تحریک عدم اعتماد سے پہلے ISI کے غیر سیاسی ہونے کا اعلان

وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد بڑھتے ہوئے سیاسی درجہ حرارت کے دوران ماضی میں سیاسی جوڑ توڑ میں ملوث رہنے والی طاقتور انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے افسران کو سختی سے سیاست سے دور رہنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار اس پیشرفت کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے غیر جانبدار رہنے کی یقین دہانی کے سلسلے کی کڑی قرار دے رہے ہیں۔ کچھ حلقے آئی ایس آئی چیف کی ہدایات کو مریم اورنگزیب کے اس الزام کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں.

جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پشاور میں بیٹھا ایک طاقتور غیر سیاسی شخص اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ مریم نے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام تو نہیں لیا تھا لیکن یہ اشارہ ضرور دیا تھا کہ وہ کور کمانڈر پشاور بن جانے کے باوجود بطور سابق آئی ایس آئی سربراہ اپنا اثر رسوخ عمران خان کے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دور میں انٹر سروسز انٹیلی جنس کھل کر سیاست میں ملوث ہو گئی تھی جس کی بنا پر اس کی ساکھ پر سوالات اٹھنے شروع ہو گے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آخری دنوں میں وزیراعظم اور آرمی چیف کے مابین جو اختلافات پیدا ہوئے ان کی وجہ بھی فیض حمید ہی تھے جو اپنی قریبی حلقوں میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ اگلے آرمی چیف ہوں گے۔

تاہم وزیراعظم عمران خان کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے والے فیض حمید کی جگہ آئی ایس آئی کے نئے سربراہ بننے والے لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے اپنی ایجنسی کو غیر سیاسی بنانے کا عمل شروع کر رکھا ہے جو ایک ناقابل یقین ٹاسک لگتا ہے کیونکہ پچھلی کچھ دہائیوں سے آئی ایس آئی اور سیاست لازم و ملزوم بن چکی ہیں۔ لیکن اگر اب یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آئی ایس آئی کو غیر سیاسی بنایا جا رہا ہے تو عوام کے پاس اس دعوے پر یقین کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں کیونکہ ان کی بھی یہی خواہش ہے۔

تحریک عدم اعتماد 22 کروڑ عوام کی خواہش ہے

اب سینئر صحافی انصار عباسی نے باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے آئی ایس آئی کے تمام افسران پر واضح کر دیا ہے کہ سیاست یا سیاسی معاملات میں کسی طرح کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی آمد کے ساتھ ہی آئی ایس آئی کے سربراہ نے ادارے کے تمام ملازمین کو اپنی سوچ سے آگاہ کر دیا تھا۔

بدقسمتی سے ملک کے دفاع کی پہلی حد سمجھے جانے والا ادارہ آئی ایس آئی ماضی میں تنازعات کا محور رہا ہے کیونکہ اسے سیاسی معاملات میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں اور میڈیا میں اس ایجنسی پر بحث و مباحثہ ہوتا رہا ہے۔ حالانکہ ملک کے دفاع اور سیکورٹی کے معاملات میں اس ادارے کی کارکردگی شاندار ہے لیکن اس کے سیاست میں غیر مجاز کردار نے اس کی شہرت کو داغ دار کر دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ آئی ایس آئی چیف نے عہدہ سنبھالتے ہی فیصلہ کیا ہے کہ ادارے کو سیاست سے دور رکھا جائے گا تاکہ غیر ضروری تنازعات سے بچ کر صرف اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھی جا سکے۔

انصار عباسی کے رابطہ کرنے پر اسٹیبلشمنٹ کا ماؤتھ پیس سمجھے جانے والے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب نے کہا کہ انہیں اس پیشرفت کے حوالے سے براہِ راست علم نہیں ہے لیکن موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی کے پروفائل اور ان کے ماضی کے ریکارڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ سمجھتے ہیں کہ ایسی ہدایات ہی جاری ہونا تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی غیر سیاسی شخصیت ہیں، ماضی میں ایجنسی جن تنازعات کا سامنا کرتی رہی ہے انہیں دیکھتے ہوئے یہ اچھا فیصلہ ہے کہ ادارے کو سیاست سے دور رکھا جائے۔

حالیہ ماضی میں کچھ سیاسی رہنمائوں نے شکایت کی ہے کہ آئی ایس آئی کے کچھ ملازمین سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں ایجنسی کو بار بار استعمال کیا جاتا رہا ہے، زیادہ تر معاملات میں آمروں نے اس ایجنسی کو سیاسی جوڑ توڑ، سیاسی جماعتوں کو توڑنے اور بنانے اور حکومتیں بنانے کے معاملے میں استعمال کیا ہے۔ اسی وجہ سے مستقلاً یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ ایجنسی کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے اور اس کے سیاسی کردار کو ختم کیا جائے۔

حالیہ برسوں میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی اپوزیشن جماعتوں اور ان کے رہنمائوں خصوصا نواز شریف اور مریم نواز نے شکایت کی ہے کہ ایجنسی سیاست میں مداخلت کر رہی ہے۔ چنانچہ بحیثیت ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی کے بعد، لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے تمام متعلقہ حلقوں کو بتا دیا تھا کہ کسی بھی سرکاری اجلاس کے دوران کھینچی گئی اُن کی تصاویر یا بنائی گئی ویڈیو پرنٹ اور الیکٹرانک میں جاری نہ کی جائے۔ اگرچہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی کی سوچ اور ان کے اقدامات ادارے کو غیر ضروری تنازعات میں گھسیٹے جانے سے روک پائیں گے لیکن یہ واضح نہیں کہ مستقبل میں یہی سوچ مستقل رویہ اختیار کرے گی یا نہیں۔

تقریباً تین دہائیوں سے بھی زیادہ پیچھے جائیں تو اُس وقت کی بینظیر بھٹو حکومت کی جانب سے اعلیٰ سطح کا ایک کمیشن ’’ایئر چیف مارشل ذوالفقار خان کمیشن‘‘ تشکیل دیا گیا تھا تاکہ ایجنسیوں کی نگرانی کا ایک میکنزم تشکیل دیا جا سکے لیکن کوئی حکومت اس کمیشن کی سفارشات پر عمل کرانے میں کامیاب نہ ہوسکی۔

نگرانی کے میکنزم کی غیر موجودگی میں ماضی میں یہ ایجنسیاں سیاست میں ملوث رہی ہیں اور حکومتیں اور سیاسی جماعتوں کی جوڑ توڑ میں مصروف رہی ہیں۔ ایئر چیف مارشل ذوالفقار خان کمیشن نے سفارش کی تھی کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں بشمول آئی ایس آئی اور آئی بی کیلئے دو سطحوں (Two-Tier) پر مشتمل ایک نگرانی میکنزم بنایا جائے۔

لیکن اس میکنزم پر عمل نہ ہو سکا۔ کمیشن نے سفارش کی تھی کہ وزیر اعظم کی قیادت میں نیشنل سیکورٹی کونسل تشکیل دی جائے اور جوائنٹ انٹیلی جنس کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنے اپنے قانونی دائرہ کار میں رہ کر کام کر سکیں۔

سیاسی تجزیہ کار اس پیش رفت کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے غیر جانبدار رہنے کی یقین دہانی کے سلسلے کی کڑی قرار دے رہے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا آئی ایس آئی مستقبل میں واقعی غیر سیاسی ہو جاتی ہے یا صرف اپنی سائیڈ بدلتی ہے؟

Back to top button