وزیر خزانہ اور امریکی ناظم الامور کی ملاقات، دوطرفہ اقتصادی تعاون پر زور

پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور اور قائم مقام سفیر الزبتھ ہورسٹ نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی، جس میں دو طرفہ اقتصادی تعاون، اصلاحات اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وزارت خزانہ کے مطابق الزبتھ ہورسٹ نے پاکستان کی اقتصادی ترقی، میکرو اکنامک استحکام اور حکومتی اصلاحاتی حکمتِ عملی کو سراہا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ اپنے اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔
واضح رہے کہ الزبتھ ہورسٹ کو حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں قائم مقام سفیر تعینات کیا ہے۔ وہ ایک سینئر کیریئر ڈپلومیٹ ہیں اور اس سے قبل جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے بیورو میں پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔
ملاقات کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی معاشی ترقی میں امریکا کے کردار کو سراہا، خصوصاً گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران میکرو اکنامک استحکام میں امریکی تعاون کو قابل قدر قرار دیا۔ انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی سیکریٹری آف کامرس ہاورڈ لٹ نک اور تجارتی نمائندے ایمبیسڈر جیمی سن گریر سے حالیہ ملاقاتوں کے مثبت نتائج پر بھی روشنی ڈالی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان امریکا کو سب سے بڑا تجارتی شراکت دار سمجھتا ہے اور خواہاں ہے کہ تعاون روایتی شعبوں سے آگے بڑھتے ہوئے آئی ٹی، معدنیات اور زراعت جیسے شعبوں تک پھیلے، جہاں باہمی مفادات کے کئی مواقع موجود ہیں۔
محمد اورنگزیب نے موجودہ میکرو اکنامک اشاریوں، بہتر ہوتی کریڈٹ ریٹنگ، اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا ذکر کیا۔ انہوں نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے خصوصاً ٹیکس اور توانائی کے شعبوں میں جاری اقدامات پر بھی تفصیلات فراہم کیں۔
پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا کہ وزیر خزانہ نے مشرق وسطیٰ کی کیپٹل مارکیٹس میں پاکستان کی کامیاب شمولیت، پانڈا بانڈ کے متوقع اجرا، اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کی آئندہ حکمت عملی سے بھی امریکی سفارتکار کو آگاہ کیا۔
الزبتھ ہورسٹ نے پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام کی حمایت کا اعادہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان پائیدار اور وسیع تر کاروباری شراکت داری کی امید ظاہر کی۔
