انسانی سمگلنگ نیٹ ورک توڑنے کیلئے FIA کے 100 اہلکار برطرف

یونان کشتی حادثے میں 400 سے زائد پاکستانی نوجوانوں کی موت کے بعد ایف آئی اے میں جاری خود احتسابی کے عمل کے تحت 100سے زائد افسران اور اہلکار برطرف ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایف آئی اے میں جاری سخت انضباطی کارروائیوں کے باوجود تاحال کئی کالی بھیڑیں ادارے میں موجود ہیں اور بدستور انسانی سمگلرز کی سہولتکاری کر رہی ہیں تاہم اب ایف آئی اے حکام نے ایسے فرض فراموش افسران کیخلاف مزید شکنجہ کسنے اور انھیں نشان عبرت بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آنے والے چند ہفتوں میں وفاقی تحقیقاتی ادارے میں گرینڈ کلین اپ آپریشن ہونے جا رہا ہے جس کے تحت ناصرف کرپٹ افسران اور اہلکاروں کی برطرفیاں عمل میں لائی جائیں گی بلکہ انھیں گرفتار کر کے دوسروں کیلئے مثال بھی بنایا جائے گا۔
ناقدین کے مطابق یونان کشتی حادثے کے بعد ایف آئی اے میں جاری محکمانہ احتسابی کارروائی نے ادارے کی اندرونی کمزوریوں اور غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق یونان کشتی حادثے کے حوالے سے ڈھائی برس سے جاری انکوائریوں اور تحقیقاتی کمیٹیوں کی رپورٹس پر اب تک کئی ڈپٹی ڈائریکٹرز سمیت 100 سے زائد ماتحت افسران کو بھی برطرف کیا جاچکا ہے۔ جس میں کانسٹیبلز، ہیڈ کانسٹیبلز ، اے ایس آئیز اور سب انسپکٹر سطح کے افسران اور اہلکار شامل ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق احتساب کے اس عمل کو انجام تک پہنچنے میں ڈھائی برس کا طویل عرصہ لگ گیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بھی وفاقی تحقیقاتی ادارے میں موجود سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کے عمل کو تیز اور شفاف بنانے کے بہت سے اقدامات ناگزیز ہیں۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث لاہور، کراچی ، فیصل آباد اور ملتان ایئر پورٹس پر تعینات متعدد افسران اور اہلکاروں کی برطرفیاں صرف افسران کی پیشہ ورانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہی نہیں بلکہ ادارے کے عمومی نظم ونسق کی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کرتی ہیں۔
ابا جی کی خواہش پوری کرنے پر مریم نواز تنقید کی زد میں
خیال رہے کہ ایف آئی اے میں یہ ادارہ جاتی احتسابی کارروائیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب وفاقی تحقیقاتی اداے کے اندرونی نظام اور عملی طور پر افسران کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یونان کشتی حادثہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایک بڑی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ دیکھا جائے تو یونان کشتی حادثہ اور اس کے بعد کی برطرفیاں صرف افسران کی انفرادی غفلت کا نتیجہ نہیں ۔ بلکہ ایک بڑے نظامی خلا کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ کراچی، فیصل آباد اور ملتان کے ایئر پورٹس پر تعینات افسران کی ناقص نگرانی اور انسانی سمگلرز کی سہولتکاری سے ادارے کی داخلی کمزوریوں کا پردہ فاش ہوگیا ہے۔ ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی نقل وحرکت نہ صرف قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔ بلکہ ملک کی بین الاقوامی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ایسے معاملات میں ناکامی کی صورت میں نہ صرف قانونی طریقے سے اصل دستاویزات کے ساتھ سفر کرنے والے معصوم شہری متاثر ہوتے ہیں۔ بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات میں بھی رکاوٹ آتی ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے کی جانے والی یہ برطرفیاں اور سزائیں ایک واضح پیغام ہیں کہ ادارے میں غفلت اور ناقص تفتیش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
