وفاق کا گنڈاپور کو کاؤنٹر کرنے کیلئے پرویز خٹک کو آگے لانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں بے لگام گنڈاپور سرکار کو سیاسی لگام ڈالنے کیلئے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کو سیاسی مار مارنے کیلئے عمران خان کے سابق دست راست اور وزیر دفاع پرویز خٹک کو سامنے لانے کے بارے میں مشاورت جاری ہے اس حوالے سے پرویز خٹک کی مختلف حکومتی ذمہ داران سے ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ پرویز خٹک کو پی ٹی آئی کے باغی رہنماؤں کو اپنےساتھ ملانے کا ٹاسک دیا گیا ہے تاکہ سیاسی طور پر گنڈاپور سرکار کو قابو کیا جا سکے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرینز کے بانی پرویز خٹک آٹھ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد سے ملک کے سیاسی منظر نامے سے تقریباً غائب رہے، جس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کی جماعت کو خیبر پختونخوا میں بری طرح شکست ہوئی اور وہ خود بھی کسی نسشت پر کامیاب نہیں ہوئے۔
یاد رہے کہ پرویز خٹک پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما رہ چکے ہیں۔ اس جماعت نے 2013 میں انہیں خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ بھی بنایا جبکہ وہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد مرکز میں وزیر دفاع کی ذمہ داریاں بھی ادا کر چکے ہیں۔لیکن پھر نہ صرف انہوں نے پی ٹی آئی کو خیرباد کہہ دیا بلکہ جولائی 2023 میں پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرینز کے نام سے ایک نئی جماعت کی بنیاد بھی ڈالی، تاہم جب ان کی جماعت کو صوبے میں کہیں سے بھی کوئی نشست نہ ملی تو عملی طور پر ان کی جماعت غیر موثر ہو گئی۔
اب جبکہ خیبرپختونخوا میں علی امین گنڈا پور کی وزارت اعلیٰ میں پی ٹی آئی کی حکومت مرکز کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے، بظاہر انہی حالات کے پیش نظر وفاقی حکومت کی طرف سے پرویز خٹک سے رابطہ کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو پرویز خٹک سے ملاقات کی اور ایک بیان کے مطابق دونوں نے ’باہمی دلچسپی کے امور، ملک کی مجموعی صورت حال اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا۔‘وزیر داخلہ محسن نقوی نے پرویز خٹک سے ملاقات میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کے قیام سے متعلق اقدامات پر بھی گفتگو کی۔
تحریک انصاف کی حکومت سے مذاکرات کی خواہش آگے کیوں نہیں بڑھے گی؟
وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق: دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی ترقی میں رکاوٹیں ڈالنے والے عناصر کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔بیان کے مطابق پرویز خٹک نے اسلام آباد میں احتجاج کے دوران شر پسندوں کے حملے میں پولیس و رینجرز اہلکاروں کی موت‘ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ’پاکستان ہم سب کا ہے اور سب نے مل کر اسے آگے لے کر جانا ہے۔۔۔عوام صرف اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیر داخلہ کی پرویز خٹک سے ملاقات کا اصل مقصد کیا تھا اور پرویز خٹک خیبر پختونخوا میں امن و امان میں بہتری یا سیاسی استحکام میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں، مبصرین کے مطابق اس حوالے سے فی الوقت کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن ایک ایسے وقت میں جب حکومت پاکستان تحریک انصاف سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف ہے، وفاقی وزیر داخلہ کی پرویز خٹک سے ملاقات معنی خیز ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پرویز خٹک جو صوبے میں تحریک انصاف کے انتظامی ڈھانچے سے بخوبی آگاہ ہیں، اگر حکومت انہیں کوئی ذمہ داری سونپتی ہے تو وہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو ’ٹف ٹائم‘ دے سکتے ہیں۔
تاہم مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ فوری طور یہ واضح نہیں کہ حکومت کی پرویز خٹک سے کیا توقعات ہیں اور کیا وہ ان پر پورا بھی اتر سکتے ہیں یا نہیں، کیونکہ عام انتخابات سے قبل انہوں نے نئی سیاسی جماعت کی بنیاد ڈالتے وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ صوبے میں انہیں عوامی حمایت حاصل ہے اور ان کی پارٹی خاطر خواہ کامیابی حاصل کرے گی تاہم انھیں الیکشن میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا حتی کہ وہ اپنی سیٹ نکالنے میں بھی ناکام رہے۔ ایسے میں اب حکومت اس ہارے ہوئے گھوڑے پر داو لگا کر کیا حاصل کرنا چاہتی ہے اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اور بوقت ضرورت کسی بھی سیاست دان کو کوئی بھی جماعت مدد کے لیے پکار سکتی ہے اور اس بار حکومت کی یہ پکار پرویز خٹک کے لیے ہے ۔
