ریحام خان کو ساری رات تھانے میں کیوں گزارنا پڑی؟

وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے گذشتہ شب اسلام آباد میں اپنی گاڑی پر فائرنگ کے بعد چھینے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے نئے پاکستان کو بزدل اور ٹھگ حکمرانوں کی ریاست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے مرنے یا زخمی ہونے سے ڈر نہیں لگتا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ پاکستان میں انصاف کا حصول ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ انہیں اس حملے کی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے ساری رات تھانے میں گزارنا پڑی اور الٹا ان سے الٹے سیدھے سوالات کیے گئے۔
ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے اپنے سلسلہ وار پیغامات میں ریحام خان نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ایک قریبی عزیز کی شادی سے واپسی پر ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی اور موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے اسلحے کے زور پر گاڑی روکی۔ انہوں نے سوال کیا: ’کیا یہ ہے عمران خان کا نیا پاکستان؟ بزدلوں، ٹھگوں اور لالچیوں کی ریاست میں خوش آمدید!‘ ریحام خان کی ٹویٹس کے مطابق وہ اسلام آباد کے علاقے شمس کالونی کے تھانے میں موجود تھیں، جہاں انہوں نے ایف آئی آر کے لیے درخواست جمع کروائی۔ریحام خان کی ٹویٹ کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد کی جانب سے ان کی خیریت دریافت کے لیے پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس پر انہوں نے بتایا کہ وہ خیریت سے ہیں۔
4 صوبائی وزرا کی میکڈونلڈ برانچ کا افتتاح کرنے پر دھلائی
جب ریحام خان کے دعوؤں کے حوالے سے ایس ایس پی آپریشن اسلام آباد سید علی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس معاملے پر گفتگو کرنے سے انکار کر دیا۔ دوسری جانب اس واقعے کا مقدمہ ریحام خان کے پرسنل سیکریٹری بلال عظمت کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے۔ ریحام خان کا کہنا ہے کیونکہ پاکستان آنے سے پہلے ہی دھمکیاں ملنی شروع ہوگئی تھی اور یہ کوشش کی گئی تھی کہ وہ اپنے ملک واپس نہ آئیں، تاہم اب جب کہ وہ پاکستان آ چکی ہیں تو انہیں دھمکا کر بھگانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
اسلام آباد میں گاڑی پر فائرنگ اور پھر اس کے چھینے جانے کی ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب 12 بجکر 35 منٹ پر پیش آیا جب دو موٹرسایکل سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکنا چاہا۔ ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مدعی ان افراد کے چہرے نہیں دیکھ سکے تھے کیوںکہ انہوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے۔ ریحام خان کے پرسنل سیکریٹری بلال عظمت نے بتایا کہ دراصل فائرنگ سے کچھ ہی دیر قبل ریحام خان اس گاڑی سے دوسری گاڑی میں منتقل ہوئی تھیں۔ اس کیس میں درخواست گزار بھی اسی لیے ریحام خان کے بجائے بلال عظمت ہیں کیوںکہ اس گاڑی میں وہ موجود تھے۔
