بالآخر فوجی ترجمان کی فیلڈ مارشل کو صدر بنانے کی تردید

بالآخر پاکستانی فوجی ترجمان نے سرکاری طور پر ان افواہوں کی سختی سے تردید کر دی ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر آصف علی زرداری کی جگہ صدر مملکت بننا چاہتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے برطانوی جریدے اکانومسٹ سے انٹرویو میں کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے صدر بننے کے حوالے سے تمام خبریں بے بنیاد ہیں اور ایسی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ یاد رہے کہ جیو نیوز کے سینیئر صحافی اعزاز سید نے دعوی کیا تھا کہ ایک مجوزہ آئینی ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو صدر مملکت کے عہدے پر فائز کرنے کی تجویز زیر غور ہے اور اس حوالے سے تیار کردہ دستاویزات انہوں نے خود اپنی انکھوں سے دیکھی ہیں۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا موقف تھا کہ سینیئر صحافی کو کسی نے ماموں بنا کر ایسی خبر چلوا دی ہے جو کامن سینس اور لاجک کے خلاف ہے۔

صدر آصف زرداری کے قریبی خیال کیے جانے والے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس خبر کی دو مرتبہ سختی سے تردید کی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ جھوٹ ایک سازش کے تحت پھیلایا جا رہا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کون ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ سازش کون رچا رہا ہے۔ وزیر داخلہ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے بھی صدر آصف زرداری سے استعفیٰ لینے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نیا صدر بنانے کی افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں اور انکا مقصد صرف کنفیوژن پھیلانا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کنفیوژن کون سے سازشی عناصر پھیلا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کبھی صدر بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور خود انکی تکون کے درمیان تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں اور ان کا مشترکہ ایجنڈا پاکستان اور اسکے عوام کی خوش حالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے بنیاد افواہوں کا مقصد ملک کی ترقی اور خوشحالی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔

تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ فوجی ترجمان نے باقاعدہ اس افواہ کی تردید کی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید گفتگو تو نہیں کی لیکن عسکری ذرائع کا کہنا کہ نہ تو کسی سطح پر ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے اور نہ ہی آئین اسکی اجازت دیتا یے۔ حکومتی ذرائع کا بھی کہنا ہے آئین میں ترمیم کے بغیر ایسا ممکن ہی نہیں کہ فیلڈ مارشل کو صدر کے عہدے پر تعینات کیا جا سکے اور کوئی بھی آئینی ترمیم پیپلز پارٹی کی مدد کے بغیر منظور کروانا ممکن ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی ماضی پر نظر دوڑائیں تو فیلڈ مارشل اور صدر کے عہدے بیک وقت اپنے پاس رکھنے والے جنرل ایوب خان تاریخ میں ایک ولن قرار پائے تھے کیونکہ ایسا کرنے کے لیے انہوں نے کھلی آئین شکنی کی تھی۔ لہذا ایسی بے بنیاد افواہوں پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ملک ریاض پاکستان میں بحریہ ٹاؤن کے آپریشنز بند کرنے کو تیار

یاد رہے مفاہمت کے بادشاہ اور سیاسی جادوگر کہلانے والے آصف علی زرداری وہ پہلے سیاست دان ہیں جو دو مرتبہ صدارت کے عہدے پر منتخب ہوئے ہیں۔ زرداری پاکستانی سیاست میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ 2008ء میں جب وہ پہلی بار صدرِ بنے تو انہوں نے اسمبلیاں توڑنے کے صدارتی اختیار کی آئینی شق 58 ٹو بی سمیت کئی متنازع ترامیم ختم کر کے 197 کے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا اور تھا پارلیمنٹ کو اس کے اختیارات واپس کر دیے تھے تاکہ اسے مضبوط بنایا جا سکے۔

آصف زرداری چھوٹے صوبوں میں بھی اس لیے مقبول ہیں کہ انہوں نے صوبائی خود مختاری کے دیرینہ نعرے کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے عملی جامہ پہنایا اور این ایف سی ایوارڈ میں تمام صوبوں کو مناسب حصہ دیا۔ پشتون عوام دہاہیوں سے اپنی اصل شناخت کا جو خواب دیکھ رہے تھے، اس کی تکمیل بھی آصف زرداری نے صوبہ سرحد کا نام بدل کر کی۔ اس کے بعد آصف زرداری نے 2018 میں تمام جمہوری قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی جس نے اپریل 2022 میں ملکی تاریخ میں پہلی بار دھاندلی سے وزیراعظم بنائے جانے والے عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجا۔ آج بھی اگر مرکز میں ایک اتحادی حکومت کامیابی سے چل رہی ہے اور ملکی معیشت بہتری کے سفر پر گامزن ہے تو اس کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ آصف علی زرداری کا ہے۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جانا ہوگا کہ زرداری موجودہ سیاسی نظام کے لیے ریڑھ کے ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور انکے بغیر یہ سسٹم دھڑام سے نیچے آن گرے گا۔

Back to top button