وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب ،27ویں آئینی ترمیم میں اضافی ترامیم شامل کرنے کی تیاری

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس آج کسی بھی وقت بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال زیر غور آئے گی اور اس کے تناظر میں اہم فیصلے کیے جانے کے علاوہ 27ویں آئینی ترمیم میں اضافی ترامیم متوقع ہیں۔

ذرائع کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں ملک کی سیکیورٹی کے حوالے سے اہم فیصلوں کے ساتھ دیگر اہم اقدامات کی منظوری بھی دی جا سکتی ہے، تاہم کابینہ ارکان کو اجلاس کے ایجنڈے سے ابھی باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں اضافی ترامیم قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی، جس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ترامیم شامل ہوں گی، اور قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد یہ بل دوبارہ سینیٹ کو بھیجا جائے گا۔ سینیٹ کا اجلاس آج شام 5 بجے بلایا گیا ہے۔

دوسری جانب، اپوزیشن نے بھی بل کے خلاف 11 ترامیم پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو اعلی عدالتی ڈھانچے میں تبدیلی اور صدر کے استثنیٰ کے معاملے پر مرکوز ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے۔ حالیہ عرصے میں افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کی وارداتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے بعد جھڑپیں بھی ہوئیں، جس میں دونوں طرف جانی نقصان ہوا۔ پاکستان نے کابل میں فضائی حملے کر کے ہائی ویلیو ٹارگٹس کو نشانہ بنایا، لیکن باضابطہ طور پر اس حملے کا اعتراف نہیں کیا گیا۔

دوحہ میں مذاکرات کے بعد ایک جنگ بندی معاہدہ طے پایا، تاہم پاکستان نے اگلے مرحلے میں افغان طالبان سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا، جس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ بعد ازاں استنبول میں بھی مذاکرات ہوئے لیکن بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان طالبان پر پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث گروپوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر سخت تنقید کی۔

Back to top button