یکم مارچ سے پٹرول کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ

عمران خان کی بے حس عوام دشمن حکومت نے دو ہفتوں میں دو مرتبہ بجلی مہنگی کرنے اور 15 فروری کو ایک پیٹرول بم گرانے کے بعد اب یکم مارچ کو دوبارہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دے دیا ہے جس سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے عوام کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے 15 فروری کو پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد اس کی قیمت پاکستانی تاریخ کی بلند ترین سطح پر آ چکی ہے۔ کپتان حکومت ہر پندرہ روز بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیے چلے جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی سے متوسط طبقے کے علاعہ اب مڈل کلاس کا جینا بھی دوبھر ہو چکا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق محض 13 دن کے وقفے سے یکم مارچ کو پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا جو ملک کے ہر طبقے کو بری طرح متاثر کرے گا۔ ایسے میں مہنگائی کے ستائے عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر تنقید کرنے والا کپتان اب خود کس منہ سے ہر دو ہفتوں بعد پٹرول مہنگا کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا نے کرنسی کی قدر میں کمی اور تیل کی عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو بنیاد بناتے ہوئے یکم مارچ کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک اور اضافے کا عندیہ دیا ہے۔
روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 23 پیسے کا اضافہ
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے سامنے بیان دیتے ہوئے اوگرا کے چیئرمین مسرور خان نے کہا کہ صورتحال واضح ہے کیونکہ گزشتہ 12 ہفتوں میں تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ مسرور خان نے کہا کہ ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بھی تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت 14 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے جبکہ جنرل سیلز ٹیکس صفر ہے۔ چیئرمین اوگرا کا کہنا تھا کہ خزانے میں آنے والی رقم پر اثر پڑ رہا ہے، وہ کمیٹی چیئرمین کے اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ روس اور یوکرین کی صورتحال کا پاکستان میں پیٹرولیم کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے آپ جواب کا اندازہ لگا سکتے ہیں، جیسے جیسے بین الاقوامی قیمتیں بڑھیں گی، انکا بوجھ عوام پر منتقل کرنا پڑے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی شرح میں بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طریقوں سے اضافہ ہوتا ہے۔ ملک میں جنوری کے مہینے کے اختتام تک مہنگائی کی شرح 12.9 فیصد تھی اور اگر مہنگائی کو جانچنے والے نظام کو دیکھا جائے تو اس میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کا حصہ تقریباً چھ فیصد کے قریب ہے۔ اسی طرح موٹر فیول کا اس میں حصہ تقریباً تین فیصد تک ہے۔
ماہرین کے مطابق کہ اگر بیرونی منڈی میں ایک بیرل میں پانچ ڈالر کا اضافہ ہو تو اس کا براہ راست اثر ملک میں 27 بیسز پوانٹنس کی صورت میں ہوتا ہے یعنی مہنگائی کی شرح 0.27 فیصد بڑھتی ہے جو کہ براہ راست اثر ہے۔ اس کے علاوہ اس کا اثر ان ڈائریکٹ طریقے سے بھی ہوتا ہے کیونکہ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں اور اجناس اور دوسری اشیائے خوردونوش کا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے جس کا بوجھ صارفین کو سہنا پڑتا ہے۔
