فیض حمید کیخلاف الزامات ثابت کرنے میں FIA کا مرکزی کردار

 

 

 

سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو جن الزامات پر 14 برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی، اُن کی تحقیقات میں وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے انتہائی اہم اور بنیادی کردار ادا کیا۔ مالیاتی تضادات، خفیہ کاروباری شراکت داریوں، اراضی کی خریداری اور حساس نوعیت کی سرگرمیوں بارے شواہد سب سے پہلے ایف آئی اے نے جمع کیے، جن کی بنیاد پر یہ معاملہ فوجی حکام تک پہنچا اور بالآخر باضابطہ کورٹ مارشل میں تبدیل ہوا۔ ایف آئی اے کی فراہم کردہ یہی فائلیں بعد ازاں اس سنگین کیس کا مرکزی حوالہ بن گئیں جس میں فیض حمید کو 14 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔

 

یاد رہے کہ فوجی ترجمان نے اپنے اعلامیہ میں بتایا کہ فیض کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی 15 ماہ تک جاری رہی، جس میں یہ ثابت ہوا کہ سابق آئی ایس آئی چیف نے دورانِ ملازمت سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیا، حساس معلومات سے متعلق آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی بارہا خلاف ورزی کی، اور سرکاری اختیارات و وسائل کا ذاتی و غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران انہیں قانونی دفاع، وکیلوں کی ٹیم کے انتخاب اور مکمل صفائی کا پورا حق دیا گیا تھا لیکن وہ اپنا دفاع کرنے میں ناکام رہے ۔

 

ذرائع کے مطابق انکوائری اس وقت سنگین رخ اختیار کر گئی جب ایف آئی اے کے اعلیٰ سطحی ذرائع نے ابتدائی طور پر یہ انکشاف کیا کہ سابق جنرل کے سیاسی معاملات میں غیر معمولی مداخلت، مقدمات پر اثر انداز ہونے کی کوششوں، مالی بے ضابطگیوں اور دیگر مشکوک سرگرمیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ایف آئی اے کی مالیاتی جرائم کی یونٹ نے فیض کے خلاف خاموشی سے ابتدائی انکوائری کا آغاز کیا تھا۔ اس دوران ریکارڈ شدہ مراسلے، سرکاری افسران کے بیانات اور سابق بیوروکریٹس کے انکشاف سامنے آئے جن سے واضح ہوا کہ فیض حمید نے اپنے منصب کی حساسیت بھلا کر سیاسی انجینئرنگ میں بھرپور کردار ادا کیا۔

 

ذرائع کے مطابق فیض حمید بارے ایف آئی اے کی رپورٹ میں مالیاتی اثاثوں کی ملکیت، خفیہ کاروباری شراکت داری اور زمینوں کی خریداری کے ریکارڈ میں سنگین تضادات سامنے آئے، جن کی فیض مناسب وضاحت دینے میں ناکام رہے۔ مکمل رپورٹ فوجی حکام کو ارسال کر دی گئی جس کی بنیاد پر آرمی ایکٹ کے تحت ان کے خلاف باقاعدہ کارروائی کا فیصلہ ہوا۔ یہی رپورٹ بعد میں جنرل فیض حمید کی گرفتاری اور فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی کا سبب بنی۔

 

یہ کارروائی 2024ء میں اس وقت آگے بڑھی جب انہیں راولپنڈی میں ایک اہم ملاقات کے دوران حراست میں لیا گیا۔ معاملہ اُس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب 12 اگست 2024ء کو سپریم کورٹ کے حکم پر ٹاپ سٹی انکوائری کے آغاز کے بعد فیض حمید کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے اگلے روز عمران خان نے عدالت پیشی کے موقع پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں فوجی عدالت لے جانے اور وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے، تاہم آئی ایس پی آر نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی اور واضح کیا کہ کارروائی صرف عدالت عظمیٰ کے فیصلے اور آرمی ایکٹ کی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر شروع کی گئی ہے۔ اس کے بعد عمران خان نے بھی فیض حمید کے حوالے سے خاموشی اختیار کر لی تھی جس کا انہیں شدید رنج ہے۔

9 مئی کے حملے : فیض حمید اور عمران کے ٹرائل کا امکان

تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے سابق لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کو تمام الزامات میں قصور وار قرار دیتے ہوئے 14 برس قید بامشقت کی سزا سنائی، جس کا اطلاق 11 دسمبر 2025 سے ہوگا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان کے بعض سیاسی عناصر کے ساتھ روابط، ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں اور دیگر سرگرمیوں کے پہلو اب بھی الگ سے زیرِ تحقیقات ہیں۔

 

مختصر یہ کہ ایف آئی اے کی فراہم کردہ معلومات اس پورے کیس کی بنیاد ثابت ہوئیں اور انہی کی روشنی میں یہ معاملہ تاریخ کے اہم ترین کورٹ مارشل تک جا پہنچا۔

Back to top button