وفاقی آئینی عدالت : محمود اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری چیلنج

 

 

 

وفاقی آئینی عدالت میں محمود خان اچکزئی کی قومی اسمبلی میں بطور قائد حزب اختلاف تقرری کو چیلنج کر دیا گیا۔

اکبر ایس بابر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیاگیا ہےکہ محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیاجائے اور کیس کے حتمی فیصلے تک مذکورہ نوٹیفکیشن کو معطل کیا جائے۔

درخواست گزار اکبر ایس بابر کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کو یہ جانچنا چاہیے تھاکہ اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی آزادانہ اور شفاف طریقے سے عمل میں آئی یا نہیں۔ درخواست میں مؤقف اپنایاگیا ہےکہ تقرری کے عمل میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کےبعد مناسب حکم جاری کیا جائے۔

اکبر ایس بابر نے مؤقف اختیار کیا ہےکہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن ہیں اور گزشتہ چار دہائیوں سے آئین کی بالادستی کےلیے کوشاں ہیں۔سپیکر قومی اسمبلی رول 39(3) کے تحت ارکان کے دستخطوں کی آزادانہ تصدیق کرنے میں ناکام رہے۔

مؤقف اختیار کیاگیا ہےکہ ریکارڈ پر کوئی ثبوت موجود نہیں کہ آزاد ارکان نے عامر ڈوگر کو اپنی نمائندگی کا کوئی باقاعدہ اختیار دیا ہو۔یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہےکہ کیا کوئی سزا یافتہ اور نااہل شخص جیل سے بیٹھ کر پارلیمانی عمل کو کنٹرول کرسکتا ہے؟

درخواست میں مؤقف اپنایاگیا ہےکہ قائد حزب اختلاف کا عہدہ جوڈیشل کمیشن اور الیکشن کمیشن کی اہم تقرریوں میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے،لہٰذا دستخطوں کی تصدیق کےبغیر جاری کردہ نوٹی فکیشن محض غلطی نہیں بلکہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔

پی ٹی آئی ارکان پارلیمنٹ کا سپریم کورٹ کے باہر احتجاج

آئینی عدالت سے استدعا کی گئی ہےکہ معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کرکے آئینی تقاضوں کے مطابق فیصلہ صادر کیا جائے۔

 

 

Back to top button