آخر کار قاضی فائز عیسیٰ کا عہدے میں توسیع پر رضامندی کا اظہار

لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورت حال میں اب ایک مرتبہ پھر ان افواہوں نے زور پکڑ لیا ہے کہ وفاقی حکومت ججز کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے جا رہی ہے اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی اپنے عہدے پر مزید کچھ برس براجمان رہنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ ان افواہوں نے تب زور پکڑا جب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سیکریٹری ڈاکٹر محمد مشتاق احمد نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی مدت ملازمت میں توسیع بارے چیف جسٹس کی آف دی ریکارڈ گفتگو کی غلط تشریح کی گئی اور اسے بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا۔
یاد رہے کہ 9 ستمبر کو نئے عدالتی سال کے موقع پر چیف جسٹس کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میڈیا میں رپورٹ ہوئی تھی اور فائز عیسیٰ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ انہوں نے توسیع لینے سے انکار کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس نے کہا تھا کہ باقی تمام ججوں کی مدت ملازمت میں توسیع دے بھی جائے تب بھی وہ توسیع قبول نہیں کریں گے۔
6 گھنٹے غائب رہنے والے گنڈاپور کو گنجا کرنے کی دھمکی دی گئی؟
چیف جسٹس کی اس گفتگو کے بعد یہ تاثر عام تھا کہ اب جسٹس منصور علی شاہ کے لیے چیف جسٹس بننے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے اور وہ اکتوبر کے وسط میں فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس منصب پر فائز ہو جائیں گے۔ لیکن اب فائز عیسیٰ کے سیکرٹری کے وضاحتی بیان نے صورت حال تبدیل کر کے رکھ دی ہے اور ججز کی توسیع کا معاملہ دوبارہ زیر بحث آ گیا ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کے سیکریٹری ڈاکٹر محمد مشتاق کی جانب سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا یے کہ نو ستمبر کو عدالتی سال کا آغاز تھا اور اٹارنی جنرل، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کو خطاب اور اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے مدعو کیا گیا جو انہوں نے کیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے سب سے آخر میں بات کی تھی۔‘ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کارروائی کے اختتام پر شرکا کو چائے پر مدعو کیا گیا جس دوران کچھ صحافی چیف جسٹس کے گرد جمع ہوئے، ان سے بات کی اور ان سے سوالات کیے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ وہ ان سے آف دی ریکارڈ بات کر رہے ہیں لیکن چونکہ گفتگو کی غلط تشریح کی گئی ہے اور اسے بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جو ہوا اسے درست طریقے سے پیش کیا جائے۔‘ بیان کے مطابق قاضی فائز عیسیٰ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر باقی تمام ججز کی مدت ملازمت میں بھی توسیع کر دی جائے تب بھی وہ توسیع قبول نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس کے سیکرٹری کا کہنا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ نے ایسی بات نہیں کی تھی۔
چیف جسٹس کے سیکرٹری کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق: ’فائز عیسیٰ سے ان کی مدت ملازمت میں توسیع بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ کئی ماہ قبل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ان کے چیمبر میں ان کے پاس آئے تھے اور کہا تھا کہ حکومت چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت ملازمت کو تین سال کی مدت تک بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔
چیف جسٹس نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے وزیر قانون سے کہا کہ اگر تجویز انفرادی ہے اور اگر نافذ کی گئی تو وہ قبول نہیں کریں گے۔ اس میٹنگ میں جسٹس منصور علی شاہ اور اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔ وزیر قانون نے پارلیمانی کمیٹی کے کردار کا بھی ذکر کیا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں کمی آئی ہے، اس لیے اسے اور جوڈیشل کمیشن کو ایک باڈی میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے جواب دیا کہ یہ سب پارلیمنٹ کا استحقاق ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ حکومت کی مخالفت کرنے والوں کو اس عمل سے خارج نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد وزیر قانون نے چیف جسٹس سے کوئی نجی ملاقات نہیں کی اور نہ ہی چیف جسٹس سے ایسے کسی معاملے پر کوئی بات چیت کی۔ اعلامیے کے مطابق صحافیوں نے چیف جسٹس سے ججوں کی تعداد میں اضافے کی تجویز کے حوالے سے بھی سوالات کیے گئے، جس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’پہلے خالی آسامیوں کو پُر کیا جائے تو بہتر ہے۔‘ لیکن ’یہ افسوس ناک ہے کہ ایک آف دی ریکارڈ گفتگو غیرضروری اور غلط طریقے سے نشر اور شائع کی گئی، جس سے سنسنی پیدا ہوئی۔‘ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ غلط خبر سے چند افراد کو غیر ضروری توجہ اور اہمیت ملی اور اداروں کی اہمیت کم ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائض عیسیٰ کے سیکرٹری کی جانب سے جاری بیان سے صاف ظاہر ہے کہ وہ توسیع لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اگر پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت حاصل کر کے اس پوزیشن میں آ جائے کہ ان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ججز کی معیاد میں اضافہ کر دے تو وہ بھی اس سے فیض یاب ہونا چاہیں گے۔
