ایف بی آر کا ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم مزید صنعتوں تک بڑھانے کا فیصلہ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چینی، سگریٹ، کھاد اور سیمنٹ کی صنعت میں کامیابی کے بعد ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم (ٹی ٹی ایس) کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت اب اسٹیل، فارماسیوٹیکل، مصالحہ جات، بسکٹ اور دیگر پیک شدہ مصنوعات کی صنعتوں کو بھی اس نظام میں شامل کیا جائے گا۔
ایف بی آر ذرائع کے مطابق ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے تحت منفرد شناختی نشانات کے استعمال سے اربوں روپے کی ٹیکس چوری روکنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
ریگولیٹری ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس چوری، غیر قانونی اشیاء کی خرید و فروخت اور مصنوعات کی اصل پیداوار کے درست اعداد و شمار کی نشاندہی کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے قوانین پر مؤثر عملدرآمد ممکن ہوا ہے۔ حالیہ عرصے میں غیر قانونی تمباکو، چینی اور دیگر مصنوعات کے خلاف کارروائیوں میں بھی خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی گئیں۔
ماہرین کے مطابق متعدد شوگر ملوں کی پیداواری یونٹس کو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مہر نہ لگانے پر سیل کیا گیا، جبکہ ملک بھر میں کروڑوں روپے مالیت کے ایسے غیر قانونی سگریٹ ضبط کیے گئے جن پر ٹریک اینڈ ٹریس کی مہر موجود نہیں تھی۔
ریگولیٹری نظام سے وابستہ ماہرین کے مطابق ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اب ایک ملک گیر الیکٹرانک مانیٹرنگ فریم ورک کی صورت اختیار کر چکا ہے، جو پیداواری مرحلے پر محفوظ، سلسلہ وار اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ منفرد شناختی نشانات کی تنصیب کے ذریعے حقیقی وقت میں پیداوار کی نگرانی کو ممکن بناتا ہے۔
یہ شناختی نشانات عملدرآمد کرانے والے اداروں کو پوری سپلائی چین میں، فیکٹری سے لے کر ریٹیل سطح تک، مصنوعات کی نگرانی کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جس سے قوانین کی پاسداری، دستاویزی عمل اور آڈٹ نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اربوں روپے کی ٹیکس چوری کی روک تھام ممکن ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب مصنوعات قابلِ سراغ ہو جائیں تو ٹیکس وصولی میں بہتری آتی ہے، مارکیٹ میں شفافیت قائم ہوتی ہے اور قومی محصولات کا ضیاع منظم انداز میں کم کیا جا سکتا ہے۔
