم کا ٹرک تو نہیں بلکہ یہ کوڈ ورڈ مخصوص رقم کے لیے استعمال کیا گیاہے۔ عطا تارڑ نے مزید کہا کہ توشہ خانہ کا روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کرنے والی عدلیہ ججز بارے آڈیوز کا بھی نوٹس لے کر کارروائی کرے اور اپنی غیر جانبداری ثابت کرے۔عطا تارڑ نے مزید کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ اور انکی اہلیہ کو تو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے لیکن جسٹس مظاہر نقوی سے متعلق ریفرنس آنے کے بعد بھی احتساب نہِیں کیا جا رہا. اپنا گھر صاف کریں گے تو معاملہ آگے چلے گا ورنہ انکے انصاف اور احتساب کو کون مانے گا۔ملک میں دوہرا نظام عدل ہے جو قابل قبول نہیں۔

دوسری جانب فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے اپنے متعلق آڈیو کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ ایک اور جعلی آڈیو میرے نام سے مارکیٹ میں پھینک دی گئی ہے، اس آڈیو کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کو جسٹس مظاہر کی مدد کا بھی کبھی نہیں کہا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 16 فروری کو چوہدری پرویز الٰہی کی مبینہ ٹیلی فون کال لیک ہوئی اور اس میں غلام محمود ڈوگر کیس سے متعلق سپریم کورٹ جج کے ساتھ ان کی مبینہ بات چیت منظرعام پر آئی تھی۔ چوہدری پرویز الٰہی کی تین آڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ تین حصوں پر مشتمل آڈیولیکس کے پہلے حصے میں مبینہ طور پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو محمد خان کا کیس مظاہر علی نقوی کی عدالت میں لگوانے کی ہدایت دیتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔ آڈیو میں سابق وزیراعلیٰ ہدایت کر رہے تھے کہ کوشش کرکے کیس مظاہر علی نقوی کی عدالت میں ہی لگوایا جائے۔کیونکہ وہ دبنگ ہیں۔

دوسری آڈیو میں پرویز الٰہی صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری کو یہی ہدایت دے رہے تھے کہ محمد خان کا کیس مظاہر علی نقوی کی عدالت میں لگوایا جائے۔ عابد زبیری نے پوچھا کہ کیا کیس کی فائل تیار ہے تو پرویز الٰہی نے کہاکہ وہ جوجا صاحب سے پوچھیں۔ پرویز الٰہی نے عابد زبیری سے کہا تھا کہ یہ بات کسی کو بتانی نہیں ہے۔ جس پر عابد زبیری نے کہا کہ میں سمجھ گیا۔ عابد زبیری نے پرویزالٰہی کو یاد دلایا کہ مظاہر علی نقوی کی عدالت میں سی سی پی او غلام محمد ڈوگر کا کیس بھی لگا ہوا ہے۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ میں بات کرتا ہوں۔جبکہ تیسری آڈیو میں پرویز الٰہی اورجج مظاہرعلی نقوی کی مبینہ گفتگو تھی۔ پرویز الٰہی نےان سے پوچھا کہ کیا محمد خان آپ کے پاس ہے جس پر مظاہر علی نقوی نےکہا کہ جی میرے پاس ہے۔ پرویز الٰہی نے کہاکہ میں آرہا ہوں بغیر کسی پروٹوکول کے۔ مظاہر نقوی نے کہا کہ آنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن پرویز الٰہی نے کہاکہ میں قریب پہنچ چکا ہوں بس سلام کرکے چلاجاؤں گا۔

آڈیو لیک ہونے کے بعد جہاں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف پاکستان بار کونسل نے ریفرنس جمع کرانے کا اعلان کر رکھا ہے وہیں ایڈووکیٹ میاں داود کی جانب سے جسٹس مظاہر نقوی کے آمدن سے زائد اثاثوں بارے ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرایا جا چکا ہے جس میں جسٹس مظاہر نقوی کے تین ارب روپے سے زائد پلاٹس، گھروں اور پلازے بارے تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ن لیگ نے نہ صرف جسٹس مظاہر نقوی کو ہدف تنقید بنا رکھا ہے بلکہ اتحادی جماعتوں نے جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن کو 9 رکنی بنچ سے ہٹانے کی استدعا بھی کر دی ہے۔

جیل بھرو تحریک میں گرفتار رہنمائوں، کارکنوں کی رہائی کا حکم

Back to top button